پی ٹی آئی ارکان اسمبلی عطائیوں کو قانون سے بچانے میدان میں کود پڑے


فیصل آباد(نیوز لائن) پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے تبدیلی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔رکن قومی اسمبلی نے عطائیوں کے خلاف کاروائی کرنے پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اآفیسر کا تبادلہ کروا دیا ۔نواب شیر وسیر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے این اے 101 سے رکن قومی اسمبلی ہیں ان کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ بہت بڑی تعداد میں عطائیوں کو ان کی پشت پناہی حاصل ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور میں بھی وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے عطائیوں کیخلاف کارروائیاں رکوانے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دو روز قبل ہوالشافی ہسپتال جڑانوالہ کے خلاف صغیر عباس کی درخواست پر ڈی ایچ او ڈاکٹر سہیل طارق کی قیادت میں ڈی ڈی ایچ او نےچھاپہ مار کر ہسپتال سیل کیا اور مقدمہ درج کیا گیا ۔ مذکورہ عطائی کے خلاف بچہ کی ہلاکت پر درخواست دی گئی تھی ۔ ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران بھی نواب شیر وسیر کے کچھ لوگوں نے ایکشن رکوانے کی کوشش کی مگر ڈی ڈی ایچ او نے کارروائی نہ روکی۔ کارروائی ہوئے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا کہ اچانک ڈی ڈی ایچ او کا تبادلہ کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ڈی ڈٰ ی ایچ او کو ٹرانسفر کی اطلاع بھی نواب شیر وسیر کے ایک قریبی شکص نے دی جو اس سے قبل کرروائی نہ روکنے پر ٹرانسفر کی دھمکی دے چکا تھا۔ ذرائع کے جڑانوالہ میں پنجاب کی کسی بھی تحصیل سے زیادہ عطائی موجود ہونے کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں ۔ محکمہ صحت نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ان کیخلاف بھرپور ایکشن کیا ۔ ٹرانسفر کروائے جانے والے ڈی ڈٰی ایچ او ڈاکٹر سہیل نے انسداد عطائی مہم کے دوران پنجاب بھر میں سب سے زیادہ انسداد عطائیت کاروائیاں کی ہیں۔ اور عطائیوں کیخلاف میں مقدمات درج کروائے ۔ ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر سہیل طارق کی جانب سے 36مقدمات درج کروائے گئے جبکہ عطائیوں کے 72ہسپتال سیل کروائے گئے ۔ ذرائع کے مطابق نواب شیر وسیر نے اپنے چہیتے آر ایچ سی بچیکی کے ایس ایم او ڈاکٹر شہزاد کو نیا ڈی ڈی ایچ او تعینات کروایا ہے ۔ ڈاکٹر شہزاد کے بارے میں سامنے اآیا ہے کہ وہ کرپشن میں ملوث رہے ہیں کرپشن کے ایک مقدمہ میں انہیں سزا ہوئی اور محکمہ نے ان کی چار سال کی سروس ضبط کرلی تھی ۔ ڈاکٹر شہزاد کے بارے میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وہ عطائیوں کے متعدد غیرقانونی سپتالوں میں بطور ڈاکٹر خدمات سرانجام دیتا رہا ہے۔ کئی غیرقانونی ہسپتال ان کا نام اپنے ڈاکٹر کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ڈاکٹر شہزاد نے کبھی ان میں سے کسی ایک کی بھی تردید نہیں کی۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر سہیل کی ٹرانسفر کا باعث بننے والے ہسپتال ہوالشافی ہسپتال کے ڈاکٹرز پینل مین بھی ڈاکٹر شہزاد کا نام تھا اور ایف آئی آر میں بھی ان کا نام شامل ہے۔

Related posts