گڈ گورننس بارش میں بہہ گئی:شہر میں کشتیاں چلانے کی تیاری


فیصل آباد(نیوزلائن) فیصل آباد میں موسلادھار بارش نے جل تھل کر دیااور ٹھنڈی و تیز ہواؤں نے موسم خوشگوار کردیا ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی موسلا دھار بارش کے پانی میں گڈگورننس بھی بہہ گئی ہے ۔ شہر کے اکثر علاقوں میں کئی گھنٹے گزرجانے کے بعد بھی اتنا پانی کھڑا ہے کہ شہری کشتیاں چلانے کا سوچ رہے ہیں۔ بارش کے بعد کئی گھنٹے تک بجلی کی بندش اور فیصل آباد انتظامیہ کی غفلت و لاپرواہی نے باران رحمت کو عوام کیئے زحمت بنا دیا ہے۔ نیوزلائن کے مطابق پنجاب کے دیگر شہروں کی طرح فیصل آباد میں بھی بپھرے بادل جم کر برس پڑے۔ موسلادھار بارش نے فیصل آباد میں’’ پانی پانی‘‘ کردیاہے ۔نشیبی علاقے ہی نہیں شہر کے مرزکی علاقوں میں بھی کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے ۔ بارش کے نتیجہ میں گلی محلے اور سڑکیں ندی نالوں کی شکل اختیار کر گئیں۔واسا حکام کی نااہلی کی بناء پر سیوریج لائنوں نے بارشی پانی کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔بلکہ گلیوں اور محلوں میں سیوریج ابلتے رہے اور بدبو دار پانی نے شہریوں کوشدید اذیت میں مبتلا کررکھا ہے۔ بلندبانگ دعووں کے باوجود واسا حکام اور فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ بارش کا پانی نکالنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ معطل مئیر رزاق ملک‘ سابق وائس چیئرمین واساعرفان منان‘ سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں سمیت ارکان اسمبلی کے اپنے رہائشی علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا حکمرانوں کی گڈ گورننس کا پول کھول رہا ہے۔ نور پور‘گرین ٹاؤن ‘جوہر کالونی‘ حاجی آباد‘ جمیل آباد‘ منصور آبادنشاط آباد‘ عبداللہ پور‘ غریب آباد‘ سرسید ٹاؤن‘ سمن آباد‘مومن آباد‘ ڈی ٹائپ کالونی‘ علامہ اقبال کالونی‘ وارث پورہ‘ ذوالفقار کالونی‘ الٰہی آباد‘ محمد آباد‘ ڈھڈی والا‘ مدینہ ٹاؤن‘ غلام محمد آباد‘ رضا آباد ‘ محمد پورہ‘پنج پیر ‘ اکبر آباد‘ گرین ویو کالونی سمیت شہر کے متعدد علاقوں میں بارش کے کئی گھنٹے بعد بھی گلیوں ‘ بازاروں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔واسا حکام مال روڈ‘ کلب روڈ‘ سرکاری تفریحی کلب ‘ سرکاری افسران کی کوٹھیوں کے اندر سے پانی نکالنے میں ہی سرگرم ہیں جبکہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔واسا حکام اور فیصل آباد انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت سے دلبرداشتہ عوام نے اپنے اپنے علاقوں میں چندہ مہم چلا کر کشتی سروس شروع کرنے یا گلیوں میں بورنگ کرکے پانی براہ راست زیر زمین ڈالنے کے منصوبے پر غور شروع کردیا ہے۔

Related posts