شہباز شریف نے ایک سڑک کیلئے سات ہزار درختوں کا قتل عام کروا دیا


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ نے قوم کیساتھ اور قومی خزانے کو لوٹنے کی نت نئی مثالین قائم کی ہیں۔ قومی دولت لوٹانے میں فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ کا بھی شائدہی کوئی ثانی ہو۔ کینال ایکسپریس وے کی تعمیر کیلئے ڈپٹی کمشنر کی زیر نگرانی سات ہزار درخت کاٹ دئیے گئے۔ درختوں کاٹنے کا قومی نقصان تھا ہی ساتھ میں درخت کاٹنے کا معاوضہ قومی خزانے سے 76لاکھ 79ہزار وصول کر لیا گیا۔ کروڑوں روپے مالیت کے قیمتی درخت کاٹ کر ان کی فروخت کی ایک پائی قومی خزانے میں جمع کروانے کی زحمت نہیں کروائی گئی۔ضلعی انتظامیہ کے ذمہ داران قومی دولت لوٹانے اور خزانے کو کروڑوں روپے کا مالی اور قوم کو سات ہزار درختوں کا نقصان پہنچانے کے حوالے سے زبان کھولنے کو تیار نہیں ہے۔ نیوزلائن کے مطابق کینال ایکسپریس وے اور اس کے ساتھ سروس روڈ کی تعمیر کیلئے ضلعی انتظامیہ نے نہر اور سڑک کنارے لگے سات ہزار ایک درخت کاٹ ڈالے۔ یہ کوئی چھوٹے موٹے درخت نہ تھے ان میں کئی کئی فٹ چوڑے درخت بھی تھے جو سالہا سال سے نہر اور سڑکنارے لگے تھے۔ ان کو لگانے پر محکمہ نہر‘ ہائی وے اور محکمہ جنگلات نے لاکھوں روپے خرچ کئے تھے اور درجنوں انسانوں کی محنت ساتھ شامل تھی۔ اتنی بڑی تعداد میں درختوں کا قتل عام روکنے کیلئے کسی نے آواز بلند نہ کی۔ان میں کئی ایک درخت تو دہائیوں کے اتار چڑھاؤ کے امین تھے ۔ محکمہ انہار اور ہائی وے والے ایگزیکیوشن پلان اور دیگر معاملات پر ضلعی انتظامیہ اور پنجاب حکومت کیساتھ جھگڑتے رہے لیکن سات ہزار درختوں کا قتل عام کسی کی توجہ حاصل نہ کرسکا۔ صرف ایک سڑک کاٹنے کی منظوری خود وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنے قلم سے دی۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد بھی اس قتل عام میں شریک جرم رہے۔ افتتاح کے شوق میں وزیر قانون رانا ثناء اللہ درختوں کے قتل عام کے منصوبے کا حصہ بنے ۔تمام محکموں نے بھی وہی کیا جو وزیر با تدبیر کہہ چکے۔ ظلم در ظلم یہ کہ سات ہزار درختوں کے قتل عام پر پیسہ بھی سرکار کا خرچ کردیا گیا۔ سات ہزار درختوں کو کاٹنے کا قومی نقصان کرنے پر قومی خزانے سے 76لاکھ ہزار79ہزارروپے کا بل وصول کر لیا گیا۔اکاؤنٹ آفس نے بھی کوئی اعتراض نہ لگایا اور درختوں کو کاٹنے کا بل پونے ستتر لاکھ روپے بغیر کسی آڈٹ اور اعتراض کے ادا کردیا گیا۔درخت کاٹ کر انتظامیہ نے ایسے ہی پھینک دئیے۔ کروڑوں روپے مالیے کے سات ہزار درخت پڑے پڑے اچانک ہی ’’چھومنتر‘‘ ہوگئے۔ انیں فروخت کرکے خزانے میں پیسے جمع کروائے گئے اور نہ ہی کروڑوں روپے کے درختوں سے منصوبے کی لاگت پر کوئی فرق پڑا بلکہ منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہی ہوا۔

Related posts