پنجاب فوڈاتھارٹی کادوہرا معیار:امیروغریب کیلئے الگ الگ قانون


فیصل آباد(احمد یٰسین)پنجاب فوڈ اتھارٹی نے طبقاتی تقسیم اور غریب و امیر میں امتیاز کی نئی روائت قائم کر دی ہے۔ نام نہاد شرفاء کی لسٹ میں شامل افراد کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کا قانون اور اتھارٹی حکام کے روئیے الگ ہیں جبکہ معاشرتی تقسیم کی بناء پر اس لسٹ میں شمولیت اختیار نہ کر سکنے والوں کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قانون علیحدہ اور اتھارٹی حکام کا روئیہ مختلف ہو جا تا ہے۔ امیر زادوں کے سامنے اتھارٹی حکام بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور ڈی جی کے علاوہ کسی آفیسر کو ان امیرزادوں کیساتھ معاملات طے کرنے کی اجازت نہیں ہے جبکہ غریب دکانداروں کے لئے اتھارٹی حکام ظالم اور قانون سے بے بہرہ تھانیدار بن جاتے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی نے غریب دکانداروں‘ گلی محلوں میں کام کرنیوالوں ٹھیلوں‘ چھوٹے ریسٹورنٹوں و ہوٹلوں کیلئے الگ قانونی تقاضے اپنا رکھے ہیں جبکہ بڑے فیکٹری مالکان اور امیرزادوں کیلئے قانون کے تقاضے سراسر مختلف رکھے ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حکام غریب دکانداروں‘ گلی محلوں کے ریسٹورنٹوں ‘ سکول کالج کی کنٹین‘ خوانچہ فروشوں‘ ریڑھی بانوں کیخلاف ایسے کارروئی کرتے ہیں جیسے یہ دشمن ملک پر حملہ کرنے جا رہے ہوں۔فوڈ کوالٹی بغیر کسی لیبارٹری کے چیک کی جاتی ہے۔ جی بھر کر ان کی تذلیل کی جاتی ہے ۔ پولیس کی طرح انہیں بے عزت کیا جاتا ہے۔پھر موقع پر فوڈ اتھارٹی ’’ماماجی کی عدالت‘‘ لگاتی ہے۔اور جرمانے‘ دکان سیل‘ سزائیں سنائی جاتی ہیں۔ کوئی جرم نہ بھی پایا جائے تو جرمانہ کرنا لازمی ہے۔جرمانے کا فوڈ اتھارٹی کے افسران اپنے آنے کا کرایہ بھی قرار دیتے ہیں۔دوسری جانب امیر زادوں اور بااثر افراد کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کارروائی کا طریقہ کار اور قانون ہی الگ ہے۔ فوڈ اتھارٹی فیکٹریوں میں کارروائی کیلئے جاتی ہے تو کئی کئی گھنٹے اتھارٹی حکام گیٹ پر اجازت کے منتظر رہتے ہیں۔ اندر جا کر بھی صرف سیمپل ہی لے پاتے ہیں۔خوراک کے نمونے لیبارٹری بھوائے جاتے ہیں اور پھر لیبارٹری رپورٹ آنے پر جرمانہ یا کوئی دوسری سزا دی جاتی ہے۔ فوڈ اتھارٹی نے صرف ایک مرتبہ گھی ملوں کیخلاف اچانک کارروائی کی تو گھی ملز مالکان پورے ملک میں ہڑتال کیلئے متحرک ہو گئے تھے۔ مجبور ہو کر فوڈ اتھارٹی اور پنجاب حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ فائیو سٹار ہوٹلوں‘ میکڈونلڈ‘ کے ایف سی‘ فرائی چکس‘مسٹر ونگز‘ خیام‘ بندوخان‘ اور دیگر بڑے ریسٹورنٹس کیلئے بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کا یہی عاجزانہ طریقہ کار اور مؤدبانہ قانون ہے۔ احترام کیساتھ سیمپل لئے جاتے ہیں اور لیبارٹری رپورٹس کا انتظار کرکے کارروائی ہوتی ہے۔اس صورتحال پر فیصل آباد کے چھوٹے تاجر اور فوڈ کے کاروبار سے وابسطہ افراد سراپا احتجاج ہیں مگر ان کی کہیں شنوائی نہیں ہو رہی۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طبقاتی تقسیم کی بنیاد پر کارروائیاں ’’قانون سب کیلئے ایک ‘‘کے شہباز شریف کے نعروں کھلی نفی کر رہی ہیں جبکہ ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کی دوہری و طبقاتی سوچ کی بھی آئینہ دار ہیں۔

Related posts