پولیس اہلکاروں کیلئے بیماری کا علاج افسران کی اجازت سے مشروط


فیصل آباد(نیوز لائن)فیصل آباد میں پولیس ملازمین کیلئے اعلیٰ افسران سے اجازت لئے بغیر کسی بھی بیماری کا علاج کروانا بھی ممنوع قرار دیدیا گیا ہے۔انسانی حقوق کے’’ احترام‘‘ کی بہترین مثال قائم کرنے والا یہ حکم نامہ فیصل آباد کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پولیس آفیسر نے جاری کیا ہے اور اس پر عمل نہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کیخلاف سخت کارروائی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کے ایک ’’اعلیٰ‘‘ تعلیم یافتہ ایس پی نے پولیس ملازمین کیلئے حکم نامہ جاری کیا ہے کہ وہ کسی بھی بیماری کی صورت میں اعلیٰ پولیس افسران سے اجازت لئے بغیر علاج معالجہ نہیں کروائیں گے اور نہ ڈاکٹر سے چیک اپ کروائیں گے۔حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ بغیر اجازت کسی بیماری کا علاج کروانے اور ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے پر پولیس اہلکاروں کو سخت تادیبی کارروائی کاسامنا کرنا پڑے گا۔ ملازمین کیلئے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ بیمارہونے پر انہیں علاج معالجے کیلئے تحریری درخواست اعلیٰ پولیس آفیسر کو دینا ہوگی ۔ تحریری درخواست پر انہیں اعلیٰ افسران اگر علاج کی ضرورت محسوس کریں گے تو اجازت دیدیں گے۔ جبکہ اعلیٰ افسران علاج معالجے کی درخواست مسترد کرنے کا بھی اختیار رکھتے ہوں گے۔فیصل آباد پولیس کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ایس پی کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اعلیٰ ترین مثال قائم کرنیوالے اس حکم نامے پر سی پی او فیصل آباداشفاق خان اور آر پی او غلام محمود ڈوگر اور دیگر افسران نے ’’چپ‘‘ سادھ رکھی ہے اور ان کی خاموشی کو بھی پولیس ملازمین اس حکم نامے کی تائید سے تعبیر کررہے ہیں ۔ اس حوالے سے پولیس ملازمین کا کہنا ہے کہ بیمار ہونے پر ڈاکٹر کے پاس نہ جانے کی صورت میں ان کی بیماری پیچیدہ شکل بھی اختیار کرسکتی ہے۔ جبکہ ایسا حکم نامہ بنیادی انسانی حقوق ہی نہیں آئین پاکستان کی بھی خلاف ورزی ہے۔ جس پر پی ٹی آئی حکومت کو فوری ذمہ دار افسران کیخلاف ایکشن لینا چاہئے۔

Related posts