پولیس کلچرکی تبدیلی :ن لیگ کچھ کر سکی نہ پی ٹی آئی


فیصل آباد (نیوز لائن) پنجاب میں پولیس کلچر تبدیل کرنے کے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے دعوے اور اعلانات بے بنیاد ثابت ہوئے۔ پولیس اصلاحات صرف سیاسی’’ تقریر‘‘اور پولیس بجٹ میں اضافہ صرف افسر شاہی کے اللوں تللوں پر خرچ ہونے تک ہی محدود رہا۔فیصل آباد کے ایک مؤقر جریدے کی انویسٹی گیشن رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پولیس کا قبلہ درست ہونے کی بجائے مزید خراب ہوگیا ہے ۔ دس سال تک تخت پنجاب پر براجمان رہنے والے میاں شہباز شریف اپنے دعووں اور اعلانات کے مطابق پنجاب پولیس کو عوام دوست اورشہریوں کی خدمت کرنے والا ادارہ بنانے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس کی پہچان آج بھی جعلی مقدمات اور بوگس اشتہاری ہیں۔صوبہ بھر میں جعلی مقدمات کی برمار ہے ۔ مالیاتی لین دین کے مقدمات میں سے 90فیصد جھوٹے اور بے بنیاد ثابت ہورہے ہیں۔ پنجاب پولیس کی گزشتہ دس سال کی رپورٹس کے مطابق صوبہ بھر میں زیردفعہ 406ت پ درج ہونے والے 12ہزار سے زائد مقدمات جعلی ثابت ہوئے۔پولیس رپورٹس کے مطابق پنجاب بھر میں گزشتہ دس سالوں کے دوران درج زیر دفعہ 406پی پی سی کے 99فیصد مقدمات بوگس اور ان پر اشتہاری قرار دینے کی کارروائیاں بھی فرضی ہیں۔ پنجاب پولیس کے شیر جوان ’’کاروباری افراد اور مافیاز کو تحفظ دینے کیلئے اس دفعہ کا کھلے عام استعمال کرتی ہے۔ رپورٹس میں سامنے آیا ہے کہ فیصل آباد‘ گوجرانوالہ اور راولپنڈی امانت میں خیانت (مالیاتی لین دین ) کے جعلی مقدمات کے اندراج کا بڑا مرکز ہیں۔ حال ہی میں شیخوپورہ کے ایک مقدمہ قتل کے مرکزی ملزم کے فیصل آباد کے ایک جعلی مقدمہ میں جعلی گرفتار کئے جانے کا سکینڈل بھی سامنے آیا جس نے کیس کا رخ ہی بدل ڈالا۔ پنجاب پولیس کے ریکارڈ کے مطابق صوبہ بھر میں زیر دفعہ 216ت پ کے سو فیصد مقدمات جعلی ہیں۔ پولیس فرضی کارروائیوں کو حقیقت کا رنگ دینے کیلئے یہ مقدمات درج کرتی اور ’’نوٹ کھرے ‘‘کرتی ہے۔پولیس رپورٹس کے مطابق منشیات فروشوں کے خلاف بھی فرضی اور بوگس کارروائیاں کی جاتی ہیں۔مافیاز ‘ ڈکیت گینگ‘ جرائم پیشہ عناصر‘ ٹارگٹ کلرز کو مکمل پروٹیکشن دی جاتی ہے۔ صرف ایک کام پنجاب پولیس کے شیر جوان انتہائی تندہی سے کرتے ہیں اور وہ ہے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کا ۔ پولیس کے ٹارچر سیل بند ہوئے ہیں اور نہ تھانوں میں ’’قائم‘‘ مجرم بنانے کی فیکٹریاں بند کی جا سکی ہیں۔جیلوں میں بڑھتا ہوا رش ‘ سٹریٹ کرائم میں ہوشربا اضافہ‘ جعلی مقدمات کی بھرمار‘ پولیس کے مافیاز کا محافظ بن کر کام کرنے اور عوام پر پولیس کے بڑھتے ہوئے وحشیانہ مظالم میاں شہباز شریف کی دس سالہ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں ۔پی ٹی آئی حکومت نے آتے ہی پولیس اصلاحات کا اعلان کیا تھا مگر پانچ ماہ گزرنے کے باوجود پولیس کے مظالم روکنے ‘ تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے اور پولیس کو سروسز فورس بنانے کیلئے اقدامات کرنے میں ناکام ہے۔

Related posts