پاکستان میں تاریخ پر بے مثال ریسرچ ہوئی: ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب

اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں کہ کسی بھی معاشرے میں سدھار مؤثر پلاننگ کے بغیر نہیں لایا جا سکتا۔ پلاننگ کیلئے جہاں معاشرتی رویوں‘ معاشرے کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے اندازے لگانا ضروری ہے وہیں ماضی کے معاملات کی جانچ بھی ناگزیر ہے۔ ماضی میں کیا ہوتا رہا‘ کس طرح ہوا اور کس نے کیسے‘ کیا ایکشن کیا۔ کس طرح کی منصوبہ بندی کی گئی تھی‘ اس پر عمل کیسے ہوا اور نتائج کیا ملے۔ ماضی کے انہی افعال کے علم کو تاریخ کا نام دیا گیا ہے۔ ماہرین واضح کر چکے ہیں کہ تاریخ کو سمجھے بغیر مستقبل کی پلاننگ ممکن ہوسکتی ہے نہ حال کے احوال کو سدھارا جا سکتا ہے۔اب تو پاکستان کی ایجوکیشن پالیسی میں تحقیق کے ہر کام کیلئے بھی اسی مناسبت سے ماضی کی تحقیق کو ساتھ شامل کرنا لازمی قرار دیدیا گیا ہے۔
ماضی میں دنیا کے مختلف حصوں میں کیا ہوتا رہا اور کون کیا کرتا رہا اور کس جگہ کس طرح کے اقدامات اٹھائے جاتے رہے۔ پاکستان بنانے کیلئے کس نے کیا کیا۔ کب کون سا واقعہ رونما ہوا۔ کس وقت‘کس نے‘ کس طرح کی پالیسی بنا کر‘ کس طرح کے اقدامات اٹھائے۔ پاکستان بننے کے بعد یہاں کیا ہوا۔ پرانی غلطیوں سے کوئی سبق سیکھا گیا یا نہیں۔اس کا علم آگے بڑھانے کی ذمہ داری تاریخ دانوں اور تاریخ کے اساتذہ کی ہے۔
جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کا شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان ماضی کے انہی علوم کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔اس ڈیپارٹمنٹ میں

تاریخ کے علاوہ مطالعہ پاکستان میں بھی ڈگری کروائی جارہی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ میں بی ایس کے علاوہ ایم اے‘ ایم فل اور پی ایچ ڈی تک کی ڈگری کروائی جارہی ہے۔بلکہ اس ڈیپارٹمنٹ کے انچارج پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ریسرچ بھی کروا رہے ہیں۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ہسٹری و پاکستان سٹڈیز کے انچارج کی ذمہ داری معروف ریسرچ سکالر ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب نبھا رہے ہیں۔ آٹھ سال سے جامعہ ہذا میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب کا شمار جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے چند اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی لسٹ میں کیا جاتا ہے۔انہوں نے اپنی پوسٹ ڈاکٹریٹ 2018میں مکمل کی۔ 31ریسرچ آرٹیکل لکھنے کے ساتھ پانچ کتابوں کے مصنف ہیں۔ سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے ان کی کتاب ”بنگلہ دیش کی علیحدگی اور لیڈر شپ کی ناکامی“ کو ملکی ہی نہیں عالمی سطح پر شہرت ملی۔ جنوبی ایشیا میں مسلم احیاء کی تحریکیں‘ پاکستان میں وکلاء تحریک کے علاوہ 1857سے 1947تک کے واقعات پر ان کی کتاب ”تحریک پاکستان“کو بھی ہر سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ ان کی ایک کتاب ٹیچرز ٹریننگ کے حوالے سے بھی ہے۔قیام پاکستان سے 2013تک کے واقعات پر ان کی کتاب ”تاریخ پاکستان“ اور تحقیقی موادپر مشتمل ان کی کاوش ”پاکستان کی عوامی تحریکوں میں امریکی اثرورسوخ“ چھپنے کے مراحل میں ہے۔ یہی نہیں انتخابی سیات کی تاریخ‘ سینٹ کی تاریخ اور قومی اسمبلی کی تاریخ بارے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے تین ریسرچ پراجیکٹس پر بھی وہ کام کررہے ہیں۔ ”نیوز لائن“ نے ڈاکٹر رضوان اللہ کوکب سے یونیورسٹی کے ماحول‘ علمی صورتحال‘ ریسرچ کلچر‘ اساتذہ ٹریننگ‘ تاریخی غلطیوں‘ طلبہ کے تعلیمی رجحانات‘ کوالٹی ایجوکیشن اور تعلیمی پالیسیوں کے حوالے سے گفتگو کی۔ جو نذر قارئین ہے۔


انٹرویو: احمد یٰسین۔ ندیم جاوید


قوموں‘ معاشروں اور اداروں کے بننے میں چند سالوں کے سفر کی بہت زیادہ اہمیت نہیں ہوتی۔ معاشرے کو بننے اور اداروں کے سنورنے میں دہائیاں اور صدیاں لگ جاتی ہیں۔ جی سی یونیورسٹی کا بطور کالج ایک بڑا نام تھااور اس نے یہ نام بنانے میں ایک طویل سفرا ور بڑی جدوجہد کی تھی مگر بطور یونیورسٹی اس کے سفرکا دورانیہ بہت زیادہ طویل نہیں مگر اس کی کارکردگی بہت سے پہلوؤں سے مثالی قرار دی جا سکتی ہے۔جی سی یوایف کی تاریخ صرف 17برس کی ہے۔ مگر کامیابیوں کا سفر دیکھیں کہ پورے پاکستان میں سوشل سائنسز کے 12پوسٹ ڈاکٹریٹ اس وقت چل رہے ہیں اور ان میں سے ایک جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کے تاریخ سے متعلقہ تین ریسرچ پراجیکٹس سمیت سوشل سائنسز کے آٹھ اور فزیکل و لائف سائنسز کے درجن بھر پراجیکٹ جی سی یونیورسٹی کو ملے ہیں۔ یونیورسٹی کی ہر فیکلٹی میں پی ایچ ڈی ہورہی ہے۔ نصف سنچری کے قریب ڈسپلن میں ایم فل کروایا جارہا ہے۔ یہ بطور ادارہ اس کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ یہ ادارہ اس شہر کی پہچان بن رہا ہے۔ شہر کو لوگوں اور اکابرین کو بھی اس ادارے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ اکٹھے چلنے سے ادارے کو مزید ترقی ملے گی۔


یہ بالکل غلط بات ہے کہ پاکستان میں تاریخی غلطیوں کو سامنے لانے اور تاریخ کو سدھارنے کیلئے تحقیقی کام نہیں ہورہا۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ہمارا میڈیا تاریخ پر ہونے والی ریسرچ کو سامنے لانے کی کوشش نہیں کرتا جس کی وجہ سے عام لوگ اس تحقیقی کام سے محروم ہیں۔ پاکستان میں بہت ریسرچ ورک ہورہا ہے اور یہ بھی کہ معیاری کام ہورہا ہے۔ پاکستان میں تاریخ پر ریسرچ کرنے والے کئی ایک بہت اچھے نام ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی ڈاکٹر مسرت عابد‘ڈاکٹر فراز انجم‘ پروفیسر اسلم’ڈاکٹر یار محمد‘ ڈاکٹر قلب عباس‘ جی سی یونیورسٹی لاہور کے ڈاکٹر طاہر کامران‘ قائد اعظم بطور کرشماتی لیڈر لکھنے والے قائداعظم یونیورسٹی کے ڈاکٹر سکندر حیات‘ انسٹی ٹیوٹ ہسٹری پر بے مثال کام کرنے والے ڈاکٹر محبوب‘ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے ڈاکٹر شفیق‘ پنجاب کی تاریخ لکھنے والے ڈاکٹر اختر سندھو‘ ڈاکٹر فاروق ڈار سمیت متعدد نام ایسے ہیں کہ جن کے تحقیقی کام کو پورا دنیا میں سراہا جا رہا ہے۔


پاکستان میں تاریخ پر بے مثال ریسرچ ہوئی ہے۔ عام آدمی تک تحقیقی کام نہ پہنچنے کی ایک بڑی وجہ زبان کی رکاوٹ بھی ہے۔ ملکی و عالمی سطح پر تحقیقی کام کو انگریزی زبان میں لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تمام ریسرچ انگلش میں ہورہی ہے۔ریسرچر کو اتنے فنڈز نہیں ملتے کہ وہ اپنے تحقیقی کام کے تراجم کروا کر شائع بھی کروا سکے۔ حکومتی سطح پر بھی اس طرف زیادہ توجہ نہیں ہے۔ایک اہم مسئلہ جو درپیش ہے وہ یہ کہ ہمارا میڈیا بھی تاریخ اور تاریخی حقائق کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ میڈیا تاریخی معاملات کو نظر انداز کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخی حقائق کی درستگی کیلئے کئے جانے والا تحقیقی کام عام آدمی تک نہیں پہنچ رہا۔ اسی لئے سنی سنائی رواج پا جاتی ہے اور سنجیدہ کاوش پیچھے رہ جاتی ہے۔
تاریخ کے حوالے سے دیکھا جائے تو پولیٹکل ہسٹری پر پاکستان میں بہت کام ہوا ہے ہاں مگر سوشل ہسٹری کا شعبہ ریسرچ کے میدان کسی حد تک نظر انداز رہا۔ اس کی بڑی وجہ تو یہ ہے کہ سماج کی تاریخ پر کام کرنے کیلئے بہت زیادہ وسائل درکار ہیں۔ اب موہنجو دڑو کی تاریخ جانچنے اور اس وقت کے سماج کی کھوج لگانے کیلئے کام کیا جائے تو کروڑوں روپے درکار ہیں۔ موہنجو دڑو کے اصل وارث ہم ہیں اور ہم ہی اپنے اس تاریخی ورثے کی حفاظت کرنے اور تاریخ کی کھوج لگانے میں تساہل سے کام لے رہے ہیں۔ قدیم مصری اور بابل و نینووا کی زبانوں کا کوڈڈی ہو چکا ہے اور دنیا اس وقت کی تاریخ کا کھوج لگانے پر انگشت بدنداں ہے۔ موہنجو دڑو بھی دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ اس کی کھوج پر کام ہونا چاہئے۔ بحیثیت قوم بھی اس کا ہمیں فائدہ ہوگا۔ ہماری سیاحت بڑھے گی معاشی فوائد بھی مل سکتے ہیں۔ جبکہ زبان ڈی کوڈ ہونے سے جو تاریخی حقائق سامنے آئیں گے وہ دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیں گے۔

یہ تاثربھی درست نہیں ہے کہ جی سی یونیورسٹی میں ریسرچ نہیں ہورہی۔ یا ریسرچ کلچر نہیں بن پایا۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد ملک کی ان چند ایک جامعات میں سے ایک جہاں ریسرچ ہورہی ہے۔ صرف فزیکل اور لائف سائنسز ہی نہیں جی سی یوایف میں سوشل سائنسز میں بھی بہت تحقیقی کام ہورہاہے۔ملک بھر کے 12پوسٹ ڈاکٹریٹ میں سے ایک جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں ہورہا ہے۔ ایچ ای سے دو درجن کے قریب ریسرچ پراجیکٹ ہمارے پاس ہیں۔ مشکل صورتحال کے باوجود جی سی یونیورسٹی کی فیکلٹی نے تحقیق کے میدان میں بہترین نتائج دئیے ہیں۔
طلبہ کی سطح پر کچھ مسائل ہیں مگر یہ صرف جی سی یو ایف میں ہی نہیں بلکہ ہر جامعہ میں ملتے ہیں۔ اس کو یونیورسٹیز کی سطح کی بجائے بھی پوے معاشرے کی سطح پر لینا چاہئے۔ ہماری سوسائٹی کے مسائل کا پرتو ہی تعلیمی معاملے میں نظر آتا۔ سیکنڈری سطح تک نصاب بھی تحقیق کو فروغ دینے والا نہیں ہے۔طلبہ کی سطح پر سب سے زیادہ ایشو ریسرچ میں سرقہ کا آرہا ہے۔ جی سی یونیورسٹی کی حد تک اس کی روک تھام کیلئے ہم نے کافی اقدامات اٹھائے ہیں۔ تحقیقی سرقہ روکنے کیلئے تھیسس اور ریسرچ آرٹیکلز کی سختی کے ساتھ جانچ کی جارہی ہے۔ طلبہ کے تحقیقی کام کی نگرانی سخت کی جارہی ہے۔


کوالٹی ایجوکیشن ایک ہمہ جہتی معاملہ ہے۔ صرف کلاس روم کے لیکچر اور طلبہ کے امتحان سے یہ ممکن نہیں ہے۔ کلاس روم میں بہترین لیکچر اور طلبہ کو علوم سے آشنا کرنا کوالٹی ایجوکیشن ہے۔ رجحانات کے مطابق طلبہ کی صلاحیتوں کو جلا بخشنا بھی اس کا حصہ ہے۔ رٹے رٹائے اسباق کا لیکچر اور اس کے مطابق ہی امتحان دے کر کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ کوالٹی ایجوکیشن کے حوالے سے انفراسٹرکچر‘ ماہرین پر مشتمل فیکلٹی‘ اچھی کتب کی فراہمی بہت اہم ہے۔ تاہم تمام معاملے کو دیکھا جائے تو گزشتہ دو دہائیوں اور خاص طور پر 2003کے بعد معاملات میں بہت بہتری آئی ہے۔ یہ معاملات وقت کے ساتھ ساتھ بتدریج بہتر ہوتے ہیں۔ 2003کے بعد سے معاملات میں بہتری آئی ہے۔ اور مستقبل میں مزید بہتری آنے کی توقع کرنی چاہئے۔
جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ تعلیم کے ساتھ طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں میں شمولیت بھی بہت اچھی جارہی ہے۔ منفی سیاسی سرگرمیوں اور منفی کارروائیوں میں شامل ہونے کی بجائے یہاں طلبہ کو مثبت سیاسی سرگرمیوں میں شمولیت کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں تو انہوں نے بھرپور انداز میں پرفارم کرکے دکھایا ہے۔ جی سی یونیورسٹی میں اس وقت 29سوسائٹیز ہیں اور ہر سوسائٹی میں شامل طلبہ کی کارکردگی مثالی قرار دی جا سکتی ہے۔ اس سے طلبہ کی تعلیمی صلاحیتوں کو بھی نکھار ملا اور منفی سرگرمیوں میں بھی ان کی شمولیت واضح طور پر کم ہوئی۔ سوسائٹیز کے سرگرم ہونے اور ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ کی وجہ سے ہی جی سی یونیورسٹی میں طلبہ کی منفی سرگرمیاں بہت کم ملتی ہیں۔


یہ اٹل حقیقت ہے کہ جمہوری عمل کے راستے میں رکاوٹ نہیں پیدا کرنی چاہئے۔ جہاں جمہوری عمل کمزور ہوتا ہے وہاں منفی سیاست اور گروہ بندیاں فروغ پاتی ہیں۔ جمہوری عمل سے مل بیٹھنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔ کوئی معاشرہ ہو یا ادارہ جمہوری عمل جاری رہنا چاہئے۔ اس میں رکاوٹ پیدا کرکے ہم کسی کی خدمت نہیں کرتے بلکہ اپنا ہی مجموعی نقصان کرتے ہیں۔
ہمارے اساتذہ آج بھی بہت پرعزم ہیں انہیں موقع دیا جائے تو پرفارم کرتے ہیں۔ 80فیصد اساتذہ کام کرنے کا عزم رکھنے والے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے سسٹم میں نقائص ہیں۔ جہاں استاد کو ہتھکڑی لگا کر دنیا کو دکھایا جائے وہاں استاد خود کو کیسے محفوظ اور قابل عزت سمجھ سکتا ہے۔ یہاں استاد سے ہر وہ کام لیا جارہا ہے جو اس کا کام نہیں ہے۔ الیکشن اساتذہ کروا رہے ہیں۔ ڈینگی مہم اساتذہ چلارہے ہیں۔ پولیو ویکسین اساتذہ پلارہے ہیں۔ امتحانی عملہ اساتذہ پر مشتمل ہے۔ بچوں کے داخلے کی مہم اساتذہ چلا رہے ہیں۔ بچہ سکول نہیں آتا تو ذمہ دار اساتذہ ہیں۔ بچوں کی نتائج کا ذمہ دار استاد ہے۔ بچے کا رزلٹ ٹھیک نہیں آیا تو سزا استاد کو ملنی ہے اور ستم یہ کہ مار نہیں پار کا نعرہ لگا کر استاد کا رعب ہی ختم کردیا۔ استاد بچے کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتا اور بچے کی تمام ذمہ داری استاد کے کندھوں پر ہے۔ استاد اتنا برا نہیں ہے جتنا پیش کیا جارہا ہے۔ ہمیں سسٹم میں موجود خرابی درست کرنے کی ضرورت ہے۔ استاد کو ہتھکڑی لگائے جانے اور استاد پر کرپشن کے الزامات لگاتے رہنے سے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے۔

Related posts