جی سی یونیورسٹی کی مغوی طالبہ زیادتی کے بعد قتل


فیصل آباد(نیوزلائن) امیرزادوں نے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی طالبہ کو اغواء کرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ زیادتی کے بعد امیرزادوں نے پکڑے جانے کے خوف سے مغویہ طالبہ کی جان ہی لے لی۔ فیصل آباد پولیس نے طالبہ کے اغواء کی بروقت رپورٹ ہونے کے باوجود اس کی تلاش کیلئے اقدامات نہ کئے ۔ نواحی علاقے سے اتفاقیہ طور پر مقتولہ کی نعش ملنے اور زیادتی کے بعد قتل پوسٹمارٹم میں ثابت ہونے پر پولیس نے ’’مصنوعی چابک دستیوں ‘‘ اور آنیوں جانیوں کا مظاہرہ شروع کردیا۔نیوزلائن کے مطابق چند روز قبل جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی ایم اے انگلش کی طالبہ عابدہ پراسرار حالات میں غائب ہو گئی تھی۔ اس کے والد نے تھانہ گلبرگ میں درخواست دی کہ عابدہ کو چار کار سواروں نے یونیورسٹی کے باہر سے اغواء کیا ہے۔ مگر پولیس نے اس کی درخواست پر کوئی کارروائی نہ کی اور روائتی سستی ‘ لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتی رہی۔ پولیس نے مغویہ کی برآمدگی کیلئے اقدامات کئے نہ اغواء کاروں کا سراغ لگانے کی کوشش کی۔تھانہ گلبرگ پولیس کے ناروا روئیے اور مغویہ کی برآمدگی کیلئے اقدامات نہ کرنے کیخلاف عابدہ کے والد نے سی پی او فیصل آباد اطہر اسماعیل کو بھی درخواست دی مگر وہاں بھی اس کی شنوائی نہ ہوئی اور اس کے باوجود پولیس روائتی انداز میں معاملے کو مجرمانہ غفلت کی نذر کرتی رہی۔ چار روز بعد نواحی علاقے ڈجکوٹ سے ایک نامعلوم لڑکی کی نعش ملی۔ جس کی شناخت مغویہ عابدہ کے طور پر کر لی گئی۔ نعش کا پوسٹمارٹم کروایا گیا تو اس کے ساتھ زیادتی اور قتل کی بھی تصدیق ہو گئی۔عابدہ کا اغواء ‘ زیادتی اور قتل کی تصدیق ہونے پر فیصل آباد پولیس کے ذمہ داران کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور مغویہ کی برآمدگی کیلئے بروقت اقدامات نہ کرنے کا معاملہ سر اٹھانے لگا۔اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جائے گی۔پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ غفلت کا مظاہرہ کرنیوالے اہلکاروں کیخلاف بھی انکوائری کی جا رہی ہے۔ تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ مقتولہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہو اور ملزمان نے پکڑے جانے کے خوف سے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ہو۔ سی پی او فیصل آباد اطہر اسماعیل نے اپنے سر سے بلا ٹالنے کیلئے غفلت کا ذمہ دار ایس ایچ او گلبرگ کو قرار دیتے ہوئے اسے معطل کردیا ہے ۔

Related posts