جی سی ویمن یونیورسٹی کو ایک ہفتہ بعد کشمیر ڈے یاد آگیا


فیصل آباد (نیوزلائن)جی سی ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر کو کشمیر ڈے گزرنے کے ایک ہفتہ بعد کشمیریوں پر ہونیوالے مظالم اچانک یاد آگئے۔ملک بھر میں کشمیر ڈے پانچ فروری کومنایا گیالیکن جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد میں اس حوالے سے کوئی تقریب منعقد نہ کی گئی۔آٹھ دن بعد اچانک وائس چانسلر کو کشمیریوں اور کشمیر ڈے کا یاد آیا تو کشمیر ڈے تیرہ فروری کو ہی سمجھ کر تقریب کر ڈالی۔ تقریب سے دھواں دار تقریر بھی کی گئی اور کشمیر مسلمانوں پر ہونیوالے مظالم کی مذمت کی گئی۔ یونیورسٹی میں تیرہ فروری کو کشمیر ڈے قرار دے کر تقریب ہوئی جس سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نورین عزیز قریشی نے خطاب کیا۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق وی سی کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے معاملات پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کردیتے ہیں ۔ وائس چانسلر گورنمنٹ کا لج وویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر نورین عزیز قریشی نے ان خیالات کا اظہا ر کشمیر ڈے کے حوالے منعقدہ تقریب میں کیا اور کہا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی بھی معاملہ ہو چاہے وہ قومی ہو یا بین الاقوامی پوری قوم ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہو کر اپنے جذبات اور سوچ کے ذریعے اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور آج کی تقریب اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ اس مشکل گھڑی میں ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں اور کہا کے ماضی میں کیا گیا غلط فیصلہ کشمیر ئیوں کے لئے آزمائش بن گیا اور وہ آج بھی اس سے گزر رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور بربریت کا خاتمہ اور ان کے مسائل کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق وقت کی اہم ضرروت ہے ۔آخر میں انہوں نے پوسٹر اور تقریری مقابلہ جات میں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات میں انعامات تقسیم کئے۔

Related posts