ظلم کیخلاف بولنا بھی جرم ٹھہرا: شاہی فرمان جاری



فیصل آباد(نیوزلائن)میاں شہباز شریف کی پنجاب حکومت نے آئین پاکستان کے تحت عوام کو دئیے گئے بنیادی حق سے بھی محروم کرنے کی ٹھان لی۔پنجاب حکومت نے ’’شاہی ‘‘ فرمان جاری کرکے اپنا حق مانگنے کو بھی جرم قرار دیدیا۔کسی کو ظلم کیخلاف بولنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ اپنا حق چھیننے والوں کیخلاف احتجاج کرنے پر بھی پولیس مقدمات درج کرے گی ۔ احتجاج کرنے پر گرفتاریاں ہوں گی اور احتجاج کے جرم میں حوالات جانے والوں کی دو روز تک ضمانت بھی نہیں ہوگی۔نیوزلائن کے مطابق آئین پاکستان میں ہر شہری کو اپنے حق کیلئے بولنے اور ظلم کیخلاف احتجاج کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ آئین میں ہر شہری کو بولنے ‘ لکھنے‘ احتجاج کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ شہریوں کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں مظاہرہ کر سکیں اور اپنا احتجاج نوٹ کروا سکیں مگر پنجاب حکومت نے شہریوں کے اس بنیادی حق پر ہی قدغن لگانے کی ٹھان لی ہے۔ پنجاب حکومت کے ترجمان کے مطابق’’ محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں جلسے، جلوس، ریلیاں اور عوامی اجتماعات منعقد کرنے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کردی ہے اس سلسلے میں محکمہ داخلہ پنجاب کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق صوبہ بھر میں مظاہرے کرنے اور دھرنا دینے پر بھی پابندی ہوگی‘‘۔پنجاب حکومت کی اس پابندی کے حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ میاں شہباز شریف کی حکومت اس وقت کو بھول گئی ہے کہ جب جنرل مشرف ایسی پابندیاں لگاتا تھا اور مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتیں ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرتی تھیں۔ میاں شہباز شریف کی حکومت اب خود ایسی پابندیاں لگا کر عوام کی آواز دبانا چاہتی ہے مگر ایسا نہیں کر سکے گی۔ آئین پاکستان ہر شہری کو احتجاج کرنے کا حق دیتا ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی شاہی پابندی عوام قبول نہیں کریں گے۔عوام ظلم کیخلاف آواز بلند کرنے پر پابندی کو مان ہی نہیں سکتے۔ ایسا کرکے شہباز شریف حکومت نے فسطائیت کا ثبوت دیا ہے اور بہت جلد مسلم لیگ ن کو اس پابندی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

Related posts