ڈرائیونگ لائسنس ٹیسٹنگ برانچ میں وسیع پیمانے پر کرپشن کا انکشاف


فیصل آباد ( عاطف چوہدری ) چیف ٹریفک آفیسر کی عدم توجہی کے باعث ڈرائیونگ لائسنس ٹیسٹنگ برانچ میں وسیع پیمانے پر کرپشن ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ مزکورہ کرپشن کی کہانیاں فیصل آباد کے شہریوں میں زبان زدعام ہیں، ٹیسٹنگ برانچ کے انچارج سمیت عملہ نے معقول ،، نذرانہ ،،کے عوض ٹریفک لائسنس کا حصول انتہائی آسان بنا دیا، جبکہ مبینہ رشوت نہ دینے والوں پر ،، کھڑکی ،، بند کر دی گئی، LTV لائسنس بھی9 سے 12 ہزار میں بناے جانے کا انکشاف ہوا ہے، کرپشن کی بنیاد پر آئی ٹی برانچ سےفارغ ہونے والے “سائنسدان” کو ٹیسٹنگ برانچ میں لگایا گیا اور جعلی پاس ہونےکی سلپ بنانے پر اس کا پھر تبادلہ کیا گیا، مگر کرپشن پھر بھی نہ رک سکی، ذرائع کے مطابق فیصل آباد میں ڈرائیونگ لائسنس برانچ کی جڑانوالہ روڈپر ذیلی ٹیسٹنگ برانچ میں ٹیسٹ کے لئے جانے والے شہریوں نے وہاں پر ہونے والی زیادتیوں اور کرپشن کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے، LTV لائسنس کے لئے ٹیسٹ دینے والوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹیسٹ لینے والے کمپیوٹر پر ٹیسٹ لینے کی بجائے چھڑی پکڑ کر ٹریفک کے نشان پوچھنا شروع کر دیتے ہیں اور جواب کا پورا وقت دیئے بغیر اگلا سوال پوچھ لیتے ہیں، جس کے بعد امیدوار کو فیل کر دیا جاتا ہے، جبکہ کمپیوٹر پر ٹیسٹ کے دوران جواب دینے کے لیے پورے بیس سیکنڈ مل جاتے ہیں، علاؤہ ازیں عام امید وار سے دس سوال کیے جاتے ہیں جبکہ مبینہ طور پر بھاری نذرانہ دینے اور منظور نظر افراد سے دو سے تین سوال پوچھ کر انھیں پاس کر دیا جاتا ہے، LTV لائسنس 9 سے 12 ہزار روپے لے کر دھڑلے سے بناے جا رہے ہیں، ذرائع کے مطابق سابق سی ٹی او عارف شہباز وزیر نے کرپشن کے خاتمے کے لئے ٹریفک کے نشانات کے لئے ٹیسٹ کو کمپیوٹرائزڈ کروایا تھا، اور روڈ ٹیسٹ کی ویڈیو فلم بنانا شروع کی گئی تھی، جبکہ آئی ٹی برانچ کو روزانہ کی بنیاد پر مذکورہ ویڈیو چیک کرنے کا پابند کر کے کرپشن کا راستہ روکا گیا تھا، ٹیسٹنگ ٹیم میں نیک اور ایماندار وارڈنز کو تعنیات کیا گیا اور موٹر وہیکلز ایگزامینر کو بھی موٹر وہیکلز رول کے مطابق ٹیسٹ ٹیم سے نکال دیا گیا تھا، مگر ان کے تبادلے کے ساتھ ہی کرپشن فری نظام کو لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا گیا اور ان کی بنائی بہترین ٹیم کے تبادلے کروا دئیے گئے، اور مذکورہ برانچ میں دھڑلے سے دوبار کرپشن شروع کر دی گئی، ذرائع کے مطابق سی ٹی او آفس میں عرصہ دراز سے تعینات کچھ افسران کی پشت پناہی پر کرپشن کا دھندہ جاری و ساری ہے، شہریوں نے آئی جی پنجاب، آر پی او فیصل آباد، سی پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ٹیسٹنگ برانچ سے کرپشن کا خاتمہ کیا جاے اور مزکورہ برانچ میں تعینات کرپٹ افسران و عملہ کے خلاف انکوائری کی جاے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔

Related posts