میاں منشاء کا نشاط چونیاں گروپ ٹیکس فراڈ میں ملوث نکلا


فیصل آباد(احمد یٰسین)ملک کے معروف صنعتکاراور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے انتہائی قریب سمجھے جانیوالے میاں منشاء کا نشاط چونیاں گروپ ٹیکس چوری اور ٹیکس گھپلوں میں ملوث نکلا۔ ایف بی آر کے فیصل آباد آفس نے انکوائری میں نشاط چونیاں گروپ کو ٹیکس چوری میں ملوث قرار دیا اور اس کے خلاف رپورٹ بنا کرمزید کارروائی کیلئے ریجنل ٹیکس آفس لاہور کو بھجوا دی ہے۔نیوزلائن کے مطابق نشاط چونیاں گروپ کے ٹیکس چوری اور ٹیکس گھپلوں میں ملوث ہونے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ نشاط چونیاں گروپ ملک کے معروف صنعتکار اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کے قریبی ساتھی جانے جاتے میاں منشاء کی ملکیت ہے ۔ میاں منشاء کا نام پانامہ لیکس کے تسلسل میں سامنے آنے والے پیرڈائز لیکس میں بھی سامنے آیا تھا اور ان کی آف شور کمپنی بھی سامنے آچکی ہے۔اب ایف بی آر نے بھی انہیں ٹیکس چوری اور ٹیکس گھپلوں میں ملوث قرار دیدیا ہے۔ میاں منشاء کیخلاف تحقیقات سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حکومت کے دوران ہی شروع کی گئیں اور میاں نواز شریف کے دست راست اسحاق ڈار کی وزارت کے ذیلی ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے یہ انکوائری کی۔ ایف بی آر کے فیصل آباد آفس میں سینئر افسران نے اس معاملے پر تفصیلی تحقیقات کیں ۔ تحقیقات میں نشاط چونیاں گروپ کے نمائندے بھی شریک ہوتے رہے اور ادارے کا مؤقف پیش کرتے رہے مگر تحقیقات میں نشاط چونیاں کا مؤقف غلط ثابت ہوا اور اس کا ٹیکس گھپلوں میں ملوث ہونا ثابت ہوا۔ایف بی آر کی دستاویزات کے مطابق اب تک کی تحقیقات میں نشاط چونیاں گروپ نے کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری جان بوجھ کر کی ہے۔ دستاویزات میں سامنے آیا ہے کہ ٹیکس چوری کرنے کیلئے نشاط چونیاں گروپ بوگس اداروں اور فیکٹریوں سے خریداری اور بوگس اداروں کو سپلائی ظاہر کرتا رہا۔سال2010میں بند ہوجانے والی فیکٹریوں سے کئی سال بعد بھی خریداریاں اور فروخت ظاہر کی گئی۔ایف بی آر حکام نے ابتدائی تحقیقات میں گھپلے ثابت ہونے پر مزید تحقیقات کیلئے نشاط چونیاں لمیٹڈ لاہور کو یکے بعد دیگرے چار سمن جاری کئے۔ پہلا سمن نمبر455جاری ہوا جو آٹھ ستمبر 2016کو جاری کیا گیا۔ دوسرا سمن نمبر 615 انتیس ستمبر کو جاری ہوا جس کے بعد نشاط چونیاں کے چیف اکاؤنٹس آفیسرمحمد مہتاب عالم چھے اکتوبر 2016کو انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ اور دستاویزات کا پلندہ پیش کیا۔ مہتاب عالم نے انکوائری میں مؤقف اختیار کیا کہ نشاط چونیاں گروپ کسی ٹیکس چوری‘ ٹیکس فراڈ‘ ٹیکس گھپلوں میں ملوث نہیں ہے۔ایف بی آر حکام نے نشاط چونیاں کی پیش کردہ دستاویزات کا بھی جائزہ لیا اور اس میں سے بھی متعدد دعوے غلط نکلے۔ اورنشاط گروپ کی پیش کردہ دستاویزات اور ایف بی آر کو پہلے سے حاصل دستاویزات کا موازنہ کرنے سے بھی ثابت ہوا کہ نشاط چونیاں لمیٹڈ ٹیکس چوری اور ٹیکس فراڈ میں ملوث ہے۔ ایف بی آر حکام نے مزید تحقیقات کیلئے نشاط چونیاں لمیٹڈ کو تیسرا اور بعد ازاں چوتھاسمن جاری کیا۔سمن نمبر 1033 تین نومبراور سمن نمبر 1263 اٹھارہ نومبر 2016کو جاری کیا گیا ۔مگر نشاط چونیاں لمیٹڈ کی انتظامیہ تحقیقات میں مزید شامل نہ ہوئی۔ایف بی آر کی دستاویزات میں سامنے آیا ہے کہ نشاط چونیاں لمیٹڈ نے ٹیکس چوری کرنے کیلئے بوگس ‘ اور بند ہو جانے والے اداروں سے نو کروڑ‘ 66لاکھ‘ 66ہزار566روپے کی خریداریاں کیں جبکہ بوگس ‘ بلیک لسٹ اداروں کو ایک ارب 66کروڑ‘ 88لاکھ‘ 77ہزار 326روپے کا مال فروخت کرنا ظاہر کیا۔ ایف بی آر حکام کا مؤقف ہے کہ یہ معاملہ یہیں تک محدود نہیں ہے اس کے علاوہ بھی نشاط چونیاں گروپ کے معاملات میں گھپلے ہو سکتے ہیں۔اس حوالے سے ایف بی آر حکام نے اپنی رپورٹ میں واضح لکھاہے کہ نشاط چونیاں لمیٹڈ جان بوجھ کر ٹیکس فراڈ کیا ہے۔اور انکوائری آفیسر نے ریجنل ٹیکس آفس لاہورکے چیف کمشنر کو سفارشات بھجوائی ہیں کہ نشاط چونیاں لمیٹڈ کیخلاف مزید تحقیقات کی جائیں۔ اس کے خلاف سیلز ٹیکس ایکٹ کی شق 38کے تحت کارروائی کرتے ہوئے اس کی فیکٹریوں میں آنیوالے خام مال اور بار جانے والے مال پر چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے اور اپنے بندوں سے اس کا ریکارڈ مرتب کروائیں۔ساتھ ہی یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ ریڈ الرٹ جاری کریں اور جتنا جلدی ممکن ہو سکے نشاط چونیاں کیخلاف ایکشن عمل میں لائیں۔

Related posts