پیپلزپارٹی سے زیادہ محب وطن کوئی جماعت نہیں: نورالنساء ملک


پاکستان پیپلزپارٹی نے مملکت خداد پاکستان کے محنت کشوں اور پسماندہ طبقات کو جو آواز دی اس کا عملی مظاہرہ لائل پور کی مزدور تحریکوں میں صاف ملتا ہے۔ پی پی پی نے مزدور طبقات کو بولنے کا حوصلہ دیا اور اپنے حق کیلئے سرمایہ دار ٹولے کے سامنے ڈٹ جانے کا راستہ دکھایا ۔ پی پی پی کو اپنی 70سالہ جدوجہد میں یوں تو پورے ملک سے سرفروشوں اور جیالوں کی بڑی تعداد دی مگر ضیاء الحق کیخلاف جدوجہد میں لائل پور کے جیالوں نے جو نمایاں اور گراں قدر خدمات سرانجام دیں اس کا اعتراف خود محترمہ بے نظیر بھٹو بھی کرتی رہی ہیں۔ مختار رانا سے فضل حسین راہی اور احمد سعید اعوان سے ریاض شاہد تک کیسی کیسی نابغہ روزگار شخصیات تھیں جو مزدوروں کے اس شہر سے سیاست کے منارے پر چمکیں۔ اس شہر نے ہر دور میں بھٹو کی پارٹی کو چمکتے دمکتے جیالے دئیے اور سب کی سیاسی میدان میں خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ پیپلزپارٹی کی سیاست میں اپوزیشن کا رنگ ہمیشہ ہی نمایاں رہا ہے اور یہاں پیراشوٹ لیڈر زیادہ عرصہ چل ہی نہیں پاتے۔ پیراشوٹ سے آوارد ہونے والے عمومی طور پر ڈرائینگ روم سیاست کے کھلاڑی ہوتے ہیں اور پی پی پی کا عوامی مزاج ان کی طبیعت سے میل ہی نہیں کھاتا۔ سابق آمر جنرل پرویز مشرف نے سال 2002میں عام انتخابات کروائے تو پی پی پی نے پنجاب اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر فیصل آباد سے ایک نام نور النساء ملک کا دیدیا۔ سیاسی حلقوں کیلئے ہی نہیں پی پی پی کے ورکرز کیلئے بھی یہ نام نیا تھا اور فیصل آباد سے ہونے کے باوجود پی پی پی کے جیالے اور جیالیوں کی بڑی تعداد اس نام سے ناآشنا تھی۔ سیاسی میدان میں انہیں کم ہی لوگ جانتے تھے اور ان کو ڈائریکٹ اسمبلی میں پہنچائے جانے کی وجہ سے بڑی اکثریت کا پہلا خیال ہی یہ تھا کہ یہ بھی کوئی سرمایہ دار ٹولے کی نمائندہ اور پیراشوٹ سے وارد ہونے والی شخصیت ہیں۔مگر جلد ہی جیالوں کا اور سیاسی حلقوں کو اپنی رائے بدلنی پڑی۔ انتخابی عمل تو مکمل ہوگیا مگر اس کے کچھ ہی عرصے بعد پی پی پی نے مشرف کیخلاف تحریک شروع کردی۔ اس تحریک میں ایک نام تسلسل کے ساتھ سنا جانے لگا اور وہ تھا رکن پنجاب اسمبلی نورالنساء ملک کا۔ پیپلزپارٹی کی سینئر خاتون رہنما زبیدہ ملک کی بھانجی اور بہو۔ نورالنساء ملک۔2002سے 2008کے درمیان مشرف کیخلاف ہر احتجاجی تحریک میں’ ہر احتجاجی مظاہرے میںشامل ہوتیں۔2013تک پی پی پی پھر بھی کسی حد تک فیصل آباد میں نظر آتی تھی مگر 2013کے بعد جب پارٹی کے بڑے بڑے نام اپنی مجبوریوں کی پوٹلی کندھے پر اٹھائے بھاگنے لگے تو پارٹی میں گنتی کے نام رہ گئے۔ ان میں ایک نام نورالنساء ملک کا بھی ہے۔ موجودہ ملکی سیاسی حالات اور پارٹی کی پوزیشن کے حوالے سے نورالنساء ملک سے مختصر گفتگو ہوئی ۔
پیپلزپارٹی کی قیادت کا ہمیشہ میڈیا ٹرائل کیا گیا، محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف کیسے کیسے شوشے نہیں چھوڑے گئے۔ سابق صدر آصف زرداری کیخلاف کیسز بھی ایسا ہی میڈیا ٹرائل ہے۔ کسی کیس کا کوئی سر پیر نہیں۔ صرف ایک شور ہے جو صرف میڈیا پر ہے۔ پہلے بھی گیارہ بیس سال تک ان کیخلاف کیس چلائے گئے۔ گیارہ سال وہ جیلوں میں بھی رہے مگر تمام کیس جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے۔ اب بھی صرف شور ہے اور کچھ نہیں۔ جے آئی ٹی عوام کو دھوکہ دینے اور پی پی پی کی قیادت کو انڈر پریشر کرنے کا حربہ ہے۔ان کیسز سے کچھ نہیں نکلنے والا۔


احتساب نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آرہی۔ اپوزیشن جماعتوں کا میڈیا ٹرائل اور کیسز کے نام پر اپوزیشن رہنماؤں سے انتقام لینے کا سلسلہ چل رہا ہے۔ عمران خان نے پانامہ سکینڈل سامنے آنے پر سب سے پہلے نواز شریف کا ٹرائل کرنے کا مطالبہ اس دلیل کے ساتھ کیا تھا کہ وہ وزیر اعظم ہیں سب سے پہلے ان کا احتساب ہونا چاہئے۔ اب وہ خود وزیر اعظم ہیں۔ان کا نام بھی تو پانامہ سکینڈل میں شامل ہے۔ علیمہ باجی کے اربوں روپے کی جائیدادیں سامنے آچکی ہیں۔ چھے ہزار ایکڑ پر بنی گالہ محل کی غیرقانونی تعمیرات اور اس کی خرید کا سکینڈل سامنے ہے۔ شوکت خانم کے معاملات میں گھپلے سامنے آرہے ہیں۔ عمران خان کو اپنے ہی کئے ہوئے دعووں اور مطالبات کے تناظر میں خود کو احتساب کیلئے پیش کردینا چاہئے۔ مگر ایسا نہیں ہو گا اتنی اخلاقی جرأت کا مظاہرہ وہ کبھی نہیں کریں گے۔ احتساب صرف سیاستدانوں کا ہی نہیں سب کا ہونا چاہئے۔ جس نے کرپشن کی اسے احتساب کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے۔ وہ کوئی بھی ہو ۔ سیاستدان ہو یا بیوروکریٹ۔ سرمایہ دار ہو یا جاگیردار۔ جس نے کرپشن کی اس کا احتساب ہونا چاہئے۔ صرف ایک طبقے کا اور اس میں سے بھی مخصوص لوگوںکا احتساب درست نہیں کہلا سکتا۔ سب کا احتساب ہوگا تو ہی احتساب کو احتساب کہا جا سکے گا وگرنہ یہ صرف انتقام ہے۔ جو مخصوص لوگوں سے لیا جارہا ہے۔
پنجاب پیپلزپارٹی کا ہے۔ پی پی پی کی قیادت کا میڈیا ٹرائل اور جھوٹے شور و غوغے سے عوام کے پی پی پی سے بدظن کیا گیا ۔اور کچھ اپنوں کی مہربانیوں نے بھی پارٹی کو نقصان پہنچایا۔ مگر آنے والا وقت ہمارا ہے۔ عوام نے مسلم لیگ ن کی سطح آب جیسی ترقی بھی دیکھ لی ہے اور پی ٹی آئی نے جو حشر چند ماہ میں ہی کردیا اس کا نظارہ بھی کرلیا ہے۔ پیپلزپارٹی سے زیادہ محب وطن پارٹی اس ملک میں کوئی نہیں۔ کالعدم تنظیموں کے معاملے میں پیپلزپارٹی کے دیرینہ مطالبے کو حکمران اب تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ہمارا تو ہمیشہ سے مطالبہ رہا ہے کہ کوئی مقدس گائے نہیں ہے۔ ملک میں صرف قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے اور طاقت کے استعمال کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہونا چاہئے۔


بی بی کی شہادت کے بعد ملک میں قیادت کا فقدان آیا۔ کچھ مہربانوں نے بھی پی پی پی کیلئے حالات تنگ کئے ۔اسی کی وجہ سے پارٹی موجودہ حالات تک پہنچی۔ مگر اب وقت بدلنے لگا ہے۔ بلاول کے ویژن نے قیادت کے فقدان کو بھی ختم کیا ہے جبکہ نااہل لوگوں کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانے والوں نے بھی دیکھ لیا ہے کہ ملک ایسے نہیں چلتے۔ اس وقت پی ٹی آئی نے ملک کو جس نہج تک پہنچا دیا ہے ایسا خدانخواستہ پی پی پی یا مسلم لیگ ن کے دور میں ہو جاتا تو انہی لوگوں نے ہمارے گھروں تک کو تاراج کردینا تھا مگر ان محب وطنوں کی زبانیں گنگ ہیں۔


الیکشن 2018کے نتائج درست نہیں ہیں۔ رات کی تاریکی میں الیکشن نتائج کے ساتھ جو کیا گیا اور رات گئے چند گھنٹوں کے دوران جو ڈیلیں کی جاتی رہی ہیںوہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ ہمیں فخر ہے کہ ہماری قیادت نے ہر الزام برداشت کرلیا لیکن ڈیل نہیں کی۔ وہ وقت دور نہیں جب عمران خان بھی بولیں گے۔ وہ خود عوام کو بتائیں گے کہ انہیں کس نے استعمال کیا۔ وہ خود عوام کے سامنے بولنے پر مجبور ہوں گے کہ کس کے گیم پلان کا وہ مہرہ بنے تھے۔ گیم کہاں سے کی جارہی تھی اور انہیں کتنا مختصر کردار دیا گیا تھا۔ یہ وقت آئے گا اور عوام کے سامنے سچ بولا جائے گا۔
بلاول بھٹو نے میاں نواز شریف کی احوال پرسی کیلئے جیل کا دورہ کرکے ثابت کردیا ہے کہ ان سے بڑا مدبر سیاستدان اس وقت ملک میں کوئی نہیں ہے۔ جب دو سیاستدان ملتے ہیں تو سیاسی باتیں ہوتی ہیں اور اس ملاقات میں بھی ضرور ہوئی ہوں گی مگر ان کی ملاقات کا بنیادی مقصد سیاست میں احترام کے رشتوں کو مقدم رکھنے کا درس دینا تھا۔ اور یہی تو اسلام کی تعلیمات ہیں۔ کوئی آُ سے برا بھی کرے تو اس کے ساتھ بھلائی سے کام لیں۔ اس پر تو ملک بھر کی سیاسی قوتوں کو خوش ہونا چاہئے کہ بلاول سیاسی انتقام اور انتشار کی سیاست کرنے کی بجائے احترام اور نظریات کی سیاست کے راستے پر گامزن ہے۔ جو یقینی طور پر اس ملک اور جمہوریت کیلئے نیک شگون ہے۔


مجھے سیاست میں محترمہ بے نظیر بھٹو خود لے کر آئیں تھیں۔ ہماری فیملی تو شروع دن سے پیپلزپارٹی کے ساتھ ہے ۔ الیکشن 2002میں شہید محترمہ میری خالہ زبیدہ ملک کو اسمبلی میں لے جانا چاہتی تھیںمگر گریجویشن کی شرط آڑے آگئی۔ مجھے اسمبلی بھیجنے کا فیصلہ خود شہید بی بی کا تھا ۔ جس پر میں ہمیشہ فخر کرتی ہوں۔ بی بی نے مجھے خود فون کرکے کہا تھا کہ آپ اسمبلی میں جانے کی تیاری کریں۔ 2002کے بعد تمام الیکشن میں مجھے پنجاب اسمبلی کیلئے پارٹی ٹکٹ دیا گیا ۔ فیصل آباد سے میں واحد خاتون ہوں جسے پارٹی نے تمام الیکشن میں ہی ٹکٹ دیا ہے۔ جو یقینی طور پر میرے لئے اعزاز ہے۔
پیپلزپارٹی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ہماری فیملی پہلے دن سے پی پی پی کا حصہ ہے اور جب تک ہم ہیں ہم اسی پارٹی میں رہیں گے۔ مسلم لیگ ن کے اقتدار کے دنوں میں بھی میں پی پی پی کا حصہ رہی اور سرگرم رہی۔ اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ ہمیں عزت دی ہے ۔ اس عزت افزائی کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔ آنے والا وقت بلاول کا ہے اور ہم بلاول کی سپاہ بن کر سیاسی میدان میں پارٹی کے مخالفین کا مقابلہ کریں گے۔

انٹرویو ۔ احمد یٰسین ‘ ندیم جاوید

Related posts