ٹریفک پولیس فیصل آباد کا صرف ایک اصول: چالان کرو ۔مال کماؤ

فیصل آباد (احمد یٰسین) ٹریفک پولیس فیصل آباد نے شہری کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کی بجائے مال بناؤ سکیم کو اپنا نصب العین بنا لیا۔ ٹریفک وارڈن چوراہوں سے غائب اور ٹریفک کی روانی سے بے نیاز پائے جاتے ہیں اور اندھا دھند چالان کرنے پر کمر بستہ ہیں۔ہر ایک گھنٹے میں ایک سو سے بھی زائد چالان ٹریفک پولیس کی اندھا دھند چالان پالیسی ثبوت بن گئے۔ نیو زلائن کے مطابق ٹریفک پولیس فیصل آباد نے اندھا دھند چالان کرو اور زیادہ سے زیادہ چالان کرکے نوٹ بناؤ سکیم پر عمل شروع کررکھا ہے۔ٹریفک پولیس کی پالیسی کا بھانڈا اس کے اپنے ہی اعدادوشمار نے پھوڑ دیا۔ ٹریفک پولیس فیصل آباد نے ایک ماہ میں 74ہزار451 چالان کرکے 2کروڑ’ 94لاکھ’ روپے کمائے ۔اس دوران فیصل آباد میں روزانہ اڑھائی ہزار کے لگ بھگ چالان کئے گئے اور ٹریفک پولیس کا نشانہ بننے والوں میں اکثریت موٹر سائیکل سوار غریب شہریوں کی تھی۔ بڑی گاڑیوں اور امیرزادوں کو دیکھ کر ٹریفک پولیس کی گھگی بندھ جانے والی کیفیت سامنے آئی۔ کاروں کے چالان بھی ان کے کئے گئے جن میں زیادہ تر بطور ٹیکسی چل رہی ہیں۔ ٹریفک پولیس فیصل آباد میں 24گھنٹے سرگرم نہیں ہوتی تاہم ٹریفک پولیس کے اعدادوشمار ظاہرکرتے ہیں کہ 24گھنٹے ورکنگ کی بھی جارہی ہو تو گزشتہ ماہ میں ہر ایک گھنٹے کے دوران ٹریفک پولیس نے 103چالان کئے ۔ ذرائع کے مطابق ٹریفک پولیس کے اہلکار سڑکوں کنارے چھپ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ٹارگٹڈ چیکنگ کرکے چالان کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ٹریفک پولیس کے اہلکار چوراہوں میں کھڑے ہو کر ٹریفک کی روانی پر توجہ دینے کی بجائے مخصوص ٹائمنگ میں مکصوص مقامات پر ٹارگٹ چیکنگ اور خفیہ مانیٹرنگ جیسی اصلاحات پر عمل پیرا ہیں۔ ٹریفک پولیس کے ”چالان کرو۔ مال بناؤ”اصول نے شہر میں ٹریفک کا بہاؤ بری طرح متاثر کیا ہے اور صرف مال بناؤ سکیم ہی فیصل آباد ٹریفک پولیس کی واحد پہچان بن گئی ہے۔

Related posts