اندھیر نگری چوپٹ راج:30رہائشی سکیمیں بغیر قبرستان منظورہو گئیں


فیصل آباد(نیوزلائن)ایف ڈی اے حکام نے اندھیری نگری چوپٹ راج کی مثال قائم کردی‘ ڈی جی اور دیگر ایف ڈی اے افسران نے اندھا دھند دستخط کرکے قواعد و ضوابط پرپورا نہ اترنے والی رہائشی کالونیوں کو بھی منظوری دیدی۔رہائشی سکیموں کی دستاویزات چیخ چیخ کر اعلان کرتی رہیں کہ یہ کالونی قواعد پر پورا نہیں اترتیں مگر ایف ڈی اے کے نوٹوں کی چمک سے اندھے ہونیوالے افسران نے یہ چیخ و پکار سنی اور نہ عوام کی مشکلات کا اندازہ کیا 30ایسی کالونیوں کی منظوری دیدی جس کے ڈویلپرز اور مالکان نے خود اپنی دستاویزات میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے قبرستان کیلئے اراضی مختص نہیں کی۔غیر منظور شدہ کالونیوں کا معاملات تو ایک طرف فیصل آباد کی 64منظور شدہ کالونیوں میں سے بھی 30میں قبرستان کیلئے اراضی سرے سے مختص ہی نہیں کی گئی جو قواعد کی رو سے لازمی تھی ۔ایف ڈی اے افسران نے آنکھیں بند کرکے ان کی فائلوں اور نقشوں پر دستخط و مہر سبط کردی ان میں سے متعدد منظوری سرٹیفکیٹ موجودہ ڈی جی یاور حسین نے بھی جاری کئے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 31دسمبر2017تک صرف 64رہائشی سکیموں کو منظور کیا تھا۔ ان 64کے حوالے سے ایف ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے قواعد کے مطابق یوٹیلٹی اراضی مختص کی ان کے علاوہ باقی کالونیاں قواعد پر پورا نہیں اترتیں۔ مگرایف ڈی اے کے ریکارڈ سے سامنے آیا ہے کہ ایف ڈی اے نے 30ایسی کالونیوں کو بھی منظوری سرٹیفکیٹ جاری کر دئیے ہیں جنہوں نے قانون کے مطابق اپنی کالونیوں میں قبرستان کیلئے بھی اراضی مختص نہیں کی۔جبکہ قواعد کی رو سے ہر رہائشی سکیم میں کالونی کے مجموعی رقبے کا دو فیصد قبرستان کیلئے مختص کرنالازمی ہے۔ان 30کالونیوں میں ایک انچ جگہ بھی قبرستان کیلئے نہیں رکھی گئی مگر اس کے باوجود ایف ڈی اے کے انسپکٹر‘ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ‘ ڈپٹی دائریکٹر‘ ڈائریکٹر ’ ڈی جی نے ان کی منظوری دیدی اور انہیں منظور شدہ کالونیوں میں شامل کرکے لوٹ مار کی کھلی اجازت دیدی۔ ذرائع کے مطابق جن 34کالونیوں میں منظوری کے وقت قبرستان کیلئے اراضی رکھی گئی تھی۔انہیں بھی بعد ازاں پلاٹ بنا کر فروخت کر دیا گیا ہے۔ ایسی متعدد کالونیوں کے کیس سامنے آ چکے ہیں۔ منظور شدہ کالونیوں میں قبرستان کے علاوہ بھی متعدد لازمی ٰیو ٹیلیٹیز کیلئے اراضی نہیں رکھی گئی یا رکھنے کے بعد کمرشل و رہائشی استعمال میں لے آئی گئی ہے۔ مگر تمام صورتحال کا علم ہونے کے باوجود ایف ڈی اے حکام ان کے خلاف کوئی ایکشن لینے کو تیارنہیں ہے۔

Related posts