پیپسی‘ کوک‘ گورمے کولازہر قاتل ہیں تو مکمل پابندی کیوں نہیں


فیصل آباد(احمد یٰسین)پیپسی کولا‘ کوکا کولا‘ گورمے کولا‘ آر سی کولا‘ سٹنگ‘ سیون اپ‘ڈیو‘ سپرائیٹ‘ گورمے اپ‘ کتنے ہی نام ہیں جن کوپنجاب حکومت واضح الفاظ میں زہر قرار دے چکی ہے مگر یہ صرف زبانی جمع خرچ تک ہی محدود ہے۔ پنجاب حکومت کے خوراک کی بہتری کیلئے قائم ادارے ’’پنجاب فوڈ اتھارٹی‘‘ نے کولڈ ڈرنک کے ان سب برانڈز کو بچوں کی صحت کیلئے زہر قرار دیا ہے۔ صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ان کولڈ ڈرنکس کے استعمال سے بچوں میں ہڈیوں کی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کولڈ ڈرنکس میں زہریلے کیمیکل پائے جاتے ہیں۔ اسی بنیاد پر سکولوں کالجوں میں کولڈ ڈرنکس کی فروخت پر پابندی لگائی گئی ہے۔تعلیمی اداروں کے باہر بھی 100میٹر کی حدود میں کولڈ ڈرنکس بیچنے پر پابندی ہے۔یہ سب کچھ بہت ٹھیک مگر یہ سب صرف جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے زبانی کلامی بہت اعلیٰ کام کیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ زہریلی کولڈ ڈرنکس صرف سکول میں زہر نہیں ہے۔ گھروں میں بھی یہ زہریلی ہی رہتی ہیں۔ گلی محلوں میں کھلے عام پی جانی والی کولڈ ڈرنکس بھی زہر سے کم نہیں ہیں۔فیکٹریوں میں تیاری کے دوران بھی اس کا زہر ختم نہیں ہو جاتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پورا سچ بولا جائے۔ پنجاب حکومت اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کولڈ ڈرنکس کے زہریلے ہونے بارے واضح اعلان کرے۔ کولڈ ڈرنکس زہریلی اور انسان جان کیلئے زہر قاتل ہے تو اس پر مکمل پابندی عائد کی جائے یا اور اگر پنجاب فوڈ اتھارٹی نے محض ’’دل پشوری ‘ اور کمپنی کی مشہوری کیلئے کولڈ ڈرنکس بارے بوگس رپورٹس شائع کی ہیں تو عوام اور کمپنیوں سے معذرت کرکے ایسا کرنے والوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔کولڈ ڈرنکس زہریلی ہیں تو صرف سکولوں کے اندر ہی کیوں پورے شہر میں اس پر پابندی کیوں نہیں۔سکولوں کالجوں میں آج بھی کولڈ ڈرنکس استعمال ہو رہی ہیں۔درجنوں سکولوں کالجوں میں کنٹین پر کولڈ ڈرنکس مل رہی ہے اور اگر نہ بھی ملے تو سکول کے گیٹ کے سامنے واقع پان شاپ یاسٹور سے لینے سے بچے کو روکنے والا کوئی نہیں ۔کولڈ ڈرنک کے حوالے سے واضح پالیسی کی ضرورت ہے۔ مان لیا کہ پنجاب حکومت سچی ہے۔ کولڈ ڈرنک زہر ہے۔ تو حکومت اس پر مکمل پابندی لگا کر عوام دوست ہونے کا ثبوت دے۔

Related posts

Leave a Comment