راجہ ریاض فیملی کی ڈویلپ کردہ گرین ویو کالونی میں گھپلوں کا انکشاف


فیصل آباد(احمد یٰسین)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض احمد کی فیملی ڈویلپ کردہ گرین ویو کالونی میں بھی بڑے پیمانے پر پراپرٹی فراڈ کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ کالونی کی تیاری میں بھی قانون کا خیال نہیں رکھا گیا جبکہ ایف ڈی اے نے بھی اسے منظور کرتے ہوئے قانون اور زمینی حقائق کو مکمل نظر انداز کیا۔ کالونی کی منظوری کے بعد پارک‘ پلے گراؤنڈ‘ مسجد‘ ڈسپنسری‘ واٹر ورکس کیلئے رکھی گئی اراضی کو بھی فروخت کردیا گیا۔ نیوزلائن کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض احمد خاں کی فیملی کی طرف سے راجے والا میں ڈویلپ کی گئی رہائشی سکیم ’’گرین ویو کالونی‘‘ میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے۔ کالونی کے منظور کردہ نقشے اور زمینی حقائق میں بڑے پیمانے پرفرق سامنے آیا ہے۔جبکہ کالونی کی تیاری میں بھی قوانین کو مکمل نظر انداز کئے رکھا گیا۔ قواعد پر پورا نہ اترنے کے باوجود گرین ویو کالونی کو ایف ڈی اے نے بھی منظور کر رکھا ہے ۔ چک نمبر 123ج ب کے میں مجموعی طور پر 32قلہ جات میں بنائی گئی گرین ویو کالونی میں الائیڈ ہسپتال کی طرف پنج پلیاں روڈ سے لنک کرتی دوسڑکیں چھوڑی گئی تھیں اور دونوں سڑکیں گرین ویو کالونی تک بنائی گئیں تھیں مگر اب وہاں ایک ہی سڑک موجود ہے جبکہ دوسری سڑک پر راجہ ریاض فیملی کے ہی لوگوں اور بعض دیگر بااثر افراد نے قبضہ جما رکھا ہے۔کالونی میں کمرشل مقاصد کیلئے سرے سے کوئی اراضی رکھی ہی نہیں گئی جبکہ کل رہائشی پلاٹوں کی تعداد بھی صرف 285تھی ۔کالونی میں اے کیٹگری کے ایک کنال سے بڑے 25رہائشی پلاٹ رکھے گئے تھے۔کیٹگری بی میں ایک کنال کے 45پلاٹ ‘ جبکہ کیٹگری سی میں ایک کنال سے چھوٹے اور دس مرلہ سے بڑے 41پلاٹ رکھے گئے تھے۔ کیٹگری ڈی اور ای میں دس مرلہ سے چھوٹے پلاٹ تھے اور ان کی تعداد 124تھی۔ کیٹگری ایف سے جے تک 49پلاٹ تھے اور یہ سب ہی دس مرلہ سے چھوٹے تھے۔ایف ڈی اے کی دستاویزات کے مطابق گرین ویو کالونی میں 58ہزار مربع فٹ کا ایک پلے گراؤنڈ رکھا گیا تھا جبکہ 15ہزار اور 13ہزار مربع فٹ کے دو پارک رکھے گئے تھے۔ایف ڈی اے ریکارڈ کے مطابق کالونی میں ایک واٹر ورکس بھی تھا جس کا رقبہ 23ہزار مربع فٹ سے زیادہ تھا۔پونے چار ہزار مربع فٹ کا پوسٹ آفس اور اتنی ہی جگہ پر ڈسپنسری بنائی جانی تھی۔ ساڑھے سات ہزار مربع فٹ جگہ مسجد کیلئے مختص تھی۔کالونی میں اب پلے گراؤنڈ ہے اور نہ کوئی پارک نام کی چیز پائی جاتی ہے۔ مسجد‘ ڈسپنسری‘ پوسٹ آفس کی جگہ کو بھی کالونی مالکان نے بیچ کھایا ہے۔واٹر ورکس کی جگہ بھی کالونی مالکان کے قبضے میں ہے ۔کالونی میں مختص کی گئی واٹر ورکس‘ پلے گراؤنڈ‘ پارکس‘ مسجد‘ ڈسپنسری اور پوسٹ آفس کی اراضی’’ سرکار‘‘ کے نام تھی ۔ اور سرکاری افسران اور کالونی مالکان نے باہم ملی بھگت کرکے اسے بھی رہائشی مقاصد کیلئے بیچ کھایا۔ ایف ڈی اے کی دستاویزات کے مطابق گرین ویو کالونی کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنماراجہ ریاض احمد خاں کی فیملی نے ڈویلپ کیا تھا۔

Related posts