تحریک انصاف کے عارف علوی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر منتخب


اسلام آباد (نیوز لائن) پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی واضح اکثریت سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 13ویں صدر منتخب ہوگئے ۔ صدر مملکت کیلئے تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی، پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن اور متحدہ اپوزیشن کے امیدوار مولانا فضل الرحمان کے درمیان مقابلہ تھا۔غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریکِ انصاف کے امیدوار عارف علوی 353 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے پاکستان کے تیرہویں صدر منتخب ہو گئے ۔ متحدہ اپوزیشن کے امیدوار مولانا فضل الرحمان کو 185 اور پیپلز پارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن کو 124 الیکٹورل ووٹ ملے ۔ صدارتی انتخاب کیلئے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صبح 10 بجے پولنگ شروع ہوئی جو بلاتعطل شام 4 بجے تک جاری رہی۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریٹرننگ افسر کے فرائض انجام دیئے ۔ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور سینٹ و قومی اسمبلی میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے پریزائیڈنگ آفیسر کی ذمہ داریاں سر انجام دیں۔ صدارتی انتخابات کیلئے پانچ پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے جبکہ پارلیمنٹ ہائوس میں تین پولنگ بوتھ بنائے گئے تھے ۔ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے تمام ممبران کے پاس متعلقہ اسمبلی کے شناختی کارڈ کی موجودگی کو لازمی جبکہ کسی کو بھی موبائل فون ساتھ لانے پر پابندی لگائی گئی تھی۔وزیراعظم عمران خان پولنگ ٹائم کے آخری گھنٹے میں اسمبلی ہال پہنچے اور ووٹ کاسٹ کیا۔ اعتزاز احسن اور مولانا فضل الرحمان اسمبلی یا سینٹ کے رکن نہ ہونے کی وجہ سے خود کو ووٹ نہیں ڈال سکے اور صرف عارف علوی نے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے ووٹ کاسٹ کیا۔غیر سرکاری نتائج کے مطابق عارف علوی کو پارلیمنٹ سے 212، پنجاب اسمبلی سے 186، بلوچستان اسمبلی سے 45، خیبر پختونخوا اسمبلی سے 78 جبکہ سندھ اسمبلی سے 56 ووٹ ملے ۔پارلیمنٹ میں پولنگ کے دوران 432 میں سے 424 ووٹ کاسٹ ہوئے ، 6 ووٹ مسترد ہوئے جبکہ دو ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔ عارف علوی نے 212، مولانا فضل الرحمان نے 131 اور اعتزاز احسن نے 81 ووٹ حاصل کئے ۔ پنجاب اسمبلی میں 354 میں سے 351 ارکان نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ 18 ووٹ مسترد قرار دئیے گئے ۔ ن لیگ کے چودھری اشرف اور علی عباس جبکہ ق لیگ کی بسمہ ریاض نے ووٹ نہیں ڈالا۔ عارف علوی کو186،مولانا فضل الرحمان کو141جبکہ اعتزاز احسن کو 6ووٹ ملے ۔ الیکٹورل کالج کے تناسب سے پنجاب اسمبلی سے عارف علوی کو 33، مولانا فضل الرحمان کو 25 اور اعتزاز احسن کو ایک ووٹ ملا۔ سندھ اسمبلی میں 163 میں سے 158 ووٹ کاسٹ ہوئے اور ایک ووٹ مسترد ہوا جبکہ 5 اراکین نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔سندھ اسمبلی میں اعتزاز احسن کو 100 ، عارف علوی کو 56 جبکہ مولانا فضل الرحمان کو ایک ووٹ ملا۔ انتخابی فارمولے کے تحت سندھ اسمبلی میں اعتزاز احسن نے 39اور عارف علوی نے 22 ووٹ حاصل کئے ۔بلوچستان اسمبلی میں 61 میں سے 60 اراکین نے ووٹ کاسٹ کئے اور ایک رکن نواب ثناء اﷲ زہری نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔بلوچستان اسمبلی میں عارف علوی نے 45اور مولانا فضل الرحمان نے 15 ووٹ حاصل کئے جبکہ اعتزاز احسن کو کوئی ووٹ نہ ملا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کے 112 میں سے 111 ارکان نے ووٹ ڈالے ، آزاد رکن اسمبلی امجد آفریدی نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں عارف علوی نے 78، مولانا فضل الرحمان نے 26 اور اعتزاز احسن نے 5 ووٹ حاصل کئے ۔صدارتی انتخاب کے فارمولے کے تحت پی ٹی آئی امیدوار عارف علوی کو 41، مولانا فضل الرحمان کو 13 اور اعتزاز احسن کو 2 ووٹ ملے ۔ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق صدارتی انتخاب کے الیکٹورل کالج میں نشستوں کی تعداد1174 تھی،52 نشستیں خالی ہیں۔صدارتی انتخاب میں کل ووٹرز کی تعداد1122 تھی،1110 ووٹرز نے ووٹ کاسٹ کئے ۔ 27 ووٹ مسترد ہوئے ۔ صدارتی انتخاب میں غلط نشان لگانے کی وجہ سے ارکان قومی اسمبلی اور سینٹ کے 6 ووٹ مسترد ہوئے ، 2 ارکان نے ووٹ نہیں ڈالے جن میں ایک سینیٹر اور ایک رکن قومی اسمبلی ہیں۔ ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن حتمی نتیجے کا اعلان آج کرے گا۔یادرہے صدر مملکت ممنون حسین کی مدت صدارت 8 ستمبر کو ختم ہورہی ہے اور نومنتخب صدر ڈاکٹر عارف علوی 9 ستمبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ۔صدر منتخب ہونے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عارف علوی نے کہا کہ کامیابی پر اﷲ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہوں اور احسان مند ہوں، آج پی ٹی آئی کا نامزد امیدوار صدارت پر کامیاب ہوا، عمران خان کا مشکور ہوں کہ انہوں نے بڑی ذمہ داری پر نامزد کیا، دعا کرتا ہوں اﷲ میری مدد کرے ۔عارف علوی نے کہا کہ آج منتخب ہونے کے بعد صرف پی ٹی آئی کا صدر نہیں، سارے پاکستان کا صدر بننے کی کوشش کروں گا، میں ساری قوم کا صدر ہوں۔ تمام جماعتوں اور ہر جماعت کا صدر ہوں، ہر پارٹی کا ایک سا حق مجھ پر ہے ۔ آئین اور قانون کے مطابق چلوں گا۔نومنتخب صدر مملکت کا کہنا تھا کہ قوم جس انداز سے جاگی ہے وہ فلاح اور کرپشن کا خاتمہ چاہتی ہے ، ہر آدمی کی دہلیز تک انصاف آنا چاہئے ، بیمار کا علاج ہونا چاہئے ، بیروزگاروں کو روزی ملنی چاہئے اور سکولوں سے باہر کروڑوں بچوں کو تعلیم ملنی چاہئے ، یہ سب آئین وعدہ کرتا ہے اور آئین کے اعتبار سے صدر بھی وعدہ کرتا ہے ۔انہوں نے کہا میری کامیابی میں میرا کوئی کمال نہیں، یہ سالوں سے جدوجہد کرنے والے میرے ساتھیوں کا کمال ہے یہ ان کا تاج ہے ، اپنے سارے ووٹرز کا مشکور ہوں جنہوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ دعا کرتا ہوں ان 5 سالوں کے دوران غریب کی قسمت بدلے ، اس کے تن پر کپڑا ہو، سر پر چھت اور روزگار ہو۔ بیروزگاری کیلئے پی ٹی آئی کا پیغام حکومت کا پیغام بن گیا ہے ۔ بطور صدر ایوان صدر میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ لاجز میں رہوں گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو تقریب حلف برداری میں ضرور مدعو کیا جائے گا۔قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عارف علوی نے کہا کہ پاکستان کی خدمت کیلئے عمران خان نے صدر نامزد کیا ہے ۔ آج ملک جس نہج پر پہنچ چکا ہے اسے آئینی دائرکار میں رہ کر مشکل حالات سے نکالنے کی پوری کوشش کروں گا کیونکہ میں خاموش صدر رہوں گا اور نہ ہی کسی ایک پارٹی کا دفاع کروں گا ۔ صدر منتخب ہوتے ہی تمام پارٹی عہدوں سے مستعفی ہوجاؤں گا اور سب سے پہلے اپنے گھر کی ڈرینج ٹھیک کراؤں گا کیونکہ میرے بیڈ روم میں پانی کھڑا ہے اس کے بعد ایوان صدر جاکر ملکی حالت سنبھالوں گا ۔

Related posts