فوڈ اتھارٹی تعلیمی اداروں میں کولڈ ڈرنک کی پابندی کروانے میں ناکام


فیصل آباد(نیوزلائن)پنجاب فوڈ اتھارٹی تعلیمی اداروں میں کولڈ ڈرنک کی پابندی کروانے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ کولڈ ڈرنک مافیا کے پروردہ مافیا نے اس حکومتی پابندی کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔سکول و کالجوں کے پرنسپل اورا ساتذہ بھی اس پابندی کو ناکام بنانے میں مافیا کے ہمنوا ہیں۔ خود پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حکام بھی پابندی کے حوالے سے کارروائیاں کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی نے تعلیمی اداروں کے اندر اور باہر100میٹر کی حدود میں کولڈ ڈرنک کی فروخت پرپابندی عائد کررکھی ہے ۔ فیصل آباد میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حکام اس پابندی کو موثر بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی بدر رمیض اور ان کی ٹیم نے کولڈ ڈرنک کے قانون کی خلاف ورزی پر کسی ایک کیخلاف بھی کارروائی نہیں کی۔ فیصل آباد کے تمام سرکاری و پرائیویٹ سکولوں ‘ کالجوں ‘ یونیورسٹیوں کے 100میٹر کی حدود میں کولڈ ڈرنک سپاٹ قائم ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے احکامات جاری کئے آٹھ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور پورے شہر میں کسی ایک کولڈڈرنک سپاٹ کیخلاف ایکشن نہیں لیا گیا۔ہزاروں سپاٹ ایسے ہیں جو سکول‘ کالج‘ یونیورسٹی کے گیٹ کے بالکل سامنے‘ ان کی دیواروں کیساتھ بنائے گئے ہیں مگر پنجاب فوڈ اتھارٹی ان کے خلاف ایکشن لینے کی جرأت ہی نہیں کر پارہی۔ نیوزلائن کے سروے میں سامنے آیا ہے کہ سکول‘ کالج و یونیورسٹیوں کی کنٹین پر کولڈ ڈرنک بند کروانے کا شارٹ کٹ بھی کولڈ ڈرنک مافیا نے ڈھونڈلیاہے۔ شہر کے سینکڑوں سکولوں میں چوکیدار‘ کلرک‘ عملے کے دیگر افراد حتیٰ کہ اساتذہ بھی چور راستے کے ذریعے کولڈ ڈرنک فروختکرنے میں ملوث ہیں۔ شہر میں وی آئی پی پروٹوکول لینے والے پرائیویٹ سکول ’’ڈی پی ایس مین برانچ‘‘ میں پرنسپل نے اپنے گھر کے قریب عملے کے ایک رکن کو اس کے گھر کے اندر غیرقانونی دکان بنواکی دی ہوئی ہے اور غیرقانونی طور پر کولڈ ڈرنک فروخت کرنے کا ٹھیکہ دے رکھا ہے۔اسلامیہ کالج فار بوائز کی کنٹین پر کھلے عام کولڈ ڈرنک فروخت ہو رہی ہے۔ اسلامیہ کالج برائے خواتین عید گاہ روڈ میں بھی پرنسپل کی سرپرستی میں کولڈ ڈرنک فروخت کی جارہی ہے۔ گورنمنٹ کالج برائے خواتین کارخانہ بازار میں بھی کولڈ ڈرنک کی پابندی نہیں ہو سکی۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج سمن آباد اور اس ملحقہ سائنس کالج میں بھی کولڈ ڈرنک کی پابندی کے قانون پر عمل درآمد کارروائی کا منتظر ہے۔سروے میں بعض سکولوں اور کالجوں کے حوالے سے یہ بھی سامنے آیا کہ وہاں خفیہ انداز میں بلیک میں کولڈ درنک فروخت کی جارہی ہے۔ اس دھندے میں چوکیداروں اور کلرکوں کے علاوہ اساتذہ کے بھی ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں۔کولڈ ڈرنکس کی پابندی کے حوالے سے پنجاب فوڈ اتھارٹی لاہور کے حکام کا کہنا ہے کہ کولڈ ڈرنکس بچوں کی صحت کیلئے زہر قاتل ہیں۔ ہڈیوں کا ٹیڑھا پن اور متعدد دیگر امراض پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ کولڈڈرنک ہیں۔ ان میں پیپسی‘ کوکا کولا‘ مرنڈا‘ ڈیو‘ سیون اپ‘ فانٹا‘ سپرائٹ‘ گورمے کولا‘ نیکسٹ کولا ‘ سٹنگ‘ انرجی ڈرنکس سمیت کسی کی بھی تمیز نہیں ہے۔ سب ہی زہر ہیں اور انہیں استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ سکول‘ کالج‘ یونیورسٹیوں میں ان کی فروخت پر پابندی مفاد عامہ کے تحت لگائی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں کے اندر ہی نہیں ان کے باہر 100میٹر کی حدود میں بھی کولڈ درنکس کی فروخت پر پابندی ہے اور اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ فیصل آباد میں فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے اس حوالے سے سستی کا مظاہرہ کیا ہے تو اس کا نوٹس لیا جائے گا۔

Related posts