پولیس بھرتی کیلئے آنیوالوں کے جسم پر غلاموں کی طرح نشان لگاتی رہی


فیصل آباد(احمد یٰسین)پولیس میں بھرتی کا عمل کبھی بھی خوشگوار نہیں رہا تاہم اب ہونیوالی بھرتی میں پولیس نے انسانیت کی تذلیل کی ایک اور مثال قائم کردی۔ بھرتی کیلئے آنیوالے نوجوانوں کے جسموں پر پولیس اہلکار نشانیاں لگاتے رہے اور غلاموں کی طرح ان کے جسموں پر نمبرنگ کی جاتی رہی۔میڈیا کے نمائندے اور اعلیٰ پولیس افسران بھی نمبرنگ کے عمل کو دیکھ کر بے حس بنے رہے۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد پولیس میں بھرتی کیلئے آنیوالوں کوپولیس لائن میں جمع کیا گیا ۔ اور ان کی قد چھاتی کی پیمائش کی جاتی رہی۔ سخت سردی میں نوجوانوں کو اوپری جسم سے برہنہ کرکے کئی کئی گھنٹے سردی میں انتظار اور پیمائش کے عمل سے گزارا گیا۔ اس دوران پولیس اہلکار نوجوانوں کے جسموں پر غلاموں کی طرح نشانیاں لگاتے اور نمبرنگ رتے رہے۔ غلاموں کی اس منڈی میں ایک سے دوسرے مرحلے کیلئے جانے پر نوجوانوں کی شناخت ان کے جسم پر لگے ہوئے نمبروں سے کی جاتی رہے۔ نئے مرحلے میں پچھلے مرحلے کی نمبرنگ کی بنیاد پرمتوقع سرکاری ’’غلام‘‘ کی شناخت کی جاتی اور اس کے جسم کے ہندسوں میں نئے نمبروں کا اضافہ کرکے اگلے مرحلے کیلئے بھجوا دیا جاتا۔ اس تمام مرحلے کی نگرانی اعلیٰ پولیس افسران کرتے رہے۔ جسموں پر نمبرنگ کرنے والے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ایسا ایک اعلیٰ افسر کے حکم پر کیا گیا ہے۔ اس آفیسر نے نمبرنگ اور نشانیوں کیلئے کاغذ کا استعمال کرنے کی بجائے جسموں پر نمبر اور نشانیاں لگانے کا حکم دیا تھا۔ بھرتی کی نگرانی کرنے والے افسران بھی غلاموں کے جسموں پر ہونیوالی نمبرنگ دیکھتے اور خاموشی سے اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے رہے۔

Related posts