یوم دفاع …. ہمیں پیار ہے پاکستان سے – تحریر: سبحان علی



چھے ستمبر ہماری قومی و عسکری تاریخ کا انتہائی اہم اور یاد گار دن ہے جو ہمیں ان ایام کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان کی بہادر فوج اور پوری قوم نے متحد ہو کر بھارتی جارحیت کے خلاف اپنی آزادی اور قومی وقار کا دفاع کیاتھا اور یہ وہ موقع تھا جب پاکستانی قوم نے اپنی مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ کیا اور ایسے مشترکہ جدوجہد کی جو آنے والی نسلوں کے لئے ہمیشہ مشعل راہ کا کام کرتی رہے گی ۔ یوں تو ہم ہر سال یوم دفاع روایتی طور پر مناتے ہیں تاکہ جنگ ستمبر کے ان لازوال لمحوں کو یاد کیا جائے جس میں پاک افواج نے جرات و بہادری اور قربانیوں کی شاندار داستان رقم کی ۔ زندہ اور بیدار قومیں اپنی قومی تاریخ کے یاد گار دنوں کو بڑے جوش و جذبے اور پر عزم انداز میں مناتی ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو بھی ان اہم قومی دنوں اورمعرکوں سے مکمل آگاہی اور آشنائی رہے ۔ وہی قومیں دنیا میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہیں جو اپنا بھر پور دفاع کرنا جانتی ہیں اس بار یوم دفاع کو روایتی انداز کے برعکس منفرد انداز سے منانے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس کے گہرے اثرات پوری قوم پر مرتب ہونگے کیونکہ ہم نئے عزم اور ولولے سے شہدائے پاکستان اور ان کے خاندانوں سے اظہار یکجہتی کریں گے تاکہ آنے والے وقت میں بھی ہم متحد ہو کر کسی بھی جارحیت یا مشکلات کا مقابلہ کرنے کا پختہ عہد کریں ۔ عسکری ادارے کی طرف سے یوم دفاع کا تھیم ’’ ہمیں پیار ہے پاکستان سے ‘‘ بڑی کشش اور قومی جذبات کا حامل ہے جو حب الوطنی کو مزید ابھارنے کا شاندار ذریعہ ہے جس کے باعث یوم دفاع ہماری قومی یکجہتی کے لئے پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔پاکستان کا تحفظ ہماری قومی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور اس اہم اور ترجیحی ذمہ داری کو نبھانے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ یہ ذمہ داری ہمارے بزرگوں اور پاک فوج کے جوانوں نے شاندار انداز میں نبھائی ہے لیکن اب دفاع پاکستان کی ذمہ داری نبھانے کی ہماری باری ہے ۔ لہذا اندرونی و بیرونی محاذ پر اپنی دھرتی کی حفاظت کے لئے اس ایمانی قوت اور قومی جذبے سے اپنے فرائض انجام دینے کے لئے تیار رہیں اور ثابت کر دیں کہ جو زمین شہید کے لہو سے سیراب ہوتی ہے وہ بڑی زرخیز اور شاداب ہوتی ہے اس کے سپوت اپنی دھرتی کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو توڑنے اور ہر میلی آنکھ کو پھوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ہم جان قربان کر دیں گے لیکن وطن عزیز پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ اگرچہ جنگ ستمبر نے پاکستان کی عسکری تاریخ میں وہ گہرے نقوش چھوڑے ہیں جن سے قربانیوں کی انمنٹ یادیں وابستہ ہیں ۔ پاکستانی فوج کے شیر دل جوان اپنے جسموں پر بارود باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے جو جہاد اور ایمانی قوت کا بے مثال مظاہرہ تھا لیکن یہ جذبہ اب بھی قائم و دائم ہے اور مسلح افواج سرحدوں کے علاوہ داخلی محاذ پر بھی دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر ہے اور وطن کی حفاظت کے لئے ہر روز قربانیاں پیش کی جارہی ہیں ۔ 6 ستمبر 1965 ء جہاں پاکستانی قوم کے لئے بڑی آزمائش کا دن تھا وہاں ہر پاکستان کی جری ‘ نڈر اور بہادر افواج کے لئے انتہائی کڑا وقت تھا لیکن پوری قوم اور پاک فوج کے افسروں و جوانوں نے باہم مل کر رفاقت کے سچے جذبوں کے ساتھ بزدل اور مکار و عیار دشمنوں کے ناپاک اور گھناؤنے عزائم کو خاک میں ملا دیا تھا ۔ ان فرزندان پاکستان کی بے مثال اور لاوزال قربانیوں کی بدولت آج ہمیں تاریخ میں ایک باوقار مقام حاصل ہے ۔ یوم دفاع ہماری جنگی تاریخ میں زریں باب ہے اور ہم ہر سال اس تاریخی دن کی یاد اس لئے مناتے ہیں تاکہ قومی یکجہتی کے اس زبردست مظاہرے اور جرات و عظمتوں کے درخشندہ کارناموں کی یاد تازہ کی جائے ۔اس بار یوم دفاع کو پاک فوج کے شہداء کے ساتھ ساتھ رینجر ‘ پولیس اور سول سوسائٹی کے شہداء کی یاد منانے کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قوم کو درپیش دیگر مشکلات حالات میں افواج پاکستان کے ساتھ رینجر ‘ پولیس دیگر اداروں اور سول سوسائٹی کے افراد نے بھی وطن کی خاطر جانیں قربان کی ہیں ۔ قوم ان شہداء کے خاندانوں کے احسان کبھی نہیں بھلا سکتی کیونکہ دھرتی کے ان سپوتوں نے ملک و قوم کی حفاظت کے لئے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے یہی وجہ ہے کہ پوری قوم نہ صرف ان کی لازوال اور گرانقدر قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے بلکہ شہداء کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا ۔ یوم دفاع کے موقع پر ہم آرمی پبلک سکول کے ننھے شہدا کو بھی نہیں بھول سکتے جو ابھی کچی کلیاں تھیں جنہوں نے پھول بن کر پاکستان کے گلشن کو مہکانا تھا۔ ظالموں نے بڑی بیدردی اور سفاکی سے ان ننھے مجاہدوں کو شہید کیا جو پاکستان کی خدمت کا عزم اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے تھے ۔ قوم ان بچوں کے والدین کو بھی سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے وطن عزیز کی خاطر اپنے بچوں کو قربان کر دیا ۔ ملک و قوم کی حفاظت ‘ تحفظ اور سلامتی کی جنگ کرنے والے سرکفن سپاہی شہادت کا رتبہ حاصل کرکے ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتے ہیں لیکن اس جہاد میں کچھ غازی بن کر سرخرو ہو جاتے ہیں ۔ قوم اپنے ان غازیوں کو بھی کبھی فراموش نہیں کرے گی بلکہ انہیں معاشرے میں اعلی عزت و مقام فراہم کی جارہا ہے ۔ عسکری ادارے کے فیصلے اور تحریک پر عمل کرتے ہوئے پاکستانی قوم ’’ ہمیں پیار ہے پاکستان سے ‘‘ کے تھیم کو اپنی قومی زندگی کا نصب العین سمجھتی ہے یہی وجہ ہے کہ یوم دفاع میں وہ نئی روح پھونکی گئی ہے جو عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہنے کی قومی خواہش کی غماز ہے ۔ 6 ستمبر کا دن ہماری قومی اور عسکری تاریخ میں ایک ایسے نئے باپ کا آغاز ثابت ہوا ہے جو اب سرحدی تحفظ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی قومی عزم کو مزید مستحکم کررہا ہے ۔ پاک افواج کو دنیا کی دوسری افواج کے لحاظ سے برتری اور فوقیت حاصل رہی ہے اس نے انتہائی کٹھن اور نامساعد حالات میں سازشوں کے باوجود اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی بجاء آوری میں غیر معمولی جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناممکن کو ممکن کر کھایا جس میں عسکری مہارت اور تربیت کے ساتھ جذبہ جہاد اور قوت ایمانی کا ہتھیار سب سے موثر اورکارگر رہا ہے ۔ اﷲ تعالی نے ہمارے عسکری جوانوں اور افسران کو قوت ایمانی کی جس دولت سے نواز رکھا ہے اس سے دشمن ہر وقت لرزاں اور خوفزدہ رہتا ہے جس پر پوری قوم کا سرفخر سے بلند ہے ۔تحریر: سبحان علی

Related posts