آر پی او ہاؤس کے سامنے سکیورٹی گارڈ سٹریٹ کرائم کا شکار


فیصل آباد(نیوزلائن)ریجنل پولیس آفیسر فیصل آباد کی سرکاری رہائش گاہ کے عین سامنے ایک نجی کمپنی کا سکیورٹی گارڈ سٹریٹ کرائم گروہ کی واردات کا نشانہ بن گیا۔علاقہ تھانہ پولیس آر پی او ہاؤس کے عین سامنے ہونے والی واردات کا مقدمہ درج کرنے سے گریزاں ہے ۔ نیوزلائن کے مطابق تھانہ سول لائن کے علاقہ میں ریجنل پولیس آفیسر بلال صدیق کمیانہ کی سرکاری رہائش گاہ کے سامنے سٹریٹ کرائم کی وارداتیں کرنے والی گروہ نے سوترمنڈی سے سکیورٹی ڈیوٹی ختم کرکے جانے والے سکیورٹی گارڈ غلام شبیرسے اسلحہ کے زورپر موبائل فون اور نقدی چھین لی۔متاثرہ شہری نے فوری آر پی او ہاؤس کی سکیورٹی کے لئے تعینات پولیس اہلکاروں کو واردات کی اطلاع کی مگر اعلیٰ پولیس آفیسر کے گھر کی سکیورٹی کی ذمہ داریاں نبھانے والوں نے فرار ہوتے ملزمان کا پیچھا کرنے سے انکار کردیااور کہا کہ تمہارا اتنا زیادہ نقصان نہیں ہوا اسی پر شکر کرو۔اور ساتھ ہی نادر شاہی حکم کہ تھانہ سول لائن جا کر درخواست دو تھانہ پولیس ہی آکر ملزمان کا سامنا کرے گی اتنی چھوٹی واردات پر وہ آر پی او ہاؤس کی سکیورٹی نہیں چھوڑ سکتے ۔شہری نے تھانہ سول لائن میں درخواست دی مگر پولیس نے وہاں اپنی روائتی چال بازی سے کام لیا اور شہری کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا اور سکیورٹی گارڈ سے ساری تفصیلات پوچھنے کے بعد کاغذات گمشدگی کی رپٹ درج کرکے اس کے ہاتھ پکڑائی اوراسے چلتاکردیا۔شہر کی اہم ترین سڑک جہاں ریجنل پولیس آفیسر کی رہائش گاہ ہے۔ چند سو فٹ کے فاصلے پر شہر کا واحد فائیوسٹار ہوٹل ہے۔ چند سو فٹ کے دائرے میں کمشنر فیصل آباد‘ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد‘ سٹی پولیس آفیسر‘ ایس ایس پی ‘ سپرنٹنڈنٹ جیل ‘ گورنمنٹ آفیسرز کالونی اور دیگر اہم سرکاری دفاتر موجود ہیں۔ ایسی سڑک پر آر پی او ہاؤس میں موجود پولیس کی موجودگی میں آر پی او ہاؤس کے سامنے ہونے والی واردات سے فیصل آباد پولیس کے سکیورٹی انتظامات اور مہارت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ آر پی او ہاؤس کی سکیورٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کے چاک و چوبند ہونے اور اپنے فرائض سے مخلص ہونے کا بھی یہ’’ ثبوت‘‘ ہے کہ فوری اطلاع ملنے پر بھی انہوں نے سٹریٹ کرائم کی واردات کرکے فرار ہونے والوں کا اس لئے سامنا نہیں کیا کہ شکار ہونے والا ایک’’ معمولی ‘‘شہری ہے کوئی اعلیٰ آفیسر یا وی آئی پی شخصیت نہیں تھا۔

Related posts