پی ایچ اے نے تاریخی چرچ کے احاطے کو کمرشل اراضی قرار دیدیا


فیصل آباد (احمد یٰسین) پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی فیصل آباد نے ”سرمایہ دارانہ ایلیٹ کے تفریحی مرکز”چناب کلب کے سامنے واقع تاریخی چرچ کے احاطے کو خلاف قواعد کمرشل اراضی قراردیدیا اور اس کے کمرشل استعمال کی اجازت بھی دیدی ہے۔ قوانین روند کر چرچ کو کمرشل بنانے کی ”ماسٹر پلان سازش ”میں ڈی جی اور ڈائریکٹر مارکیٹنگ سمیت پی ایچ اے کے متعدد اعلیٰ افسران ملوث پائے جا رہے ہیں۔نیوز لائن کے مطابق پی ایچ اے رولز کے تحت شہر میں کوئی ایڈورٹائزنگ بورڈ این او سی کے بغیر نہیں لگ سکتا۔ این او سی کیلئے بنیادی شرط ہی اراضی کا کمرشل ہونا ہے۔ کسی ایسی جگہ پر ایڈورٹائزنگ بورڈ نہیں لگایا جاسکتا جو کمرشل نہ ہو۔ پی ایچ اے کی دستاویزات کے مطابق شہر میں معدودے چند ایک ایڈورٹائزنگ بورڈز کا ہی این او سی جاری کیا گیا ہے جن میں سے ایک این او سی چناب کلب چوک میں واقع چرچ کے احاطے میں لگے ایڈورٹائزنگ بورڈ کا بھی ہے۔ نیوز لائن کے مطابق ایڈورٹائزنگ بورڈ کا این او سی جاری کرنے کیلئے پی ایچ اے نے چناب کلب چوک میں واقع تاریخی چرچ کے احاطے کو کمرشل اراضی بھی قرار دیدیا۔ قواعد کی رو سے کسی بھی اراضی کی کمرشلائزیشن کرنا ڈی سی آفس کے فنانس سیکشن کا اختیار ہے مگر مذکورہ چرچ کی اراضی کو خود پی ایچ اے کے ڈی جی اور ڈائریکٹر مارکیٹنگ نے ہی غیر قانونی طریقے سے کمرشل قرار دیا اور اس کا ایڈورٹائزنگ کا لائسنس جاری کردیا۔ قوانین کی رو سے کسی بھی مذہبی مقام کی اراضی کو کمرشل قرار نہیں دیا جاسکتا جبکہ کمرشلائزیشن کروائے بغیر کسی بھی جگہ پر کاروباری سرگرمی نہیں ہو سکتی۔ ایڈورٹائزنگ کے این او سی کیلئے کمرشلائزیشن کی شرط بنیادی اہمیت کی ہے۔ نیوز لائن کے مطابق فیصل آباد میں پی ایچ اے نے گنتی کے چند ایک ایڈورٹائزنگ لائسنس جاری کئے ہیں اور ان میں سے بھی دولائسنس اسی چرچ کی اراضی کے ہیں ۔ پی ایچ اے کی جانب سے غیرقانونی طور پر چرچ کے احاطے کو کمرشلائزیشن کئے جانے کے معاملے پر مؤقف لینے کیلئے پی ایچ اے کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ عثمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ان کی تعیناتی سے پہلے کا ہے۔ ان سے پہلے کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ نے یہ کیا ہے ۔ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے اور قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔ سرکاری موبائل فون نمبر پر مسلسل رابطہ کرنے کے باوجود پی ایچ اے کے ڈی جی آصف چوہدری نے کال نہ سنی۔ پی ایچ اے کے پی آر او سکندر سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں تو مسجدوں پر بھی بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ مسجدوں کی جگہ کا کمرشل استعمال ہورہا ہے۔ چرچ کی اراضی کو کمرشل کر دیا ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔


Related posts