نوٹ کمانے کی سکیم: فیسکو کے 21لاکھ کنکشن غیرقانونی


فیصل آباد(احمد یٰسین) فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے قومی فریضہ دیکھا نہ قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کی طرف توجہ کی۔فیسکو حکام نے صرف نوٹ کمانے پر توجہ مبذول کر رکھی ہے اور قومی دولت دونوں ہاتھوں سے لٹائی جارہی ہے۔ فیسکو کے ریجن بھر میں ساڑھے 37لاکھ کنکشن ہیں جن میں سے 21لاکھ کے لگ بھگ کنکشن غیرقانونی لگائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیوزلائن کے مطابق فیسکو حکام نے اپنے ہی قانون‘ قواعد اور ضابطے کو مسلسل نظر انداز کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ فیسکو کی اپنی رپورٹس میں سامنے آیا ہے کہ فیسکو کے ریجن بھر میں اکیس لاکھ کے قریب کنکشن غیرقانونی ہیں۔ غیر قانونی کنکشنز میں سے سب سے زیادہ فیصل آباد ضلع میں لگے ہیں جو مجموعی غیرقانونی کنکشنز کا 40فیصد سے بھی زائد بتایا جا رہا ہے۔ جھنگ ‘ سرگودھا اور ریجن کے دیگر علاقوں میں بھی غیرقانونی کنکشنز کی بھرمار ہے۔ فیسکو ‘ ایف ڈی اے اور محکمہ مال کی رپورٹس کے تقابلی جائزے میں سامنے آیا ہے کہ فیسکو نے زرعی زمینوں پر کمرشل اور ڈومیسٹک کنکشن لگا رکھے ہیں۔ ایسے کالونیوں اور محلوں میں فیسکو کے کنکشن ہیں جن کو متعلقہ اداروں نے منظور ہی نہیں کیا۔ فیصل آباد کی 206غیرقانونی کالونیوں میں لاکھوں کی تعداد میں فیسکو کے غیرقانونی کمرشل اور ڈومیسٹک کنکشن لگے ہوئے ہیں۔ فیسکو نے ایسے علاقوں میں بجلی کنکشن لگا رکھے ہیں جو نان الیکٹریفائیڈ ایریاز ہیں۔ کئی مقامات پر فیسکو نے دو‘ دو کلومیٹر تک تار ڈال کنکشن تار ڈال کر میٹر لگا کر دئیے۔ فیسکو حکام خود ایسے تمام کنکشن غیرقانونی قرار دیتے ہیں مگر ان کیخلاف کارروائی سے گریزاں ہیں۔ فیسکو ذرائع کے مطابق ایسی صورتحال صرف فیصل آباد میں ہی نہیں ہے۔ سرگودھا‘ میانوالی‘ بھکر‘ جھنگ‘ ٹوبہ ‘ چنیوٹ میں تو حالات تو انتہائی دگرگوں ہیں تاہم تعداد کے لحاظ سے فیصل آباد میں سب سے زیادہ غیرقانونی کنکشن ہیں۔ غیرقانونی کنکشنز کی وجہ سے فیسکو کو لوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ لائن لاسز میں بھی زیادہ ہیں۔ لائن لاسز کو کم ظاہر کرنے کیلئے فیسکو حکام کو جھوٹی رپورٹس تیار کرنا پڑتی ہیں اور صارفین سے اضافی وصولیاں بھی کرنا پڑتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیسکو حکام غیرقانونی کنکشنز لگائے جانے سے آگاہ ہیں مگر ان سے حکام کے کو انڈر ٹیبل اپنی ذات کیلئے اور مجموعی طور پر کمپنی کیلئے نوٹ کمانے کا موقع مل رہا ہے۔ قانون پر عمل درآمد کہاں گیا؟۔ اس سوال پر فیسکو حکام کے پاس بغلیں جھانکنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

Related posts