برطرفی کے باوجود ڈاکٹر افتخار خواتین یونیورسٹی کے خزانے پر قابض


فیصل آباد(نیوزلائن)فیصل آبادکی واحد سرکاری خواتین یونیورسٹی کے خزانے کاکنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنے کیلئے معمر ڈاکٹر افتخار نے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دئیے ہیں۔بزرگی کے باعث سنڈیکیٹ کی طرف سے فارغ کئے جانے اور نئی ایڈیشنل خزانچی کے تقرر کے باوجود ڈاکٹر افتخار خزانچی کا چارج دینے سے گریزاں ہیں ۔ نیوزلائن کے مطابق جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کے 65سال سے زائد عمر کے ڈاکٹر افتخار کو وائس چانسلر نے متعدد دیگر عہدوں کیساتھ ایڈیشنل ٹرئیرر کا چارج بھی دے رکھا تھا ۔ سنڈیکیٹ نے حکومتی پالیسی کے مطابق 65سال سے زائد عمر کے افراد کے نہ رکھنے کی پالیسی اپنائی تو معمر ڈاکٹر افتخار بھی اس کی زد میں آگئے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے فرزانہ ہاشمی کو خزانچی کااضافی چارچ دیدیا۔مگر تین روز گزرنے کے بوجود ڈاکٹر افتخار خزانے کا چارج چھوڑنے کو تیار نہیں۔ کہنے کو فرزانہ ہاشمی ایڈیشنل ٹرئیرر ہیں مگر عملی طور ابھی بھی کام ڈاکٹر افتخار ہی کام کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی نے باضابطہ انہیں عہدے دے ہٹا دیا ہے اور سنڈیکیٹ نے واضح کیا ہے کہ انہیں کوئی تنخواہ نہ دی جائے مگر وہ بغیر تنخواہ کے اور بغیر باضابطہ عہدے کے ہی کام کرنے پر آمادہ ہیں۔یونیورسٹی کے خزانے کا حساب کتاب اور تمام دیگر عوامل کی ذمہ دار فرزانہ ہاشمی بنا دی گئی ہیں ۔ کام ڈاکٹر افتخار کر رہے ہیں اور سائن فرزانہ ہاشمی کے کروا لئے جاتے ہیں۔ یونیورسٹی کی وائس چانسلر نورین عزیز قریشی بھی اس صورتحال سے آگاہ ہیں اور ڈاکٹر افتخار کو کام جاری رکھنے میں مدد کر رہی ہیں۔ یونیورسٹی حکام اس حوالے سے الجھن کا شکار ہیں کہ یونیورسٹی کے خزانے کے معاملات میں ایسا کیا ہے کہ فرزانہ ہاشمی کی تعیناتی کے باوجود انہیں باضابطہ کام نہیں کرنے دیا جا رہا اور ڈاکٹر افتخار خزانے کا چارج چھوڑنے کو تیار نہیں ہو رہے۔

Related posts