میونسپل کارپوریشن بھتہ وصولی میں ملوث‘ بازار سڑکیں تجاوزات کی نذر


فیصل آباد(نیوزلائن)میونسپل کارپوریشن ماہانہ ایک کروڑ روپے کی بھتہ وصولی میں ملوث نکلی۔آٹھ بازاروں اور دیگر تجارتی مراکز میں سڑکیں‘ گلیاں ‘ بازار تجاوزات مافیا کے حوالے کرکے کارپوریشن عملہ کھلے عام بھتہ وصولی کرتا ہے۔ کارپوریشن کیساتھ اس دھندے میں درجن بھر بلدیاتی نمائندے بھی ملوث ہیں۔ بلدیاتنی نمائندے تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرتے اور بھتہ وصولی میں کارپوریشن عملے کے معاون بن جاتے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کے تجارتی مراکز میں بھتہ وصولی کھلے عام کی جارہی ہے۔لینڈ آفیسر اور لینڈ انسپکٹرز کھلے عام تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرتے ہیں اور ان سے روزانہ کی بنیاد پر نذرانہ حاصل کیا جاتا ہے۔ دھندے میں نیچے سے اوپر تک کارپوریشن کا تمام عملہ ملوث ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق ماہانہ ایک کروڑ روپے سے زائد کی بھتہ وصولی کی جا رہی ہے۔ آٹھ بازار‘جھال چوک‘ غلام محمد آبادصدر بازار‘ مدینہ چوک‘ نڑوالہ روڈ‘ رضاآباد‘ سمن آباد‘ڈی گراؤنڈ‘ اکبر چوک‘ مدینہ ٹاؤن‘ ملت روڈ‘ شیخوپورہ روڈ‘ علامہ اقبال کالونی‘ وارث پورہ تجاوزات کے بڑے مرکزہونے کیساتھ بھتہ وصولی کے بھی بڑے پوائنٹس ہیں۔ کارپوریشن کے بیلداروں‘ کلرکوں ‘ چوکیداروں کو لینڈ انسپکٹرز ظاہر کرکے ان کے ذریعے بھتہ وصولی کی جارہی ہے۔ لینڈ آفیسر اور میونسپل آفیسرز سمیت تب افسران بھتہ وصولی کے دھندے میں حصہ دار ہیں۔ ماہانہ ایک کروڑ روپے کی وصولی کے دھندے سے میئر خود بھی آگاہ ہیں جبکہ چیف آفیسر زبیر نت بھی تمام معاملات سے آگاہ ہیں ۔ میئر اور چیف آفیسر کے بھتہ وصولی سے آگاہ ہونے کے باوجود ان کے خلاف ایکشن نہ لینا اور اپنے چہیتوں کو بھتہ وصولی والے اہم پوائنٹس پر تعینات کرنا بہت سے سوالوں کو جنم دیتا ہے۔

Related posts