ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز سی پیک میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے خوفزدہ


فیصل آباد(احمد یٰسین )فیصل آباد کے ٹیکسٹائل مالکان سی پیک کے ون روڈمنصوبے میں بڑے پیمانے پر غیرملکی سرمایہ کاری سے خوفزدہ ہیں۔ گوادر ٹو چائینہ روڈ کیساتھ بننے والے صنعتی زونز میں متوقع سرمایہ کاری نے صنعتی مالکان کو مسقبل کے حوالے سے خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ سی پیک میں منصوبوں میں سرمایہ کاروں کو ملنے والی مراعات نے اور غیرملکیوں کے قوانین پرعمل کرنے کے تاثر نے فیصل آباد کے ’’سیٹھوں‘‘ کو شکوک و شبہات کا شکار کر دیا ہے ۔اور صنعتکاروں نے وفاقی حکومت کو خدشات سے بھرے خطوط ارسال کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد سمیت ملک بھر کے صنعتکارسی پیک کے حوالے سے شکوک و شبہات اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ صنعتکاروں کو خدشہ ہے کہ سی پیک منصوبے میں بڑے پیمانے پر انڈسٹریل سٹیٹس بھی شامل ہیں اور ان کے بننے اور ان کو کئی طرح کی ٹیکس چھوٹ ملنے سے توازن متاثر ہو گا۔ ان انڈسٹریل زونز سے باہر کی صنعتوں کو انکا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔ذرائع کے مطابق ملک بھر کی صنعتی و تجارتی تنظیموں کی طرف سے وفاقی حکومت اور خاص طور پر وزارت تجارت کو اس حوالے سے مسلسل خطوط لکھے جا رہے ہیں اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان کے سوالوں کے جواب ان کے خدشات کے تناظر میں ہی دئیے جائیں۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سی پیک سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھلیں گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے مقامی سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کے مفادات کا بھی مکمل تحفظ کرنا ہوگا جو اس نئی صورتحال سے کسی بھی طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سی پیک میں سرمایہ کاری سے مقامی صنعتکاروں کی اجارہ داریاں متاثر ہو رہی ہیں اور انہیں مستقبل میں کھلے میدان کی بجائے مقابلے کی فضا کا سامنا کرنا پڑے گا اسی تناظر میں وہ حکومت کو تنگ کرکے مزید رعائتیں حاصل کرنے کے چکر میں ان خدشات و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔

Related posts

Leave a Comment