ٹوبہ میں جا معہ زرعیہ کے سب کیمپس کو یونیورسٹی بنانے کا عندیہ


فیصل آباد (نیوز لائن) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سب کیمپس کو جلدہی خود مختار یونیورسٹی بنا دیا جائے گا جس کیلئے چار ارب روپے سے زائد مالیت کے پی سی ون کی مرحلہ وار منظوری اور تکمیل صرف تین برسوں میں یقینی بنائی جائے گی۔یہ باتیں انہوں نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کھیکھہ بنگلہ روڈ پر یونیورسٹی سب کیمپس کے میٹنگ روم میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہیں۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا’ سابق چیئرمین ضلع کونسل اورضلع کی سیاسی و سماجی شخصیت چوہدری محمد اشفاق ‘ میاں کاشف اشفاق’ سب کیمپس کے پرنسپل ڈاکٹر قمر بلال’ ایم پی اے چوہدری سعید احمد سعیدی’ چوہدری علی اسجد بھولہ ‘ میاں محمد طارق پرویز’ میاں امتیاز’ میاں طاہر پرویز’ڈپٹی کمشنر میاں محسن رشید اور اسسٹنٹ کمشنر سمیت ضلع کے انتظامی افسران کی موجودگی میں چوہدری محمد سرور نے کہا کہ یونیورسٹی آف ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام سے خود مختار یونیورسٹی کا قیام ان کا خواب ہے جس کیلئے ابتدائی فنڈنگ موجودہ مالی سال کے دوران ہی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ ہرچندگزشتہ سال 665ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کے مقابلہ میں موجودہ سال کا ترقیاتی بجٹ صرف 230ارب روپے ہے تاہم ان کی کوشش ہوگی کہ مجوزہ یونیورسٹی کیلئے ابتدائی وسائل اسی سال فراہم کر دیئے جائیں۔ انہوں نے زرعی یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ یونیورسٹی آف ٹوبہ ٹیک سنگھ کیلئے پی سی ون تین برسوں تک محدود کیا جائے تاکہ اس کی مرحلہ وارفنڈنگ کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مجوزہ یونیورسٹی سے ملحقہ 237ایکڑ اراضی کی منتقلی کیلئے ریونیوبورڈ سے جلد منظوری کیلئے وہ اپنا کردار ادا کریں گے ۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا نے کہا کہ نئے پاکستان میں اداروں کے سربراہان کی تقرری میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنالیا جائے تو کرپشن کے خاتمے سمیت گڈگورننس جیسے تمام اہداف کامیابی سے حاصل کئے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2005ء میں اس ضلع میں لگایا جانیوالا پودا آج تن آور درخت بن چکا ہے جس کیلئے ضلع کی سیاسی قیادت کا مثالی کردار لائق تحسین ہے اور وہ چاہیں گے کہ دوسرے اضلاع کی پولٹیکل لیڈرشپ بھی انہی خطوط پر پیش رفت کرے۔ انہوں نے کہاکہ صوبے کی تعلیمی درجہ بندی میں ٹوبہ ٹیک سنگھ ہمیشہ سے نمایاں مقام پر فائز رہا ہے اور 1970ء کی لینڈ ریفارمز میں سب سے بڑے کسان کنونشن کے انعقاد کا اعزاز بھی اسی ضلع کو حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موٹر وے ایم 4کی تعمیر مکمل ہونے سے یہ علاقہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ اس شہر کی ترقی میں مجوزہ یونیورسٹی انتہائی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ زرعی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ عرفان عباس نے گورنر پنجاب کو مجوزہ یونیورسٹی کے خدوخال ‘ تخمینہ جات اور مستقبل کے پروگرامز پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2017ء ‘ پاکستان وزن 2025ء اور پنجاب حکومت کے میڈیم ٹرم ڈویلپمنٹ فریم ورک 2017-20 کے مطابق ہر ضلع میں یونیورسٹی قائم کرنے کے سلسلہ میں یونیورسٹی آف ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیرانتظام جنرل یونیورسٹی کے طور فیکلٹی آف سائنسز’ فیکلٹی آف سوشل سائنسز اور فیکلٹی آف اینیمل سائنسز کا قیام عمل میں لایا جاسکے گا۔ انہوں نے کہاکہ مجوزہ یونیورسٹی کا ٹوبہ ٹیک سنگھ میں قیام اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہاں پبلک و پرائیویٹ سیکٹر میں تین درجن سے زائد کالجز کے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کیلئے اپنے ضلع میں ہی اعلیٰ تعلیم کے موقع فراہم کئے جا سکیں گے۔سب کیمپس کے پرنسپل ڈاکٹر قمر بلال نے اپنے ابتدائی کلمات میں بتایا کہ ان کے ادارہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران ضلع میں ترشاوہ پھلوں’ پولٹری اور لائیوسٹاک کے ساتھ ساتھ کھیتی باڑی سے منسلک ہزاروں کسانوں کے ساتھ مثالی روابط قائم کئے ہیں اور کیمپس میں ڈیری کلب’ گوٹ کلب’ ڈیری کلب اور نرسری کی نشوونما کیلئے مثالی پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیمپس کی خوبصورتی’ سائن بورڈز اور آر او پلانٹ کی تنصیب’ کارپٹ سڑکوں کی تعمیر اور فرنیچرکی فراہمی کیلئے علاقہ کی سیاسی و سماجی شخصیات کی کیمپس سے محبت اور لگائو کی زندہ مثال ہے اگر یہی کام یونیورسٹی بجٹ سے کروایا جاتا تو دو کروڑ روپے سے زائد کی رقم درکار تھی جبکہ کمیونٹی کی شراکت داری سے تین درجن سے زئد پروگرامز منعقد کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ٹیم ضلع میں کسان کی خوشحالی اور غذائی استحکام کے لئے علاقہ کے لوگوں سے مل کر کام کر رہی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ضلع کے تمام فارمز کوجدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے انہیں ماڈل فارمز بنانے کیلئے یونیورسٹی کے نوجوان اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مختصر عرصہ کے دوران کیمپس پر 10ہزار سے زائد پودے لگائے جا چکے ہیں جن میں اضافہ کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ترشاوہ پھلوں کے 20ہزار پودے لگا رہے ہیں جن کی بغیر بیج یا کم بیجوں کے حامل کینوسے پیوندکاری کی جا ئے گی۔ اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور’ چوہدری محمد اشفاق’ وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا اور شرکاء نے کیمپس کی ترقی’ خوبصورتی اور سہولیات کی فراہمی کیلئے پرنسپل ڈاکٹر قمر بلال اور ان کی ٹیم کی کاوشوںکو خصوصی طور پر سراہا۔

Related posts