فیصل آباد میں صرف64رہائشی کالونیاں منظور شدہ‘باقی سب غیرقانونی


فیصل آباد(ندیم جاوید)فیصل آباد کی صرف 64رہائشی کالونیاں منظور شدہ ہیں جبکہ ان کے علاوہ باقی سب غیرقانونی ہیں۔ قوانین کی رو سے غیرقانونی رہائشی سکیموں کی خریدوفرخت ممنوع‘ روائتی و غیرروائتی میڈیا کے ذریعے ان کی تشہیر خلاف قانون جبکہ انکی رجسٹری اور انتقال کرناجرم ہے۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں صرف 64رہائشی کالونیاں منظور شدہ ہیں۔فیصل آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے ان 64رہائشی کالونیوں کے علاوہ ضلع بھر میں بنی ہوئی پرائیویٹ رہائشی سکیموں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ایف ڈی اے حکام کے مطابق منظور شدہ کالونیوں کے علاوہ جتنی بھی رہائشی سکیمیں ہیں انہیں قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قواعد کی رو سے رہائشی سکیموں کی منظوری کے بغیر ان کی خریدو فروخت جرم ہے۔ بغیر منظوری رہائشی سکیموں کے پلاٹوں کی فروخت کرنے پر ڈویلپرز اور مالکان کیخلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ان سکیموں کی تشہیر کرنے اور کروانے والے بھی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں جبکہ ان کی رجسٹریاں اور تمیمہ جات لگانا بھی غیرقانونی ہے۔ ان کے انتقال بھی رہائشی پلاٹ کے طور پر نہیں کئے جا سکتے۔ان میں بجلی ‘ گیس‘ پانی ‘ سیوریج کے کنکشن لگانا‘ ان پر بنک قرض کا اجراء‘ ان کے نقشوں کی منظوری‘ ان پر رہائشی تعمیرات سب غیر قانونی ہے۔ایف ڈی اے ریکارڈ کے مطابق منظور شدہ رہائشی سکیموں میں گرین ویلی چک نمبر 234رب ‘ ستارہ ابان ویلی چک نمبر 197رب‘ میڈوز فیز ون چک نمبر 234رب‘ آرچرڈ ہومزچک نمبر 239رب‘ الجمیل فارم ہاؤسنگ چک نمبر 217رب‘ ستارہ گولڈ سٹی چک نمبر 215رب‘ الرحیم ویلی چک نمبر 215رب‘ لائلپور ولازچک نمبر 204رب‘ چوہدری محمد علی ہاؤسنگ سکیم چک نمبر 222رب‘ سٹی ہاؤسنگ چک نمبر5ج ب‘ ڈیفنس فورٹ چک نمبر 223رب‘ ایڈن گارڈن فیز ٹوچک نمبر 208رب‘ ایڈن ولازچک نمبر 222رب‘ فور سیزن فیز ون چک نمبر 234رب‘ غفور گارڈن چک نمبر 204رب‘ گلشن اقبال چک نمبر 222رب‘ منان ٹاؤن چک نمبر 121ج ب‘ ستارہ سپنا سٹی ایکسٹینشن چک نمبر123ج ب‘ الحمرا ٹاؤن چک نمبر199رب‘ گورنمنٹ ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سکیم چک نمبر213رب‘ ‘ گورنمنٹ ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سکیم فیز ٹوچک نمبر199رب‘ ہیونز ہیبیٹیٹس چک نمبر 204رب‘ رضا گارڈن چک نمبر204رب‘ عبداللہ ڈیفنس چک نمبر229رب‘ یونیورسٹی ٹاؤن چک نمبر 196رب ملت روڈ‘ حمزہ ہومزچک نمبر204رب‘ عبداللہ فارم ہاؤسنگ سکیم چک نمبر 204رب‘ ناظم آباد سٹی چک نمبر220رب‘ جلال ٹاؤن چک نمبر196رب‘ نیو فرید ٹاؤن چک نمبر196رب‘ رحمت ٹاؤن چک نمبر124ج ب‘ شادمان ٹاؤن چک نمبر 120ج ب‘ کوہ نور ٹاؤن چک نمبر 213رب‘ سعید کالونی چک نمبر213رب‘ نواز ٹاؤن چک نمبر120ج ب‘ بلال سٹی باگھے والا روڈ‘ ٹیک سوسائٹی فیز ٹو اینڈ تھری، ٹیک ٹاؤن چک نمبر226رب‘ گلشن حیات چک نمبر220رب‘ رحیم ٹاؤن چک نمبر220رب‘ راجہ پارک چک نمبر222رب‘ شہباز ٹاؤن چک نمبر220رب‘ نیو مسلم انڈسٹریل ٹاؤن چک نمبر120ج ب‘ کریم ٹاؤن چک نمبر224رب‘ سعید کالونی ایکسٹینشن چک نمبر213رب‘ کنال پارک چک نمبر204رب‘ گرین ویو کالونی چک نمبر123ج ب‘ ایگزیکٹو بلاک چک نمبر204رب‘ خالد ٹاؤن چک نمبر7ج ب‘ محمد خان ٹاؤن چک نمبر207رب‘ ناظم آباد ولاز چک نمبر220رب‘ رضا ٹاؤن چک نمبر204رب‘ سلطان ٹاؤن چک نمبر217رب‘ واپڈا سٹی چک نمبر192رب‘ فرید ٹاؤن چک نمبر 214رب‘ ایڈن گارڈن چک نمبر208رب‘ فور سیزن فیز ٹو چک نمبر 234رب‘ امین ٹاؤن چک نمبر207رب‘ اعجاز ٹاؤن چک نمبر124ج ب‘ نیاز گارڈن چک نمبر242رب‘ ایڈن آرچرڈ چک نمبر121ج ب‘ المحبوب گارڈن چک نمبر223رب‘ ویسٹا ہومز چک نمبر121ج ب‘ گلبرگ ویلی چک نمبر215رب‘ اور گرین بلاک چک نمبر204ر ب شامل ہیں۔ایف ڈی اے حکام کے مطابق فیصل آباد میں ان 64رہائشی سکیموں کے علاوہ کوئی سکیم منظور شدہ نہیں ہے۔ قانون کی رو سے منظور شدہ سکیموں کے علاوہ کسی رہائشی سکیم یا کالونی میں رہائشی و کمرشل پلاٹوں کی خریدوفرخت درست نہیں ہے۔ منظور شدہ سکیموں کے علاوہ کسی بھی مقام پر مکانات کی تعمیر کرنا‘ کمرشل یا رہائش کیلئے استعمال کرنا‘ بھی غیرقانونی ہے۔ ان 64سکیموں کے علاوہ کسی بھی سکیم یا کالونی میں بجلی‘ گیس‘ پانی‘ سیوریج کا کنکشن بھی نہیں لگایا جا سکتا جبکہ وہاں لگے ہوئے کنکشن بھی غیرقانونی ہیں۔ غیرقانونی سکیموں کے تمیمہ جات بھی نہیں لگائے جا سکتے جبکہ ان کی رہائشی پلاٹ کے طور پر رجسٹری بھی قانونی طور پر درست نہیں قرار دی جا سکتی۔ذرائع کے مطابق ان منظور شدہ رہائشی سکیموں کے معاملات بھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہیں مگر ان کے علاوہ تو تمام ہی رہائشی سکیمیں مکمل طور پر غیر قانونی ہیں۔

Related posts