فیصل آباد میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے اور سرگرمیوں کا انکشاف


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد میں دہشت گردوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ دہشت گرد شہر کے مختلف علاقوں میں بھاری اسلحے سمیت دندناتے پھرتے ہیں۔ پولیس ‘ ایلیٹ فورس ‘ حساس ادارے ‘ ان کی سرگرمیاں مانیٹر کرنے اور روکنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں جبکہ سپیشل برانچ اور پولیس کا انٹیلی جنس ونگ دہشت گردوں کی شہر میں سرگرمیوں کی رپورٹس حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔سی ٹی ڈی نے شہر میں کھلے عام دندناتے پھرتے دہشت گردوں میں سے سات کو دو مختلف واقعات میں مار دیاتاہم پانچ سی ٹی ڈی کے بھی ہاتھ نہیں آئے اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔نیوزلائن کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کی جڑیں انتہائی گہری ہیں اور متعدد اہم شخصیات کے دہشت گردی میں ملوث عناصر کیساتھ گہرے تعلقات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔افواج پاکستان نے وزیرستان اور دیگر علاقوں میں آپریشن شروع کیا تودہشت گردوں کے خلاف بڑی کامیابیاں سمیٹنے میں کامیاب رہی مگر ساتھ ہی انتہا پسندوں اور کالعدم تنظیموں کے لوگوں کے وہاں سے فرار ہو کر پنجاب میں جمع ہونے کی رپورٹس سامنے آئیں تاہم پنجاب حکومت مسلسل انکاری رہی ہے کہ پنجاب میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں اور نہ ہی دہشت گردیہاں کسی قسم کی سرگرمی کر رہے ہیں۔مگر اب پنجاب حکومت کی اپنی ہی سرکاری رپورٹس نے پنجاب حکومت کے مسلسل کئے جانے والے دعووں کی خودہی نفی کر دی ہے۔پنجاب کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی ثابت کر رہے ہیں۔تازہ ترین رپورٹس میں سامنے آیا ہے کہ صوبے کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد میں دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے ایجنٹوں کے خفیہ ٹھکانے موجود ہیں اور وہ یہاں سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں۔ رپورٹس میں سامنے آیا ہے کہ دہشت گرد فیصل آباد میں کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں ۔ شہر کی مختلف سڑکوں پر دہشت گردوں کے موٹرسائیکلوں پر پھرنے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ دہشت گرد کلاشنکوفوں اور دھماکہ خیز مواد سے لیس ہو کر موٹر سائیکلوں پر ہی شہر کے مختلف علاقوں میں دندناتے پھرتے ہیں۔ مقامی پولیس ‘ سپیشل گشت کرنیوالے اہلکار‘ یو سی سکواڈ‘ ڈولفن فورس‘ ایلیٹ فورس‘ کیوئیک رسپانس فورس بھی بھاری اسلحہ سے لیس ہو کر شہر میں موٹر سائیکلوں پر دندناتے پھرتے دہشت گردوں کیخلاف کوئی کارروائی کرنے‘ ان کی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ سپیشل برانچ اور مختلف تھانوں کے سکیورٹی و انٹیلی جنس ڈیوٹی پر تعینات اہلکار بھی شہر میں دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کے کھلے عام بھاری اسلحہ کیساتھ متحرک رہنے کے حوالے سے بے خبر رہے ۔سی ٹی ڈی نے ایک ہفتے کے دوران شہر کی دو مختلف مصروف سڑکوں پر دہشت گردوں کا سراغ لگایا اور بھاری اسلحہ لے کر موٹر سائیکلوں پر پھرتے ہوئے انہیں دھر لیا۔ دونوں واقعات میں سی ٹی ڈی سکواڈ نے سات دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تاہم رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پانچ دہشت گرد فرار ہو گئے۔ فیصل آباد اگرچہ پاکستان کا پرامن شہر ہے مگرماضی میں بھی یہاں سے القاعدہ کے اہم رہنما اور کالعدم تنظیموں کے افراد گرفتار ہوتے رہے ہیں۔جی سی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر مدثر کے بیٹوں کو حراست میں لینے کا معاملہ ہو یا ڈاکٹر طاہر کے بیٹوں اورمقتول مسلم لیگی رہنما علی اصغر بھولا گجر کے قریبی عزیز باسط کو حراست میں رکھنے کا ایشو ہو سب ہی ریکارڈ پر موجود ہیں۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو بھی اغواء کے بعد کئی روز تک فیصل آباد میں رکھے جانے کی رپورٹ سامنے آ چکی ہے ایسا ہی انکشاف سابق گورنر سلمان تاثیر کے حوالے سے ہے کہ ان کو بھی اغواء کے بعد فیصل آباد میں ہی رکھا گیا تھا۔سی ٹی ڈی کی رپورٹس میں دہشت گردوں کے فیصل آباد میں موجود ہونے اور یوں کھلے عام شہر میں سرگرم ہونے کی اطلاعات سامنے آنے پر عوامی سطح شدید تشویش پائی جاتی ہے جبکہ پانچ دہشت گردوں کے سی ٹی ڈی کے ہاتھوں بچ کر فرار ہونے کی رپورٹس نے عوامی تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

Related posts

Leave a Comment