ہوش مندی، اچھا انجام ،بند کان اچھے نہ زبان بے لگام


گلوبل پِنڈ ( محمد نواز طاہر) پاکستان میڈیا انڈسٹری بحران کا شکار ہے ۔ بحران صرف کارکنوں کی چھانٹیوں سے واضح ہے، میڈیا مالکان کی کا کہنا ہے کہ ان کے اشتہارات روک لئے گئے ہیں جو مالی بحران کا باعث بنے ہیں اور وہ چھانٹیوں پر مجبور ہوئے جبکہ میڈیا کارکن یہ موقف ماننے کو تیار نہیں ، چھانٹیا ںبھی ہورہی ہیں اور ان چھانٹیوں پر میڈیا کارکن سراپا احتجاج بھی ہیں ۔ بنیادی طور پر احتجاج میڈیا مالکان کے خلاف ہے جس میں حکومت جزوی طور پر پارٹی ہے لیکن کچھ دنوں سے میڈیا مالکان سے زیادہ حکومت کے خلاف نعرے لگ رہے ہیں ، بظاہر عجیب بات ہے کہ جزوی پارٹی کلیدی فریق دکھائی دے رہی ہے اور مرکزی پارٹی نعرہ بازی میں ثانوی پوزیشن پر چلی گئی ہے ۔ ایسا کیوں ہے ؟ یہ بہر حال توجہ طلب ہے ۔۔
میڈیا مالکان کا موقف اس حد تک درست ہے کہ ان کے اشتہار کم ہوئے ہیں ، ان کے اشتہارات کے نرخ بھی کم ہوئے ہیں ، ،میڈیا ورکرز کا موقف ہے کہ اشتہارات بند نہیں ہوئے یہی حکومت کا موقف یہ کہ اشتہارات بند نہیں کئے گئے ۔
اشتہارات بند نہ کرنے کا حکومتی موقف درست ہے ، درحقیقت حکومت نے وہ خصوصی اشتہارات بند کیے ہیں جو ماضی میں حکمران ا پنی تشہیر کیلئے جاری کیا کرتے تھے ، معمول کے اشتہارات بند نہیں ہوئے ، میڈیا مالکان خصوصی تشہیری مہم شروع کروانا چاہتے ہیں ، اربوں روپے مالیت کے ان اشتہارات کے بل قومی خزانے سے ادا کیے جاتے ہیں جو حکومت بچا رہی ہے ، بحیثیت ایک شہری میں سمجھتا ہوں کہ قومی بچت کا جو راستہ بھی نظر آئے ، وہ اختیار ہونا چاہئے اور میں حکومتی اقدام سے متفق ہوں جبکہ میڈیا مالکان اور کچھ دیگر سٹیک ہولڈرز کے ماسوا بے شمار شہری بچت کے حامی ہیں ، اگر کوئی حامی نہیں ہے تو اشتہاررات کے شعبے میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین اور افسر ہیں جن کی غیر اعلانیہ کمیشن اور رشوت پر لات ماری گئی ہے اور وہ پیٹ پکڑ کر کراہ رہے ہیں ، اس کا اندازہ مجھے اسلام آباد میںجنوری کے آخری ہفتے میں ہوا جہاں ان ”بے چارے“ افسروں اور ملازمین کے آہیں ان ”صحافیوں ‘ سے سنیں جو ’پی آئی ڈی ‘ صحافی کہلاتے ہیں یعنی وہ شعبہ اشتہارات سے منسلک ہیں ، جنہیںملک بھر کے اخباری مالکان نے اسلام آباد میں اشتہارات کی کولیکشن کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے ، ان کی ذمے صرف سرکاری اداروں میں کچھ صاحبان کو بروقت سلام کہنا ہے ان میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو بیوروچیف کا عہدہ رکھتے ہیں ، ان کا بستہ ہی بیورو آفس ہے، کچھ سمجھدار مالکان ایسے بھی ہیں جنہوں نے ایک ایک کمرے کے آفس کم رہائش گاہ کا انتظام کررکھا ہے تاکہ جب وہ اسلام آباد جائیں تو ہوٹل میں رہائش کے پیسے بچ سکیں جبکہ ان مالکان کے زیادہ تر کام ہوتے ہی اسلام آباد میں ہیں جو انہوں نے اپنے علاقوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمنٹ کے ذریعے کروانے ہوتے ہیں اور دلچسپ بات ہے کہ میڈیا کے بحران میں’ پی آئی ڈی صحافی ‘ تمام کے تمام محفوظ رہے ہیں اور چھانٹیاں صرف ان کی ہوئی ہیں جو صحافتی پیشہ وارانہ فرائض انجام دے رہے ہیں گو یہ بھی میڈیا ورکرز ہیں ہیں اور کسی بھی میڈیا ورکر چھانٹی اچھا عمل قرار نہیں دیاجاسکتا ۔
حکومت ،میڈیا مالکان اور میڈیاورکرز میں بنیادی فریق مالکان اور کارکن ہیں ، ان دونوں میں حکومت پر کارکنوں کا دباﺅ ہے کہ وہ میڈیا مالکان کو کارکنوں کی چھانٹیاں روکنے اور واجبات کی ادائیگی کیلئے اپنی ریاستی ذمہ داری ادا کرے مگر حکومت اس کے لئے تیار نہیں جس کی وجہ سے حکومت ورکرز کی حمایت کھو چکی ، دوئم حکومت نے میڈیا مالکان کو بعض مدوں میں رعائتیں بھی دی ہیں اور سابق حکومت کے جاری کردہ اشتہارات کے واجبات ادا کرنے کی یقین دہانی کروادی ہے اور کارکن سڑکوں پر احتجاج کیلئے رہ گئے اور حکومت کیلئے بھی نعرہ لگانے پر مجبور ہوگئے ، اسی دوران حکومتی شخصیات کا بھی ایسا کردار سامنے آیا کہ کارکنوں کا غصہ ابل پڑا ، یعنی وزیر اعظم اگر میڈیا مالکان سے یہ کہے کہ آپ سٹاف کے متحمل نہیں تو سٹاف کم کردیں تو کیا وزیر اعظم کی حمایت کی جائے گی یا اس کے خلاف نعرہ لگایا جائے گا ، وزیر اطلاعات میڈیا کارکنوں کے نمائندوں کو گھنٹون بٹھا کر انتظار کروائے اور پھر لفٹ نہ کروائے تو میڈیا کارکن وزیر اطلاعات کے اس رویے کا کیا مطلب اخذکریں گے ؟ یہی کہ میڈیا مالکان اور حکوعمت ایک ہیں اور ان دونوں کے سامنے کارکن ایک پارٹی ہیں ۔
ان حالات میں کارکن میڈیا مالکان کے ساتھ ساتھ حکومت کیخلاف بھی نعرے نہ لگائیں تو دوسرا راستہ کونسا ہے ؟ میڈیا مالکان کے خلاف احتجاج سوشل میڈیا پر دکھائی دیتا ہے جسے دیکھنے والوں کی تعداد کم ہے لیکن جب کسی حکومتی شخصیت کے سامنے آواز بلند کی جاتی ہے اور احتجاج کیا جاتا ہے تو حکومتی مخالفین بھی یہ پوسٹیں شیئر کرتے ہیں جس پر حکومت اور اس کے حامیوں کی چیخیں نکلتی ہیں ۔ اس سارے عمل میں میڈیا مالکان عقلمندی سے ثانوی حیثیت اختیار کرگئے ہیں اور حکومت اپنی عاقبت نا اندیشی کے وجہ سے خود کو فرنٹ پر لے آئی ہے ۔
اب اسی ماہ کے آواخر میں اسلام آباد میں دھرنا اور دما دم مست قلندر ہوگا تو اس کا سام،نا کون کرے گا ؟ میڈیا مالکان یا حکومت ۔۔؟ اگر حکومت طاقت کے بل پر جیسا کہ اس سے توقع کی جاسکتی ہے ، اس احتجاج کو روکے گی تو نتائج کوون بھگتے گا ؟ ظاہر ہے کہ جو احتجاج کے لئے نکلیں گے تو روکے جانے پر ریاستی تشدد بھی برداشت کریں گے کیا مقامی میڈیا مالکان کی طرح عالمی میڈیا اس ریاستی تشدد کر نظر انداز کردے گا ؟ پھر ایسے حالات میں جبکہ صرف میڈیا ورکرز ہی نہیں سول سوسائٹی اور مزدور تنظیمیں بھی کارکنوں کے ساتھ ہونگی تو ریاستی تشدد کی صورت میں یہ احتجاج شہر شہر گلی گلی نہیں پھیلے گا ؟ کوئی میڈیا ما لک تو یہ احتجاج نہیں روک پائے گا اور کسی میڈیا مالک کےا یہ خیال ہے کہ وہی طرم خان ہے اور جس طرح اس کے دباﺅ کی وجہ سے دو ایک اداروں نے مجبوری میں ظاہری طور پر کارکنوں کی تنخواہ میں کٹ لگایا ہے ، اسی طرح حکومت سے ملک بھر میں پھیلتے احتجاج کو ڈنڈے کے زور پر ر کوا لے گا تو یہ خیال سرے سے ہی باطل ہے ، اگر اس طرم خاں کا یہ بھی خیال ہے کہ اس کا کوئی زرخرید ’لیڈر‘ اس کے کام آئے گا اور احتجاج کا رخ کسی اور سمت موڑنے یا اسے ختم کروانے کے کام آئے گا تو یہ خیال بھی قطعی طور پر باطل ہے ، بہتر یہ ہوگا کہ حکومت میڈیا کارکنوں کے مطالبے کے مطابق چھانٹیاں کرنے اور تنخواہوں پر کٹ لگانے والے میڈییا کے سرکاری اشتہارات فوری طور پر بند کردے ، جو ادارے بند کردئے گئے ہیں اور کے لائسنس اور ڈیکلریشن منسوخ کرکے نیلام کر کے بے روزگار ہونے والے کارکنوں میں تقسیم کردے ، جب تک برطرف کئے گئے کارکن بحال نہیں ہوتے تب تک اشتہارات بند رکھے جائیں ، نکوسا ( نیوز پیپرز ایمپلائیز سروس اینڈ کنڈیشنز آف سروس ایکٹ ( نکوسا) کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کیخلاف کارروائی عمل میں لائے ان پر اس پیشے سے متعلق ہر قسم کا کاروبار کرنے پر پابندی لگائے اور جو ادارے اس قانون کا احترام کریں انہیں سرکاری اشتہارات جاری کرے ،
، کیا حکومت یہ نہیں جانتی کہ کسی اشاعتی اور نشریاتی ادارے کا سرکاری اشتہارات جاری کرنے کی وہ قطعی طور پر پابند نہیں ؟ حکومت کچھ امور کی تشہیر کی پابند ہے جس کیلئے اس کے پاس ریڈیا پوکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن موجود ہیں ا اور جو اربوں روپے کے اشتہارات اخبارات کو جاری کرتی ہے اس سے کہیں کم لاگت سے ملک کے تمام شہروں سے انگریزی ، اردو اور مقامی زبانوں میں سرکاری اخبارات بھی شائع کیے جاسکتے ہیں ، اس مظبوط ریاستی میڈیا کی موجوجودگی میں نجی میڈیا مالکان کی بلیک میلنگ کا راستہ خود ہی بند ہوجائے گا اور جس نے یہ کاروبار کرنا ہوگا وہ پیشہ وارانہ مقابلہ کرلے ، جب پیشہ وارانہ مقابلہ کرے گا تو پیشہ وارانہ مہارت رکھنے والے کارکن بے روزگاری سے بچ جائیں گے ۔ یہی صاف ستھری صحافت کا آسان راستہ ہے ، جو آج کی اپوزیشن اور کل کی حکومت اور آج کی حکومت اور کل کی اپوزیشن کیلئے سود مند ہے جبکہ عام آدمی کو بھی جانبدارنہ آلودگی سے پاک اخبار اور سکرین دستیاب ہوگی آلودہ سکرین سے نجات مل جائے گی ۔
اپنے میڈیا کارکن بھائیوں سے بھی التماس ہے کہ حکومت ہمارا ہدف صرف حکومت نہیں اپنے معاشی قتل کے خلاف احتجاج ہے ، ہم نے اپنے ساتھیوں کی بحالی کروانی ہے ، حکومت کے ساتھ جنگ نہیں لڑنی ، اس احتجاج میں کارکنوں کی بحالی پر فوکس کیا جائے نہ کہ حکومت کو ہی نشانہ بنا کر اصل راستہ چھوڑ کر دوسری پگڈنڈی پر ہو لیں ، ہمیں کچھ ہوش مندی کی ضرورت بھی ہے ۔

Related posts