فیصل آباد کے80فیصد سکولوں میں بچے کھلے آسمان تلے پڑھنے پرمجبور


فیصل آباد(احمد یٰسین)شہباز شریف حکومت دس سال کے اقتدار میں بھی صوبے کے دوسرے بڑے شہر کے کی سکولوں کی حالت زار سنوارنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔فیصل آباد کے 1858سکولوں میں 6481کلاس رومز کی کمی ہے اور بچے کھلے آسمان تلے کلاس لینے پر مجبور ہیں۔ گرمیوں میں درختوں کی چھاؤں اور سردیوں میں دھوپ ہی بچوں سہارا اور موسم کی شدت سے بچانے کا موجب ہوتی ہے۔نیوزلائن کے مطابق ملک کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں سرکاری سکولوں کی حالت زار انتہائی دگرگوں ہے۔ سکولوں کی خستہ حالی کا نوحہ کسی این جی او یا غیر متعلقہ ادارے نے نہیں پڑھا بلکہ خود پنجاب حکومت کے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اعدادوشمار برسراقتدار شخصیات کی ترجیحات اور دس سالہ کارکردگی کا پول کھول رہے ہیں۔ پنجاب حکومت کے اپنے سروے میں سامنے آیا ہے کہ فیصل آباد کے 2325سکولوں میں سے محض 467 سکولوں میں کلاس روم کی تعداد سکیشنز کے لحاظ سے پوری ہے۔ باقی ساڑھے اٹھارہ سو سے زائد سکولوں میں کلاس رومز کی شدید کمی ہے اور بچوں کو کھلے آسمان تلے زیور علم حاصل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بارش کے موسم میں بچوں کی چھٹی پکی ہوتی ہے یا انہیں دوسری کلاسز کیساتھ ہی بیٹھ کر گپیں ہانکنے کا موقع مل جاتا ہے۔اپنی ’’اعلیٰ ‘‘کارکردگی ظاہر کرنے کے جنون میں مبتلا سی ای او ایجوکیشن ‘ ڈی اوز اور اے ای اوز کو بھی یہ کلاس رومز کی کمی کا شکار سکول نظر نہیں آتی ان میں سے سینکڑوں سکول تو ایسے ہیں جہاں مدت سے کسی ’’افسر‘‘ نے وزٹ تک نہیں کیا۔پنجاب حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق سب سے خراب حالت پرائمری سکولوں کی ہے۔فیصل آباد کے کلاس رومز کی کمی کا شکار سکولوں میں سے 1162پرائمری سکول ہیں۔355 مڈل‘ 317ہائی اور 24ہائیر سیکنڈری سکولوں میں بھی کلاس رومز مطلوبہ تعداد کے مطابق نہیں ہیں۔ایک سکول تو ایسے ہیں کہ جہاں سرے سے کوئی قابل استعمال کلاس روم نہیں ہے یا سارے کا سارا سکول ایک ہی کلاس روم پر گزارا کر رہا ہے۔یہ سارے کے سارے پرائمری نہیں بلکہ ہائی اور مڈل سکول بھی اس خستہ حال حالات میں بچوں کا واحد سہارا ہیں۔کلاس رومز کی کمی کا شکار سکولوں میں ایم سی اور کمیونٹی سکول ہی نہیں بلکہ پنجاب گورنمنٹ کے ڈائریکٹ کنٹرول کے سکول بھی خستہ حالی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔پنجاب حکومت کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ فیصل آباد کے 2325سکولوں میں 20ہزار890کلاس رومز کی ضرورت ہے مگر 15055کلاس روم موجود ہیں۔ ان میں سے بھی 646کلاس روم اتنے خستہ حال ہیں کہ انہیں استعمال کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک دہائی سے سرکاری سکولوں کی حالت زار سنوارنے اور کلاس رومز کی کمی کو پورا کرے کیلئے کوئی میگا منصوبہ حکومت نے بنایا ہی نہیں جس کی وجہ سے پہلے سے کلاس رومز کی کمی کا شکار سرکاری سکولوں میں حالات مزید ابتر ہوتے گئے۔کلاس رومز کی کمی کا شکار تمام سکول ضلع کے دور دراز علاقوں میں واقع نہیں ہیں بلکہ شہر کے مرکزی علاقوں کے سکولوں کی حالت زار بھی قابل دید نہیں ہے۔گزشتہ دس سالوں کے دوران پنجاب کے ایوان اقتدار پر براجمان دوسری طاقتور ترین شخصیت وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں کے حلقے کے بیس سکول بھی کلاس رومز کی کمی شکار ہیں۔سکولوں کی حالت زار اور بچوں کو کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کئے جانے سے پنجاب حکومت کی دس سالوں کے دوران تعلیم بطور ترجیح کا واضح ثبوت فراہم کررہی ہے۔

Related posts

Leave a Comment