ایک لفظ بولے بغیر مشرف کی ”اصلی” جمہوریت کا فلسفہ سمجھا دیا

شمس الاسلام ناز کی یاد میں۔۔۔۔قسط نمبر چار مجھے بال کی کھال اتارنے اور ایشوز پر سوچنے کی عادت شمس الاسلام ناز نے ڈالی۔وہ مجھے سمجھانے کیلئے سوال پر سوال کرتے ۔ پھر میرے دئیے گئے جوابات کے باری باری جواب دیتے۔ معاملات کو گہرائی تک سوچنے اور پس منظر و پیش منظر کے تناظر میں سوچنے کی تلقین ۔ اس کا اغاز بھی انتہائی دلچسپ انداز میں ہوا۔ مرحوم غلام محی الدین میرا پہلی ملاقات سے ہی دوست بن گیا تھا۔ مجھے چھوٹے بھائیوں کی طرح سمجھنے لگا۔ پریس…

Read More