پاکستان کا بارڈر محفوظ‘ اصل خطرہ نظریاتی اور ثقافتی اساس کو درپیش


فیصل آباد(نیوزلائن)پاکستان کے بارڈر محفوظ اور مسلح افواج سرحدوں کی حفاظت کیلئے چوکس ہیں۔ اندرونی سکیورٹی کو بھی بہت زیادہ خطرات نہیں ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے دیگر ادارے اندرونی سکیورٹی کیلئے بہت سرگرم ہیں اور اپنی ڈیوٹی بہتر انداز میں سرانجام دے رہے ہیں ۔ اس وقت پاکستان کو اصل خطرہ نظریاتی اور ثقافتی محاذ پر درپیش ہے۔ ہماری ثقافت اور آئیڈیالوجی کو مسخ کرنے کی عالمی سازش پر زور و شور سے کام ہو رہا ہے۔ ثقافتی محاذ کی حفاظت کیلئے معاشرے کے ہر طبقہ اور خاص طور پر لکھاریوں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار ریجنل پولیس آفیسر فیصل آباد غلام محمود ڈوگر نے یوم دفاع و شہداء کے موقع پر ’’میڈیا لائرز سول سوسائٹی فورم‘‘ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آر پی اوکا کہنا تھاکہ کیبل ٹی وی ‘ ڈش اور انٹر نیٹ کی فراوانی نے ایک یلغار کی شکل میں ہماری نوجوان نسل کو گھیر لیا ہے۔ ہمارے گلی محلوں کا ماحول تبدیل کیا جارہا ہے۔ استاد کا احترام‘ ہمسایوں کے حقوق کے تحفظ‘ دوسروں سے ہمدردی‘ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا‘ غریبوں اور ناداروں کی امداد جیسے کام بھی کم ہوتے جارہے ہیں۔ اس پر ہم سب کو سوچنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کو ہماری سوچ کی نفی اور ہمیں ثقافتی لحاظ سے احساس کمتری کا شکار کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جبکہ ہماری ثقافت دنیا بھر میں بہت مضبوط گردانی جاتی ہے اپنی ثقافت بچانے کیلئے معاشرے کے ہر طبقہ کو اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنا چاہئے۔ غلام محمود ڈوگر نے کہا کہ اس وقت ہمیں بچوں کی تعلیم سے زیادہ تربیت کی ضرورت پر زور دینا ہو گا۔ بچوں کیلئے انگریزی تعلیم سے زیادہ اچھے اخلاق کا ہونا زیادہ ضروری اور ناگزیر ہے۔ تعلیم کی کمی کا علاج کیا جا سکتا ہے مگر تربیت میں کمی رہ جائے تو اس کا کوئی علاج نہیں ممکن نہیں ہو پاتا۔ اس حوالے سے معاشرے میں شعور اجاگر کرنے کیلئے پڑھے لکھے طبقات اور لکھاریوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جو انہیں ادا کرنا چاہئے۔
تقریب سے کمشنر فیصل آباد آصف اقبال اور کنوینئر میڈیا لائرز سول سوسائٹی فورم سلطان محمود شیخ نے بھی خطاب کیا اور 1965اور 1971کے پاک بھارت معرکوں اور دہشت گردی کیخلاف جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا

Related posts