میئر سستا بازار سسٹم چلانے میں ناکام ‘ بازار ٹھیکے پر دیدئیے


فیصل آباد(نیوزلائن)میئر فیصل آباد اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی میں مصروف ہیں۔ میونسپل کارپوریشن کے فوج ظفر موج ملازمین سے کام لینے کی بجائے کارپوریشن کے کاموں کو ٹھیکے پر نجی شعبے کے حوالے کرنے کے مشن پر گامزن ہیں۔ شہر میں سستے بازار لگانے میں بھی میونسپل کارپوریشن مکمل طور ناکام رہی ہے اور اب میئر فیصل آباد نے ’’ذاتی‘‘فیصلے کے تحت سستے بازاروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنا شروع کردیا ہے۔ نیوزلائن کے شہر کے سب سے بڑے اور کامیاب سستے بازار ’’سستا بازارسوساں روڈ‘‘ کی نجکاری کی جا چکی ہے۔اس بازار کو انتہائی کم داموں میئر نے اپنے ایک دوست کے حوالے کر دیا ہے جو ماہانہ چند روپے کارپوریشن کے اکاؤنٹ میں بھی ڈال دیتا ہے جبکہ اشیاء صرف سستے داموں فروخت کرنے کی بجائے مہنگے داموں بیچنے کا لائسنس اسے دیدیا گیا ہے۔ ناولٹی پل کا سستا بازار بھی میئر رزاق ملک نے اپنے ایک دوست کے حوالے کرکے اسے بھی سستے بازار کو مہنگائی کا مرکز بنانے کا لائسنس دیدیا گیا ہے۔ملت روڈ کا سستا بازار بھی ایک پرائیویٹ شخصیت کو دیدیا گیا ہے اور اس شخصیت کو قواعدوضوابط سے کھلواڑ کرنے اورسستے بازار میں خلاف قانون سٹالوں کی بجائے پختہ تعمیرات کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے ۔ وارث پورہ کا سستا بازار بھی ایک نجی شخصیت کے حوالے کیا جا رہا ہے جبکہ جناح کالونی سمیت دیگر درجن بھر سستے بازار بھی پرائیویٹ کئے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق میئر فیصل آباد رزاق ملک سستے بازار چلا کر عوام کو سستی اشیاء کی فراہمی میں کارپوریشن عملے کی ناکامی کا کھلے عام اعتراف کرتے ہیں اور کارپوریشن کے فنڈز میں اضافے کیلئے سستے بازاروں کی نجکاری کو مجبوری قرار دیتے ہیں۔

Related posts