کوئی قانون نہ قاعدہ: فیصل آباد میں ’’دڑبہ‘‘ سکولوں کی بھرمار


فیصل آباد(نیوزلائن) ضلعی انتظامیہ اور ایجوکیشن حکام کی غفلت ‘ لاپرواہی اور تعلیمی نظام بارے غیرسنجیدگی کی وجہ سے فیصل آباد میں دڑبہ نما سکولوں کی بھرمار ہے۔ جہاں بچے کو تعلیم دی جاتی ہے نہ تربیت‘ اساتذہ اعلیٰ تو ایک طرف معمولی تعلیم یافتہ بھی نہیں ہیں۔ان دڑبہ سکولوں کے بچوں کو سہولیات حاصل ہیں اور نہ اساتذہ کوکسی قسم کا کوئی حق دیا جا رہا ہے۔سکول رجسٹریشن قوانین کھلے عام روندے جا رہے ہیں اور فیصل آباد ایجوکیشن اتھارٹی منہ اٹھائے دیکھنے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہی۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں ساڑھے4 ہزار سے زائد پرائیویٹ سکول قواعدو ضوابط سے ہٹ کر بنائے گئے ہیں ۔ یہ سکول رہائشی مکانوں میں بنائے گئے ہیں اور رہائشی گھروں کو سکول کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔سکولوں میں چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں اور فرنیچر بھی برائے نام ہے۔ 95فیصد پرائیویٹ سکولوں میں پلے گراؤنڈ اور باغیچے نام کی کوئی چیز پائی ہی نہیں جاتی۔ان سکولوں کا ماحول انتہائی غیر صحتمندانہ اور معیار تعلیم دگرگوں ہے۔ان دڑبہ سکولوں میں انتہائی نامناسب تنخواہ پر غیر تربیت یافتہ ‘ معمولی تعلیم یافتہ لڑکیوں کو بطور استاد رکھا گیا ہے جن کا سٹیٹس ہر وقت سوالیہ نشان رہتا ہے۔ دڑبہ سکولوں کی بھرمار کی وجہ سے ڈگری کا معیار ہے نہ تعلیم کا۔ شرح خواندگی میں اضافہ کے باوجود بھی معیار علم میں مسلسل کمی کی ایک بڑی وجہ یہ دڑبہ سکول بھی قرار دئیے جا چکے ہیں۔

Related posts

Leave a Comment