فیصل آباد کے سکولوں کا 88فیصد رقبہ چٹیل میدان‘ ترقی سوالیہ نشان


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد میں سرکاری سکولوں کا 88فیصد رقبہ چٹیل میدان نکلا‘سرکاری سکولوں میں کلاس رومز کی کمی اور کھلے آسمان تلے کلاسز لگائے جانے کی ہوشربا شرح کے باوجود میسر اراضی پر تعمیرات نہ کرنے کی پالیسی سڑکوں اور پلوں پر اربوں روپے خرچ کرنے والے حکومت کی ترجیحات اور منصوبہ بندی کے ڈھول کا پول کھول رہی ہے۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں 2325سرکاری سکولوں میں کلاس رومز کی شدید کمی ہے۔ بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جبکہ حکومت سالانہ کھربوں روپے کے فنڈز سڑکوں اور گلیوں پر خرچ کر رہی ہے ۔ محکمہ تعلیم کے حکام سکولوں میں جگہ کی کمی کا جواز بھی پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ اب پنجاب حکومت کی اپنی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سکولوں میں جگہ کی کمی بالکل بھی نہیں ہے ۔ صرف ترجیحات کا فرق ہے ۔ حکومت فنڈز مہیا کرے تو کلاس رومز کی کمی پوری کرکے بھی سکولوں میں جگہ خالی ہی رہے گی۔ ریونیو ریکارڈ کے مطابق فیصل آباد کے 2325سرکاری سکولوں کی کل اراضی چار ہزار چار سو تیس ایکڑ ہے جس میں سے صرف چار سو ساٹھ ایکڑ جگہ پر تعمیرات ہیں ۔ سکولوں میں تین ہزار نو سو ستر ایکڑ اراضی خالی میدانوں کی شکل میں پڑی ہوئی ہے۔ اکثر سکولوں میں یہ خالی اراضی دھول اڑارہی ہے ۔ اس اراضی پر گھاس ہے نہ سولنگ‘ دھول اڑ کرسر میں پڑ رہی ہے اور طلبہ کیلئے وبال بنی ہوئی ہے۔سکولوں میں ان چٹیل میدانوں کو باغبانی‘ پلے گراؤنڈ‘ کلاس رومز بنانے اور دیگر کئی قسم کے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے منصوبے کئی بار بن چکے ہر مرتبہ ہی یہ منصوبے کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئے۔ قیمتی سرکاری اراضی کو بے مصرف چھوڑ کر محکمہ تعلیم اور پنجاب حکومت کے ذمہ داران جانے کس کی خدمت کر رہے ہیں۔

Related posts