پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں میں اضافے پر ہنگامہ کیوں ؟


پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ کیا یہ کوئی انوکھی یا انہونی بات ہے ؟ جسے انہونی یا عجیب لگتی ہے وہ صرف ایک بار یہ جائزہ تو لے کہ پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تنخواہ دوسری صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کے مساوی یا ان سے زائد ہے ؟ممکن ہے اب زیادہ ہوگئی ہو لیکن پنجاب اسمبلی کے اراکین کے موقف ہے یہ تنخواہ دیگر اسمبلیوں کے اراکین سے زائد ہرگز نہیں ہے ۔
پنجاب اسمبلی کے اراکین کا تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ نیا نہیں ہے ، مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران بھی یہ مطالبہ اس جواز کے ساتھ کیا جاتا ر ہے کہ باقی صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی تنخواہ پنجاب اسمبلی کے اراکین سے کہیں زائد ہے ۔ یہ مطالبہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ نے دبانے کی بھرپور کوشش کی ، جب وہ کامیاب نہ ہوئے تو انہوں نے یہ مطالبہ اپنے وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھ دیا ، بس پھر رکھا ہی رہا ۔ جب بھی اراکین تنخواہوں میں اضافے کی بات کرتے رانا ثناء اللہ انہیں وزیر اعلیٰ کا چہرہ الفاظ میں دکھا دیتے ۔ اب شہباز شریف سے یہ بات کون کرے ؟ سنا ہے کہ شہبازشریف تنخواہوں میں اضافے کی بات سن کر ایک بار سیخ پا ہوگئے تھے جس کے بعد کسی رکن نے اس ’گستاخی‘ کی جرات نہ کی ۔ یہ سنی سنائی بات ہے ، اس میں حقیقت اور دروغ گوئی کتنی ہے؟ شہبازشریف کا قد بڑھانے، گھٹانے کی کوشش ؟ یہ وہی جانتے ہیں جو ایسی گفتگو کے موقع پر موجود ہونگے لیکن یہ بات ایک سے زائداراکین سے سنی گئی تھی اور دیکھا بھی یہی گیا کہ پچھلی اسمبلی کے اراکین اپنی تنخواہوں میں اضافہ خود کرنے کا اختیار حاصل ہونے کے باوجود اسکے استعمال کی حسرت لئے ہی رخصت ہوگئے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے بہت سے اراکین اب بھی ایوان میں موجود ہیں جنہوں نے خود کو ’’امیر ‘‘ کرلیا ہے ۔ اس امارت پر میڈیا نے شوروغل اور صرف حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف پر ہی کڑی تنقید کی ہے حالانکہ تنخواہوں میں اضافے کا بل منظوری کیلئے ایوان میں مسلم لیگ ن کے آغا علی حیدر نے آؤٹ آف ٹرن اُس وقت پیش کیا تھا جب ان کے ساتھی اراکین واک آؤٹ کرکے ایوان سے باہر نکل کر لابی میں ایوان کا نظارا کررہے تھے ۔، اگرچہ یہ بل ایوان میں سب سے پہلے پیش متعارف کرانے کا’ اعزاز‘ پی ٹی آئی ہی کے غضنفر عباس نے حاصل کیا تھا ج جس سیاسی حامی و مخالف ساتھیوں نے بلے بلے بھی کی تھی ۔ اس تنقید کے دوران کسی نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کا ذکر نہیں کیا جس کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ نے اس بل کی مخالفت کی تھی ، وہ ایوان میں اس بل کی مخالفت کرنے والے واحد رکن تھے لیکن کسی نے ایک کیلئے ایک لفظ بھی استعمال نہیں کیا ۔ ان کا آف مائیک یہ جملہ ’’اوئے امیر کرلیا جے اپنے آپ نوں ‘ بہر حال توجہ طلب ہے ۔
اس بل میں توجہ طلب بات اراکین کو مستقل بنیادوں پروی آئی پی درجہ دینا اور وزرائے اعلیٰ کیلئے تاحیات لاہور میں رہائش گاہ کی سہولت دینا ہے اس کے ساتھ ساتھ سابق اراکین کو اندرون و بیرون ملک مفت علاج کی سہولت فراہم کرنا ہے ۔ سہولت کسی دوسری اسمبلی کے اراکین اور وزیراعلیٰ کو حاصل ہے یا نہیں ، اس پر بھی نہیں لکھا گیا ۔ میڈیا پر جو بات زیر بحث سنی اور پڑھی(ممکن ہے ہوئی بھی ہو) نہیں گئی، وہ صرف ایک سوال ہے ؟ سوال یہ ہے کہ کسی بھی جماعت کے انتخابی منشور میں اراکین کی تنخواہوں میں اضافہ شامل تھا؟ کسی بھی سیاسی جماعت کے رکن یا آزاد امیدوار نے انتخابی مہم میں اپنے تنخواہ بڑھانے اور اسمبلی سے مراعات لینے کا اعلان یا تذکرہ تک کیا؟
یہ وہ سوال ہے جس کیلئے جواب کیلئے کسی معاونت کی ضرورت نہیں بلکہ سبھی کے پاس جواب نا ں(No)میں موجود ہے , پھرمنشور سے ہٹ کر ایسا کیوں کیا گیا ؟ یہ جواب تو وہی دے سکتے ہیں جن سے سوال ہے لیکن عام آدمی کے پاس یہی جواب ہے کہ جو کچھ منشور میں شامل ہوتا ہے ، اس پر عمل نہیں کیا جاتا جو منشور میں شامل نہیں ، اگر وہ ہوگیا تواچنبھا ؟ ۔
انتخابی مہم کے دوران ان گنت مالی وسائل رکھنے والے امیدوار یا ’غریب ترین‘ ارب پتی بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں ، مراعات میں اضافے، عام آدمی کی بہتری اور عوام کی خدمت کیلئے دن رات ایک کرنے کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں اور اپنے وسائل انتخابی مہم کی بھٹی میں جھونک دیتے ہیں ، کیا خدمت کرتے ہیں ؟ ایک پہلو تو تنخواہوں اور مراعات میں اضافے سے سامنے آتا ہے ، جو دکھائی نہیں دیتے وہ کئی پہلو ہونگے۔اراکینِ اسمبلی کی یہ دلیل غیر قانونی نہیں ہے کہ دنیا بھر میں منتخب نمائندے تنخواہ پاتے ہیں، ان کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ وہ لاہور سے دور افتادہ علاقوں سے اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے آتے ہیں ، پٹرول اور کرایہ خرچ ہوتا ہے ، وقت ضائع ہوتا ہے، خاندان کیلئے مخصوص وقت قوم کو دیتے ہیں تو کچھ معاوضہ لینے میں کیا ہرج ہے ۔اس دلیل کا جواب کسی کے پاس نہیں ماسوائے انتخابی نعروں اور جوشیلی تقریروں کے ،جن میں کبھی اس پہلو پر بات نہیں کی گئی کہ وہ منتخب ہونے کے بعد ان عوام سے تنخواہ لیں گے جن کی خدمت کیلئے وہ انتخابی مہم پر کروڑوں روپے خرچ کررہے ہیں ۔
اراکینِ اسمبلی کی تنخواہوں اوتر مراعات میں اضافے کے قوانین میں حالیہ ترمیم میں اراکینِ اسمبلی نے خود کو سرکاری ملازمین کی صف میں شامل کرلیا ہے یعنی ریٹائرمنٹ (اسمبلی کا رکن نہ رہنے کے بعد ) وہ پنشن کے حقدار نہیں لیکن سرکاری علاج سمیت باقی مراعات کے حقدار رہیں گے، اگر اراکینِ اسمبلی خود کوسرکاری ملازمین کی صف میں کھڑا کرچکے ہیں تو پھر انہیں یہ بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ جس طرح سرکاری ملازمین کی ملازمت کی ایک مدت مخصوص ہوتی ہے ، اراکینِ اسمبلی کی مدت بھی ایک الیکشن سے دوسرے الیکشن تک قرارپاسکتی ہے ، یعنی سرکاری ملازم ریٹائرمنٹ کے دوسال تک سیاسی سرگرمیوں میں حصلہ لینے اور الیکشن لڑنے کا اہل نہیں ہوتا تو کیا اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے ریٹائر ہونے والے یہ’’ سرکاری ملازم‘‘ دوسال کیلئے سیاسی سرگرمیوں اور ا لیکشن لڑنے کیلئے نااہل قرارپائیں گے ؟ موجودہ قوانین ، اسمبلی رولز اور آئین میں اراکینِ اسمبلی کو سرکاری ملازم قرارنہیں دیا گیا لیکن مراعات کے قوانین میں ترمیم کے بعد تو یہ سرکاری ملازمین کی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ بحث طلب نکتہ ہے جس پر بحث کسی نے نہیں کرنی ، اراکینِ اسمبلی تو بالکل نہیں کریں گے جنہوں نے پری بجٹ بحث میں حصہ نہیں لیا ، وہ اس بحث میں حصہ لیں گے ، گذشتہ اجلاس میں پری بجٹ بحث ایجنڈے میں شامل تھی جس کے پہلے روز اپوزیشن لیڈر ، ویر خزانہ اور چند اراکین نے حصہ لیا لیکن اس کے بعد ایجنڈے میں شامل نہ کی نہ ہی یہ بتایا گیا بحث ختم ہوگئی بلکہ تنخواہوں میں اضافے کے بعد جب وزیراعظم عمران خان نے غصے کا اظہار کیا تو کسی رکن اسمبلی نے اسپر کمنٹ تک نہ کیا اور اجلاس ہی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا ۔
جہاں تک اراکینِ اسمبلی کا اپنی تنخواہوں میں اضافے کے اختیار اور اضافہ ہونا ہے کم از کم رائج قوانین کی موجودگی میں مجھے تو کوئی اعتراضن ہیں ہاں! دیگر مراعات پر بات ہوسکتی ہے لیکن ایک بات مجھے اپنے دانشوروں سے بھی کرنی ہے کہ وہ کھلی تنقید کریں ، اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں لیکن حقائق کی روشنی میں ، میں نے کچھ ایسی تحریریں بھی پڑھی ہیں جن میں لکھنے والوں کی کم علمی کا اظہار بھی ہوتا ۔ جب مکمل حقائق کے بغیر لکھا جائے تو صحت مند تحریر بھی صرف غصے کا اظہار ہی معلوم ہوتی ہے جس سے لکھنے والے کی کسی بہت اعلیٰ تحریر پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے جس کتحمل یہ معاشرہ نہیں ہوسکتا جہاں لکھنے والے پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں اور کسی تعصب کے بغیراچھا لکھنے والے تو بہت ہی کم ہیں ۔

Related posts