کینسر کی روک تھام کیلئے ویکسی نیشن کرناہوگی ‘ ڈاکٹر طاہر


فیصل آباد(نیوزلائن)کینسر کا موذی مرض دنیا بھر میں اور پاکستان میں انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ دنیا میں اموات کا باعث بننے کی دوسری سب سے بڑی وجہ کینسر ہے۔ سال 2015میں 88لاکھ افراد کینسر کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے۔ پاکستان میں ہر آٹھ میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہے۔ فیصل آباد میں جگر کا کینسر اور بریسٹ کینسر کا پھیلاؤ بہت تیز ہے۔ کینسر کے بڑھنے کی رفتار بہت خطرناک ہے اس کی روک تھام کیلئے حکومتی سطح پر ترجیحی اقدامات کی ضرورت ہے۔ خواتین میں بریسٹ کینسر کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر ضرورت ہے کہ 9سال سے 26سال کی عمر کی لڑکیوں میں کینسر کے حوالے سے ویکسی نیشن کی جائے۔ مگر یہ حکومت کی شمولیت کی بغیر ممکن نہیں ہے۔ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کو اس صورتحال کو نوٹس لے کر لڑکیوں کی سکریننگ اور ویکسی نیشن کی طرف توجہ دینا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار ورلڈ کینسر ڈے چار فروری کے حوالے سے فیصل آباد کے واحد کینسر میڈیسن سپیشلسٹ ڈاکٹر طاہربشیر نے ورلڈ کینسر ڈے کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر طاہر کا کہنا تھا کہ عوامی سطح پر کینسر کے حوالے سے زیادہ آگاہی نہیں ہے۔چار فروری ورلڈ کینسر ڈے ہے ۔کینسر کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے کیلئے اقدامات کریں گے۔ کینسر کی روک تھام کیساتھ حکومت کو اس حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے کیلئے بھی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ان کا کہناتھا کہ کینسر کا علاج مہنگا ضرور ہے مگر یہ ناقابل علاج نہیں ہے۔ صرف آپریشن ہی اس کا علاج نہیں ہے اب تو کینسر کے علاج کیلئے ادویات بھی تیار ہو چکی ہیں اور ان کے نتائج حوصلہ بخش ہیں۔ کینسر میڈیسن بہت زیادہ استعمال کی جارہی ہے مگر بہتر مینجمنٹ نہ ہونے اور ادویات کے حوالے سے زیادہ علم نہ ہونے کی وجہ سے مریض کو بعض مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ کینسر کی ادویات کے استعمال کے حوالے سے ریسرچ قابل نتیجہ رہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کینسر سپیشلسٹ کی ہدایات کے مطابق ادویات استعمال کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بریسٹ کینسر خواتین میں انتہائی تیزی سے پھیلتا ہوا مسئلہ سامنے آرہا ہے۔ صرف سرجری ہی اس کا واحد علاج نہیں ہے۔ ادویات سے بھی اس پر قابو پایا جا سکتاہے۔ جبکہ کیمو تھراپی بھی اس پر قابو پانے یا سرجری کی نوعیت کم سے کم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔جس سے مریضہ کے متاثر ہونے کا امکان انتہائی کم رہ جاتا ہے۔ خواتین میں بریسٹ کینسرموروثی بھی منتقل ہو رہا ہے ۔سگریٹ نوشی اور ماحولیاتی آلودگی کینسر کی بڑی وجہ ہیں۔ پان‘ گٹکا ‘ چھالیہ کا استعمال بھی کینسر کا باعث بنا رہا ہے ۔ورزش نہ کرنا ‘ موٹاپا‘ غیر صحت بخش غذا بھی کینسر کو موجب ہیں۔صحت بخش لائف سٹائل اپنانے کیساتھ کینسر کی سکریننگ اور ویکسی نیشن بھی کروانی چاہئے۔ خاص طور پر ان خواتین کو ضرور ایسا کرنا چاہئے جن کی فیملی میں بریسٹ کینسر اور دیگر کینسر کے کیس سامنے آچکے ہوں۔بہت زیادہ سستی کاہلی‘ خون آنا‘ جسم کے کسی خاص حصے پر بہت زیادہ تل بن جانا‘ زخم کا ٹھیک نہ ہونا کینسر کی عام علامات ہیں۔ ایسی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر طاہر بشیر نے کہا کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ کینسر کی ویکسی نیشن کروانی چاہئے اس کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ سکریننگ بھی کرواتے رہنا چاہئے۔ لائف سٹائل کو صحت بخش بنانا ضروری ہے۔ کھانے پینے میں احتیاط کیساتھ ورزش کو روزمرہ کامعمول بنانا ضروری ہے۔

Related posts