صحافی کے گھر پر کالعدم تنظیم کا دھاوا:پولیس کارروائی سے گریزاں


فیصل آباد(نیوزلائن)فیصل آباد کے سینئر صحافی کے گھر پر ایک کالعدم تنظیم کے مسلح کارکنوں نے دھاوا بول دیا۔ صحافی اور اس کے بھائی کو تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے۔فیصل آبادپولیس بااثر تنظیم کے بااثر غنڈوں کیخلاف کارروائی سے گریزاں ہے ۔صحافی کی ریسکیو کال پر ملزمان کو موقع سے گرفتار کیا مگر ’’اوپر‘‘ سے فون آنے پر مسلح افراد کو بغیر کسی کارروائی کے ’’باعزت‘‘ بری کردیااورمدد کیلئے پہنچنے والے باریش جتھے کے ہمراہ تھانے سے پروٹوکول کیساتھ روانہ کردیا۔ الٹا مدعی کو کئی گھنٹے میں تھانے میں حبس بے جا میں بٹھائے رکھنے کے بعد قانونی کارروائی سے باز رہنے کی ’’وارننگ‘‘ دے کراور سرزنش کرکے واپس بھجوا دیا۔ نیوزلائن کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب گیارہ بجے کے قریب فیصل آباد کے سینئر صحافی احمد یٰسین کے گھر پر ایک کالعدم تنظیم کے کارکنوں نے دھاوا بول دیا۔ کالعدم تنظیم کے ڈیڑھ درجن سے زائد مسلح افراد ملت ٹاؤن تھانہ کے نزدیک واقع صحافی کے گھر آدھمکے گن پوائنٹ پر گھر میں زبردستی گھس گئے اور صحافی اور اس کی فیملی کے چند افراد کو گن پوائنٹ پر دھمکیاں دیتے رہے ۔ ریسکیو15پر کال کی گئی تو تھانہ ملت ٹاؤن پولیس موقع پر پہنچی اور مسلح افرادکو پکڑنے کیساتھ صحافی کو بھی حراست میں لے لیا۔ تھانے پہنچتے ہی ’’اوپر‘‘ سے آنیوالی ایک کال پر پولیس کا کالعدم تنظیم کے کارکنوں کیساتھ رویہ تبدیل ہو گیا اور ملزمان کو خصوصی پروٹوکول دیاجانے لگا۔پولیس نے مدعی کی درخواست اور ملزمان کے کالعدم تنظیم سے منسلک ہونے بابت بتانے کے باوجود ان سے کوئی پوچھ گچھ کرنا ضروری نہ سمجھا۔ مدعی نے پولیس کو ملزمان کے مسلح پسٹل ہونے بابت بھی آگاہ کیا مگر اس پر بھی تفتیشی تھانیدار نے ملزمان کی تلاشی لینا اور ان سے ہتھیار ہی برآمد کرلینا ضروری نہ سمجھا اور کچھ دیر بعد ’’اوپر‘‘ سے آنیوالی ایک سفارشی فون کال پر مسلح افراد کو رہا کرکے انکی’’ امداد‘‘ کیلئے آنیوالے ’’باریش دستے‘‘کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی۔ تھانہ ملت ٹاؤن پولیس نے ملزمان کیخلاف کارروائی تو نہ کی الٹا مدعی کو بااثر ملزمان کی ’’پاور‘‘ سے ڈراتی رہی۔ مدعی کو کئی گھنٹے تک تھانے میں حبس بے جا میں بند رکھا اور کئی گھنٹے کی ذہنی اذیت دینے اور ملزمان کے اثرورسوخ سے ’’خوب‘‘ ڈرانے کے بعد علی الصبح چار بجے کے قریب تھانے سے جانے کی اجازت دی۔اس دوران پولیس نے تھانے کا گیٹ بند کر لیا اورنادر شاہی حکم جاری کرکے مدعی اور اس کے ساتھ آنیوالے افراد کو تھانے سے باہر جانے سے روک دیا۔چار گھنٹے تک مدعی کوتھانے میں محبوس رکھنے کے بعد خصوصی نصیحتیں بابت ملزمان کیساتھ بنا کر رکھنے ‘ صلح صفائی سے رہنے‘ قانونی کارروائی سے گریز کرنے اورمعاملے کو تھانے سے باہر ہی نمٹا لینے ‘ کی نصیحتیں کرنے کے بعد جانے کی اجازت دی گئی۔فرنٹ ڈیسک پر دی گئی مدعی کی درخواست پر کوئی قانونی کارروائی ہو سکی اور نہ ریسکیو 15پر کی گئی کال ہی قانونی کارروائی کے قابل سمجھی گئی۔

Related posts