کاشتکاروں کیلئے کپاس کی فصل کو زیادہ منافع بخش بنائیں گے: علی ارشد

فیصل آباد (نیوز لائن) علی ارشد ایڈیشنل سیکرٹری زراعت (ٹاسک فورس) پنجاب نے کہا ہے کہ کپاس کی فصل کی بحالی اور پیداواری ہدف کا حصول حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے وفاقی و صوبائی محکموں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ کپاس کی فصل کو کم دورانیہ اور زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل بنانے کیلئے تحقیقی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی جارہی ہے۔ کاشتکاروں کیلئے کپاس کی فصل کو زیادہ منافع بخش بنانے کیلئے سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور ماہرین کی قیمتی آراء کی روشنی میں قلیل المدتی اور طویل المدتی حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں کپاس کی ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل زراعت (ریسرچ) ڈاکٹر عابد محمود، ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز سید ظفر یاب حیدر، پروفیسر ڈاکٹر منصور الحسن ساہی، ڈاکٹر صغیرا حمد ڈائریکٹر کاٹن،چوہدری عبدالحمید ڈائریکٹر زراعت توسیع فیصل آباد، فیاض احمد کنڈی ڈائریکٹر زراعت توسیع ملتان، عبدالغفور غفاری ڈائریکٹر زراعت توسیع ڈی جی خان، محمد فاروق جاوید ڈائریکٹر زراعت توسیع ساہیوال، مدثر عباس ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ انفارمیشن، ڈاکٹر عامر رسول ڈپٹی ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ فیصل آباد، راؤ شاہد ودیگر نے شرکت کی۔ علی ارشد نے کہا کہ ملکی معیشت کا زیادہ تر دارومدار کپاس کی فصل پر ہے۔ یہ ایک ایسی فصل ہے جس سے بیشتر لوگوں کا بالواسطہ یا بلاواسطہ روزگار وابستہ ہے۔ جبکہ گزشتہ 7 دہائیوں سے سب سے زیادہ زرمبادلہ اسی فصل سے حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کپاس کی پیداوار میں بریک تھرو کیلئے تحقیقی اداروں کو نتائج دینا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے تحت ایسے عملی اقدامات بروئے کار لائے جارہے ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر گلابی سنڈی کا اگلے تین سال میں مکمل خاتمہ یقینی بنایا جاسکے گااور کپاس کی موجودہ فصل کی چنائی کے دوران کچرا اور کپاس کی باقیات کی تلفی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔

Related posts