پنجاب حکومت نے فیصل آباد کوہم جنس پرستی کا بڑامرکز قرار دیدیا


فیصل آباد(احمد یٰسین)پنجاب حکومت نے صوبے کے سب سے بڑے شہر کو مرد ہم جنس پرستوں کا بڑا مرکز قرار دیاہے۔ مرد ہم جنسی پرستی کے علاوہ ہیجڑوں کے عشاق بھی بڑی تعداد میں فیصل آباد میں پائے جاتے ہیں۔فیصل آباد کے علاوہ لاہور‘ سرگودھا‘ ملتان اور صوبے کے دوسرے شہروں میں بھی ہم جنس پرستوں اورتیسری جنس کے ساتھ غیرقانونی تعلقات رکھنے والوں کی بہت بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔یہ انکشافات کسی این جی او یا غیر سرکاری تنظیم اور شخصیت کے نہیں ہیں۔ یہ انکشافات خود میاں شہباز شریف کی حکومت نے ایک سرکاری رپورٹ میں کئے ہیں۔یہ رپورٹ پنجاب حکومت نے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی اور ورلڈ بنک کی فنڈنگ سے سروے سرکاری طور پر تیار کی ہے۔پنجاب حکومت نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں مرد سیکس ورکرز دھندہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مرد ہم جنس پرست بھی صوبہ بھر میں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ تیسری جنس کے ساتھ ’’تعلقات‘‘ رکھنے والوں کی بھی پنجاب میں کم نہیں ہے۔ پنجاب حکومت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے کے چار بڑے شہروں لاہور ‘ فیصل آباد‘ سرگودھا اور ملتان میں مرد سیکس ورکرز کے 1610پوائنٹ ہیں۔ جہاں 5436مرد سیکس ورکر کام کرتے ہیں۔ان ساڑھے پانچ ہزار میں سے 2756مرد سیکس ورکر صرف فیصل آباد میں پائے جاتے ہیں جبکہ لاہور میں 1542مردسیکس ورکرپائے جا رہے ہیں۔پنجاب حکومت کی اسی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں مردوں کیلئے ہم جنس پرستی کاسامان بننے والے لڑکے اورتیسری جنس کے افراد کی تعدادایک لاکھ 14ہزار 330ہے اس میں سے سب زیادہ 76ہزار صوبہ پنجاب میں پائے جاتے ہیں۔پنجاب حکومت کی اس رپورٹ میں خواتین سیکس ورکرز کے حوالے سے بھی تفصیلات دی گئی ہیں جبکہ صوبے میں ایڈز کی صورتحال کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔

Related posts