قانون نظرانداز:پنجاب فوڈ اتھارٹی ’’ماماجی کی عدالتیں‘‘ لگانے لگی


فیصل آباد(نیوزلائن)پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسران قانون کے مطابق کارروائیاں کرنے کی بجائے اپنے ہی من گھڑت اور آمرانہ طریقہ کار کے مطابق ایکشن کرنے میں مگن ہیں۔قانون کے مطابق نمونے لیبارٹری کو بھجوانے اور لیبارٹری رپورٹس فوڈ کورٹ کو بھجوا کر عدالت سے سزائیں دلوانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں ۔اور قانون کی ابجد سے بھی ناواقف یہ فوڈ اتھارٹی ’’افسران‘‘ موقع پر ’’ماماجی کی عدالت‘‘ سجانا ‘ پولیس کے انداز میں شہریوں کی تذلیل کرنا اور آمرانہ طریقے سے موقع پر سزائیں سنانا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حکام نے قانون کے مطابق کارروائی مکمل کرنے اور قواعد کی رو سے ایکشن لینے کی بجائے غیرقانونی طور پر خودساختہ عدالتیں لگانے اور موقع پر سزائیں دینے کا خلاف قواعد طریقہ کار اپنا رکھا ہے۔ قانون کی رو سے پنجاب فوڈ اتھارٹی کارروائی کے دوران غذائی اشیاء کے نمونے لے کر فوڈ لیبارٹری میں بھیجنے کی پابند ہے۔ لیبارٹری کی رپورٹ کی روشنی میں متعلقہ اشیاء تیار کرنے والوں کو سزا دلوانے کیلئے فوڈ کورٹ سے رجوع کیا جانا چاہئے۔مگر اس سب کے برعکس پی ایف اے حکام نے قانون سے کھلا کھلواڑ کرنے کا طریقہ کار اپنا رکھا ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم ‘کمانڈو ایکشن انداز میں چھاپے مارتی ‘ موقع پرلوگوں کا جمع کرکے پولیس کے انداز میں لوگوں کی تذلیل کرتی ‘ موقع پر ’’خودساختہ ‘‘عدالت سجا کر بغیر لیبارٹری رپورٹس کے لوگوں کو بھاری جرمانے اور سزائیں دیتے ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی حکام کو غیرقانونی کارروائیاں کرنے‘شہریوں کی تذلیل کرکے لوگوں کے بنیادی حقوق غصب کرنے ‘ موقع پر خودساختہ عدالتیں سجانے اور جج کے طور پر سزا سنانے کے اختیارات کس نے اور کن قوانین کے تحت دئیے ہیں اس بارے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حکام کوئی جواب دینے کو تیار نہیں ہیں۔

Leave a Comment