کرپشن کنگ افسران کے محافظ ڈائریکٹر انٹی کرپشن فارغ



فیصل آباد(نیوزلائن)ڈی جی انٹی کرپشن کرپشن کنگ افسران کے محافظ ڈائریکٹر انٹی کرپشن فیصل آبادڈاکٹر ارشاد احمد کو فارغ کردیا ہے اور ان کی خدمات سروسز ڈیپارٹمنٹ کو واپس کردی ہیں۔ ڈائریکٹر انٹی کرپشن تعیناتی کے دوران ڈاکٹر ارشاد احمد کے حوالے سے مسلسل رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں کہ وہ کرپشن میں ملوث اعلیٰ افسران کا تحفظ کررہے ہیں ۔ ان کے دور میں کرپشن کے کئی میگا سکینڈل سامنے آئے مگر ان پر کارروائی نہ ہوسکی جبکہ ہزاروں کی تعداد میں شہریوں کی شکایات کو بغیر کسی کارروائی کے ردی کی ٹوکری کی نذر کئے جانے کی رپورٹس بھی سامنے آتی رہیں۔ ڈاکٹر ارشاد احمد کے حوالے سے یہ بھی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں کہ انہوں نے اپنے ہی خلاف کرپشن کی متعدد شکایات پر خود اپنی نگرانی میں انکوائری کروائی اور خود کو کلین چٹ دیدی۔ چنیوٹ اور فیصل آباد میں ای ڈی او فنانس تعیناتی کے دورانئے کے متعدد کرپشن کیس انہوں نے ڈائریکٹر انٹی کرپشن تعینات ہو کر خود سنے اور خود ہی ان پر فیصلے کئے۔ اپنے ہی دستخطوں سے اپنے ہی خلاف انکوائریاں ٹھپ کیں ۔ اس دورانئے کی کرپشن کی شکایات کرنے والوں کا اپنے آفس میں داخلہ بھی بند کروایا۔ ڈاکٹر ارشاد کے بارے میں یہ بھی رپورٹس سامنے آچکی ہیں کہ انہوں نے چھوٹ ملازمین کے علاوہ کسی سرکاری افسران کیخلاف کارروائیوں کو کھوپ کھاتے ڈالے رکھا ۔ کرپٹ سرکاری افسران کے خلاف شکایات لے کر انٹی کرپشن آنے والوں کی سخت حوصلہ شکنی کی جاتی اور انہیں ڈرا دھمکا کر بھگانے کی جاتی ۔ انہوں نے اپنے دور میں ایماندار تفتیشی افسران کو محکمے سے بھگانے کا سلسلہ بھی شروع کئے رکھا جبکہ ایماندار افسران سے تحقیقات کروانے کی کرپٹ افسران کو تحفظ دینے میں ان کا ساتھ دینے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ڈی جی انٹی کرپشن نے ان کی خدمات پنجاب حکومت کے سروسز ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دی ہیں اور ان کی جگہ نئے ڈائریکٹر انٹی کرپشن کی تعیناتی کی جارہی ہے۔

Related posts