لینڈ مافیا کا تحفظ: غیرقانونی رہائشی کالونیوں میں کھربوں کے ترقیاتی کام


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد کی غیرقانونی رہائشی کالونیوں میں کھربوں روپے کے ترقیاتی کام کروائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ لینڈ مافیا کو تحفظ دینے اور غیرقانونی رہائشی سکیموں کے ڈویلپرز کے گناہوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ارکان اسمبلی ‘ بلدیاتی نمائندوں اور بیوروکریسی نے سرکاری فنڈز کا بے دریغ استعمال کیا۔ قومی خزانے کو لینڈ مافیا کیلئے بے دریغ لٹایا جاتا رہا اور عوام کے ٹیکسوں کی کمائی ایک خاص طبقے کے لئے مختص کئے رکھی۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کی 206رہائشی سکیمیں غیرقانونی قرار پا چکی ہیں۔ ان غیرقانونی رہائشی سکیموں میں لینڈ مافیاز نے عوام سے پیسے تو بٹور لئے لیکن ڈویلپمنٹ کروائی نہ کالونی کے معاملات کو قانون کے مطابق ڈھالنے کیلئے اقدامات اٹھائے۔ شہر کے نامی گرامی ڈویلپرز غیرقانونی رہائشی سکیمیں بنارہے ہیں اور عوام سے پیسے بٹور کر غائب ہو جاتے ہیں۔ لینڈ مافیا نے شہر کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ شہر کی ترقی سوالیہ نشان اور پیری اربن ماسٹر پلان سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔سیاسی حلقوں میں اثرورسوخ رکھنے والے لینڈ مافیا کی غلط کاریوں کو تحفظ دینے کیلئے فیصل آباد کے ارکان اسمبلی ‘ بلدیاتی نمائندے سرگرم ہیں اور لینڈ مافیا کو تحفظ دینے کیلئے غیرقانونی رہائشی سکیموں میں کھربوں روپے کے ترقیاتی کام کروا رہے ہیں۔ قواعد کی رو سے پرائیویٹ رہائشی سکیموں میں ڈویلپمنٹ کروانا ڈویلپرز اور سکیم مالکان کی ذمہ داری ہے اور اس کے عوض وہ عوام سے بھاری رقوم حاصل کرتے ہیں مگر وہ ایسا نہیں کر رہے اور ان کے ذمہ داری ارکان اسمبلی اور بلدیاتی نمائندے سرکاری فنڈز سے ترقیاتی کام کروا کر پوری کر رہے ہیں۔ اور لینڈ مافیا کو کھربوں روپے کا فائدہ پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ارکان اسمبلی کا قانونی طور پر منظور نہ ہونے والی رہائشی سکیموں میں سرکاری فنڈز کا استعمال کرنا قانون کی کھلی خلاف ورزی اور سرکاری فنڈز کا ضیاع کرنے کے مترادف ہے۔ ارکان اسمبلی کے ترقیاتی کاموں کا اس حوالے سے آڈٹ ہونا چاہئے کہ انہوں نے کن کن غیرقانونی سکیموں میں فنڈز لگائے ہیں۔ کتنے فنڈز درست لگائے گئے ہیں اور کتنے غیرقانونی طور پر لگائے گئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی انکوائری کی جانی چاہئے کہ انہوں نے کن خفیہ مقاصد کے تحت غیرقانونی رہائشی سکیموں میں فنڈز لگائے۔ ایف ڈی اے اور محکمہ ورکس کی دستاویزات کے مطابق مسلم لیگ ن کے وزراء عابد شیر علی‘ رانا افضل‘ رانا ثناء اللہ‘طلال چوہدری‘ حاجی محمد اکرم انصاری اور ارکان اسمبلی الیاس انصاری‘ حاجی خالد سعید‘ فقیر حسین ڈوگر‘ شیخ اعجاز احمد‘ میاں طاہر جمیل‘ نواز ملک‘ آزاد علی تبسم‘ افضل ساہی‘ عفت معراج اعوان‘ رائے حیدر‘ جعفر علی ہوچہ‘ راؤ کاشف‘ میاں فاروق‘ رضا نصراللہ گھمن‘ ڈاکٹر نثار‘ سیف گل‘ عارف گل سمیت فیصل آباد کے تمام ارکان اسمبلی‘ میئر رزاق ملک ‘ چیئرمین ضلع کونسل زاہد نذیر سمیت تمام بلدیاتی نمائندے غیرقانونی رہائشی کالونیوں میں سرکاری فنڈز استعمال کرنے کے دھندے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ قومی خزانے کے کھربوں لینڈ مافیا کو تحفظ دینے کیلئے اڑا دئیے گئے ہیں۔

Related posts