فیصل آباد: ایک دن میں دو مبینہ پولیس مقابلے‘اہلکار زخمی‘ڈاکو ہلاک


فیصل آباد(نیوزلائن)فیصل آباد میں ایک ہی دن میں دو مبینہ مشکوک پولیس مقابلوں کے دوران ڈولفن فورس کے دو اہلکا زخمی ہو گئے جبکہ دو گرفتار ’’ڈاکو‘‘ مارے گئے۔ دونوں مقابلوں میں پولیس نے سرکاری گن سے ایک گولی بھی نہ چلائی۔ زخمیوں کو الائیڈ ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے جبکہ ڈاکوؤں کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں یکے بعد دیگر دو پولیس مقابلے ایک ہی دن ہوئے ۔ دونوں مقابلے ہی مشکوک قرار دئیے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دو ڈاکو گلستان کالونی میں ڈولفن فورس کے جوانوں پر فائرنگ کرکے فرار ہو رہے تھے کہ سابق میئر چوہدری شیر علی کے صاحبزادے عمران شیر علی نے اپنی قیمتی گاڑی میں موٹر سائیکل سوار دونوں ملزمان کا شہر کے گنجان آباد علاقوں میں انتہائی مہارت سے تعاقب کیا ۔ڈولفن فورس کے اہلکاروں پر فائرنگ کرکے فرار ہونیوالے ملزمان نے عمران شیر علی کے تعاقب کی کائی پرواہ نہ کی اور غیر مسلح عمران شیر علی سے خوفزدہ ہو کر صرف فرار ہوتے رہنے کو ترجیح دی۔ ملزمان حواس باختہ ہو کر گاڑی کے آگے آگے بھاگتے رہے اورڈولفن فورس کے مسلح جوانوں کو زخمی کرنے والے’’ڈاکوؤں‘‘ نے عمران شیر علی پر گالی چلانے کی بھی ہمت نہ کی۔ماہرانہ تعاقب میں عمران شیر علی اور ان کی گاڑی مکمل طور پر محفوظ رہے اور پھر عمران شیر علی نے ماہرانہ انداز میں دونوں ملزمان کو پکڑوا دیا۔پکڑتے ہی پولیس کو انکشاف ہوگیا کہ دونوں گرفتار ملزم’’ ریکارڈ یافتہ ‘‘ڈاکو اور راہزن ہیں۔ جیل بھی بھگت چکے ہیں۔ چند منٹ کی تفتیش میں ہی ملزمان نے سب کچھ اگل دیا اور اپنے ساتھیوں کے نام اور ان کی پوزیشن کی نشاندہی بھی کر دی۔کچھ دیر بعد ہی تھانہ سرگودھا روڈ کے چند پولیس اہلکارسرکاری گاڑی میں دونوں پکڑے جانے والے ریکارڈ یافتہ ملزموں کو لے کر چل دئیے تا کہ ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر سکے۔پولیس تھانے سے روانہ ہی ہوئی تھی کہ چند منٹ بعد ہی راستے میں چار موٹر سائیکل سواروں نے پولیس ٹیم پر حملہ کر دیا ۔ حملہ آوروں نے پولیس کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی ۔اس حملے میں تمام پولیس اہلکار محفوظ رہے اورپولیس کی گاڑی پر حملہ آوروں کی اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ صرف گرفتار ملزم ہی بنے۔ اور موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔پہلے مقابلے کی طرح دوسرے مقابلے میں بھی پولیس کو ایک گولی چلانے کا بھی موقع نہ ملااور ’’حملہ آور‘‘ چند فائر چلا کر اور اپنے ساتھیوں کو مار کر فرار ہوگئے۔ حملہ آوروں کو فرار ہوتا دیکھ کر پولیس پارٹی کو ہوش آیا اور اس نے فرار ہونے والوں پر فائرنگ کی مگر کسی بھی حملہ آور کو نشانہ نہ بنا سکی۔ملزمان کے موقع سے فرار ہونے کے چند لمحوں بعد ہی فیصل آباد پولیس کے مقابلہ ایکسپرٹ ڈی ایس پی (ایس ڈی پی او نشاط آباد)ملک خالد‘مقابلہ ایکسپرٹ ڈی ایس پی (ایس ڈی پی او سرگودھا روڈ)جمشید اقبال چشتی‘ایس ایچ او سرگودھا روڈ ارم شاہ موقع پر پہنچ گئے۔ کئی گھنٹوں کی کوششوں کے باوجود پولیس حملہ آوروں کا سراغ لگانے میں ناکام رہی۔اس حوالے سے فیصل آباد پولیس کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھاکہ مارے جانے والے دونوں ملزمان ریکارڈ یافتہ ہیں۔ دونوں جیل بھی رہ چکے ہیں ملزمان ریکارڈ یافتہ ہیں اس لئے مقابلے کے حوالے سے یہ ہی کافی ہے کہ دونوں ملزمان ریکارڈ یافتہ ہیں۔ ریکارڈ یافتہ ملزمان انتہائی تربیت یافتہ اور متعدد وارداتوں میں مطلوب تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد پولیس ٹیم پر حملہ کرنے والوں کا سراغ لگا لیا جائے گا۔

Related posts