ارکان اسمبلی‘بیوروکریسی نے زرعی زمینوں پرسڑکیں ‘گلیاں‘ بازار بنوا دئیے


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد کے ارکان اسمبلی اور بلدیاتی نمائندوں نے شہر کی زرعی زمینوں پر سڑکیں ‘گلیاں‘ بازار بنوا دئیے۔ عوامی نمائندوں کیساتھ بیوروکریسی کے کل پرزے بھی شریک جرم رہے ،شہر کی تباہی کے جرم کا کسی نے نوٹس لیا اور مجرموں کو کسی نے نوٹس دیا۔ پلاننگ کا فقدان اور محکموں کے مابین کوآرڈی نیشن نہ ہونے کی وجہ سے سال ہا سال سے یہ جرم جاری ہے اور اس کی روک تھام کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں ترقی کے نام پر شہر کو کھلے عام تباہ کیا رہا ہے اور قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کے مرتکب خود قانون کے تحفظ کا حلف اٹھانے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی‘ بلدیاتی نمائندے اور بیوروکریسی ہو رہی ہے۔اس جرم میں حال ہی میں وزارت خزانہ پر براجمان ہونے والے این اے 82سے رکن قومی اسمبلی رانا محمد افضل خاں بھی ملوث ہیں۔این اے 85سے ایم این اے بن کر وزارت ٹیکسٹائل تک پہنچنے والے حاجی اکرم انصاری‘ وزیر مملکت توانائی عابد شیر علی‘ این اے 83سے رکن قومی اسمبلی میاں عبدالمنان‘ این اے 75کے غلام رسول ساہی‘ این اے 76کے طلال چوہدری(وزیر مملکت داخلہ) ‘ این اے 77کے عاصم نذیر‘ این 78کے رجب بلوچ‘ این اے 79کے شہباز بابر‘ این اے 80کے میاں فاروق‘ این اے 81کے ڈاکٹر نثار احمد بھی اس جرم میں برابر کے شریک پائے گئے ہیں۔ فیصل آباد کے ارکان صوبائی اسمبلی رانا ثناء اللہ خاں(صوبائی وزیر قانون)‘ نواز ملک‘ میاں طاہر جمیل‘ شیخ اعجازاحمد‘ فقیر حسین ڈوگر‘ حاجی خالد سعید‘ حاجی الیاس انصاری‘ ظفراقبال ناگرہ‘ میاںآصف اجمل‘ رضا نصراللہ گھمن‘ سیف اللہ گل‘ راؤ کاشف رحیم‘ عارف گل‘ جعفر علی ہوچہ‘ رائے عثمان کھرل‘ رانا شعیب ادریس‘ عفت معراج ملک‘ رائے حیدر‘ افضل ساہی‘ آزاد علی تبسم بھی اس معاملے میں ارکان قومی سمبلی سے پیچھے نہیں رہے۔ مرد ارکان کے شانہ بشانہ رہنے کا اعزاز فیصل آباد کی خواتین ارکان اسمبلی خالدہ منصور‘ ڈاکٹر نجمہ افضل‘ ثریا نسیم ‘فاطمہ فریحہ ‘ مدیحہ رانا نے بھی حاصل کیا ہے۔ سابق ایم پی ایز اور ایم این ایز کی بڑی تعداد بھی موجودہ ممبران اسمبلی کیساتھ اس جرم میں شریک رہی ہے۔ چیئرمین ضلع کونسل زاہد نذیر‘ میئر رزاق ملک‘ سابق ڈسٹرکٹ ناظم رانا زاہد توصیف‘ سابق سٹی ناظم ممتاز علی چیمہ‘ سابق ٹاؤن ناظمین رانا زاہد محمود‘ شہزاد ملک‘ سجاد حیدر چیمہ‘ چوہدری علی اختر سمیت موجودہ یو سی چیئرمین اور سابق یوسی ناظمین و نائب ناظمین بھی اس جرم میں شریک ہیں۔بیوروکریسی کے کل پرزے سابق ڈی سی اوزنورالامین‘ سلمان غنی‘ نجم شاہ ‘ نسیم صادق‘ و دیگر ڈ سی اوز‘ ایف ڈی اے حکام‘ واسا انتظامیہ ‘ ٹی ایم اوز‘ میونسپل آفیسرز ‘ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے افسران‘ ریونیو آفیسرز‘پلاننگ ڈویژن کے کرتا دھرتا‘ اور دیگر محکموں کے ذمہ داران بھی اس جرم میں ارکان اسمبلی کے شانہ بشانہ شہر کا حلیہ بگاڑتے رہے۔ریونیو ریکارڈ کے مطابق فیصل آباد کی تحصیل سٹی میں بھی زرعی زمینوں پر سڑکیں ‘ گلیاں ‘بازار‘ رہائشی کالونیاں‘ پلازے‘ ملٹی سٹوری بلڈنگز بنی ہوئی ہیں۔ جبکہ تحصیل صدر‘ تحصیل جھمرہ‘ تحصیل جڑانوالہ‘ تحصیل تاندلیانوالہ اور تحصیل سمندری کے حالات تو انتہائی دگرگوں ہیں اور یہاں 70فیصد ڈویلپمنٹ ورک زرعی زمینوں پر کیا ہوا ہے۔ کسی نے پلاننگ پر توجہ دی ہے نہ زرعی زمینوں کے غیرقانونی استعمال کو روکنے پر توجہ رکھی۔جرم میں سب ہی برابر کے شریک ہیں کون کس کیخلاف ایکشن لے گا جب اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں