گندم خریداری مہم ناکام: سرکار نے پٹواریوں کو گندم خریداری ٹارگٹ دیدئیے

فیصل آباد (ندیم جاوید) اوپن مارکیٹ میں زیادہ قیمت ہونے کی وجہ سے کسان سرکار کو گندم فروخت کرنے پر آمادہ نہیں ہیںجس کی وجہ سے محکمہ خوراک کی فیصل آباد میں گندم خریداری مہم بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ حکومت نے گندم خریداری کیلئے ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری لگائی تو ڈپٹی کمشنر نے پٹواریوں کو گندم خریداری ٹارگٹ دے کر کسی بھی قیمت پر ٹارگٹ پورا کرنے کا حکم دیدیا۔ پٹواری کو کسی بھی قیمت پر گندم خرید کر حکومت کو سرکاری قیمت پر فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ فی من دو سے اڑھائی سو روپے اپنے خرچ ہوتے دیکھ کر پٹواریوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ جبکہ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کا کہنا ہے کہ مجبوری کہ وجہ سے پٹواریوں کو شامل کرنا پڑ رہا ہے۔ نیوز لائن کے مطابق فیصل آباد میں بہت بڑی تعداد میں کسان حکومت کو سرکاری نرخوں پر گندم فراہم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ سرکاری نرخ 13سو روپے فی من کے مقابلے میں اوپن مارکیٹ میں ساڑھے 14 سے 15سو روپے فی من گندم فروخت ہورہی ہے۔ کسان کو سرکاری گندم خریداری مراکز پر خواری اضافی بونس کے طور پر ملتی ہے۔

گندم خریداری مہم کی ناکامی پر حکومت نے ضلعی انتظامیہ کو میدان میں اتارا اور ہر قیمت پر گندم خریداری ٹارگٹ پورا کرنے کا حکم دیدیا گیا۔ گندم خریداری مہم کیلئے ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سیف اللہ ڈوگر نے اسسٹنٹ کمشنرز کے ذریعے پٹورایوں کو گندم خریداری کیلئے ٹارگٹ دیدئیے اور ہر قیمت پر گندم کا ٹارگٹ پورا کرنے کا حکم دیدیا۔ مجموعی طور پر فیصل آباد کے پٹواریوں کو 10لاکھ من گندم فراہمی کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فیصل آباد ضلع کے 38قانونگو حلقوں میں واقع تمام 299پٹوار سرکل کے پٹواریوں کو گندم خریداری کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ ہر قانونگو حلقے کوپچاس کلو والے 20ہزار تھیلے گندم فراہم کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پٹواری کو کسی بھی قیمت پر گندم خرید کر سرکار کو 13سو وپے من فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور سفری اخراجات اور اضافی قیمت پٹواری کو خود برداشت کرنا ہو گی۔فی من دو سے اڑھائی سو روپے تک اپنے خرچ ہوتے دیکھ کر پٹواریوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں۔ مجموعی طور پر ضلع بھر کے پٹواریوں کو 20 سے 22کروڑ روپے کے اضافی اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق پٹواریوں کو گندم خریداری ٹارگٹ پورا نہ کرنے پر برطرفی اور معطلی کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جبکہ پٹواریوں نے اس صورتحال میں ہڑتال سمیت جان چھڑانے کے دیگر آپشنز پر غور شروع کردیا ہے۔ اس حوالے سے رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سیف اللہ ڈوگر نے گندم خریداری ٹارگٹ پٹواریوں کو دینے کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ کام محکمہ خوراک کا تھا۔ محکمہ خوراک کی ناکامی پر ہمیں گندم خریداری کا کام سونپا گیا ہے تو ہمارے پاس پٹواری کے علاوہ فیلڈ میں کام کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ پٹواری کے چونکہ گاؤں میں کسانوں سے براہ راست روابط ہوتے ہیں اس لئے وہ ہی گندم خریداری میں موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی بناء پر پٹواریوں کو گندم خریداری تارگٹ دئیے گئے ہیں۔

Related posts