چمک کا کمال ‘ گھر بیٹھے اوپن یونیورسٹی میں ورکشاپس کی حاضری لگنے لگی


فیصل آباد(نیوزلائن) گھر بیٹھے ہی اوپن یونیورسٹی کے ریجنل کیمپس فیصل آباد میں ورکشاپس کی بوگس حاضریاں لگائے جانے کا انکشاف ہوا ہے بوگس حاضریاں نہ صرف فیصل آباد میں ہونیوالی ورکشاپس میں لگائی جارہی ہیں بلکہ یونیورسٹی کیساتھ ویڈیو لنک سے ہونیوالی ورکشاپس میں بھی ریجنل کیمپس فیصل آباد سے بوگس حاضریاں لگائی جاتی ہیں۔نیوزلائن کے مطابق علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ریجنل کیمپس فیصل آباد میں ورکشاپس کی بوگس حاضریاں لگائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ فیصل آباد میں مختلف سکولوں اور کالجوں میں ہونیوالی ورکشاپس کے علاوہ ریجنل کیمپس میں ہونیوالی ویڈیو لنک ورکشاپس کی حاضری بھی بوگس لگائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق سرگودھا‘ میانوالی‘ جھنگ ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے درجنوں طلبہ کی حاضری ان کے آئے بغیر لگا کر ورکشاپ کلیئر کر دی گئی۔ یونیورسٹی قواعد کے مطابق ورکشاپس میں شمولیت اتنی ہی ضروری ہے جتنی پیپر دینا۔ مگر ورکشاپس میں شامل ہوئے اور گھر بیٹھے ’’چمک‘‘ کے کمال سے حاضریاں لگوا کر سینکڑوں بااثر طالب علم پاس ہو رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق سال 2016اور سال 2017کی ویڈیو لنک ورکشاپس میں درجنوں طلبہ کی بوگس حاضری لگائی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق ان دونوں سالوں میں سرگودھا ‘ بھکراور میانوالی سے تعلق رکھنے کسی ایک بھی طالب علم یا طالبہ نے ریجنل کیمپس فیصل آباد میں ہونیوالی ویڈیو لنک ورکشاپس میں شرکت نہیں کی اور تمام دنوں میں غیر حاضر رہے۔مگر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اہلکار کے ذریعے ان کی حاضریاں فیصل آباد کیمپس کے کلرک نے ’’چمک‘‘ کی سفارش پر لگائیں۔جس کے بعد ان کی ورکشاپ حاضر ہوئے بغیر کلیئر کردی گئی ۔ ایسی ہی صورتحال مقامی ورکشاپس کی ہے۔ذرائع کے مطابق اوپن یونیورسٹی کے اسلام آباد میں ریکارڈکئے گئے فیصل آباد کی ویڈیو لنک کلاس کی تعداد اور ریجنل سنٹر سے بھجوائی گئی کاغذی حاضری میں دو گنا کا فرق ہے۔ذرائع کے مطابق بوگس حاضریاں لگانے کے سکینڈل میں اوپن یونیورسٹی کے ریجنل کیمپس فیصل آباد کے تین کلرک ‘ درجن بھر کورس کوآرڈی نیٹرزملوث ہیں۔ جبکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ریجنل ڈائریکٹر عبید اسلم اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اس تمام صورتحال سے آگاہ ہونے کے باوجود مجرمانہ غفلت کے مرتب اور خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بوگس حاضریاں لگانے والے طلبہ اور یونیورسٹی عملہ ہزاروں ایسے طلبہ کیساتھ زیادتی کے مرتکب ہو رہے ہیں جو دور دراز سے آتے ہیں اور اپنی ہر طرح کی مصروفیت ترک کرکے ورکشاپس میں اپنی شمولیت یقینی بناتے ہیں۔

Related posts