پنجاب حکومت نے ڈاکٹرز کی بائیومیٹرک حاضری لازمی قرار دیدی


فیصل آباد (ندیم جاوید)پنجاب حکومت نے تبدیلی یقینی بنانے کیلئے صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی بائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کا حکم دیدیا۔ بائیومیٹرک حاضری نہ لگانے والے اور ہسپتالوں میں ڈیوٹی اوقات پورے نہ کرنے والے ڈاکٹرز کیخلاف کارروائی کی ہدائت کردی گئی۔ بائیومیٹرک حاضری کا حکم خود وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے دیا ہے جبکہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی موجودگی چیک کرنے کیلئے خصوصی مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی جارہی ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبہ بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی بائیومیٹرک حاضری ہر صورت یقینی بنانے کا حکم دیا ہے ۔ بائیو میٹرک حاضری کا حکم ن لیگی صوبائی حکومت کے دور سے ہی دیا گیا تھا۔ ڈاکٹرز کے علاوہ سٹاف نرسوں‘پیرا میڈیکل سٹاف اور ملازمین کی بائیومیٹرک حاضری کا آغاز کیا گیا تھا مگر ڈاکٹرز بائیو میٹرک حاضری سے گریزاں تھے۔ خاص طور پر سینئر ڈاکٹرز بائیو میٹرک حاضری لگانے کو تیار ہی نہیں تھے ۔ ڈاکٹرز کے حوالے سے یہ شکایات بھی عام ہیں کہ وہ ہسپتالوں میں آتے ہیں نہیں یا حاضری لگا کر غائب ہو جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں پنجاب حکومت نے ڈاکٹرز اور دیگر ہسپتال ملامین کی دوران ڈیوٹی سخت چیکنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ڈاکٹرز اور عملے کی غیر حاضری یا حاضری لگا کر غائب پائے جانے کی صورت میں میڈیکل کالجز کے پرنسپل‘ یونیورسٹی کے وی سی اور ہسپتال کے ایم ایس کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ایک نوٹفکیشن جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں سرپرائز دوروں کے دوران اور دورہ سے قبل خفیہ مانیٹرنگ کے نتیجہ میں سرکاری ہسپتال کے کسی بھی شعبہ میں تعینات ڈاکٹرز‘پروفیسر‘ نرسیز‘پیرا میڈیکل سٹاف اور دیگر درجہ چہارم اہلکاروں کی حاضری کو چیک کیا جائے گا۔بائیومیٹرک حاضری کے بعد ڈیوٹی ٹائم کے دوران ملازمین کی غیر حاضری پر پروفیسرز کی غیر حاضری میڈیکل کالج کے پرنسپل اور میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چیئرمین پر جبکہ ڈاکٹرز‘سٹاف نرسیز‘پیرامیڈیکل سٹاف اوردیگر درجہ چہارم ملازمین کی غیر حاضری کی ذمہ داری ہسپتال کے ایم ایس پر ہوگی وزیراعلیٰ پنجاب نے تمام پرنسپلز وی سیز اور ایم ایس ایز کو ذاتی طور پر بائیومیٹرک حاضری لگا کر ڈیوٹی کرنے والے افسران اور ملازمین کی ذاتی طور پر چیکنگ کرنے کا حکم دیا ہے حکم نامہ پر عملدرآمد نہ کروانے والے وی سی‘پرنسپل اور ایم ایس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

Related posts